Khanon Se Raghbat

کھانوں سے رغبت؟

Khanon Se Raghbat Recipe In Urdu

ایک وہ وقت تھا جب میں چاہتی تھی کہ کم سے کم وقت باورچی خانے میں گزاروں اور زیادہ وقت گارڈن میں رکھی ٹیبل کے گرد کرسی پر بیٹھ کر گزاروں جس پر انواع واقسام کے کھانے رکھے ہوں جن میں کریمی بکری کا گوشت ، چیز ، نرم گرمی کے ہرپز ، تازہ واٹر کریس، نیو سیزن بیٹ روٹ اور پیری ریڈ شیز شامل ہوں۔

گوئس پنیر اور نئی آلو کی ٹارٹ چار لوگوں کے لئے تیاری کا وقت چالیس تا پچاس منٹ اجزاء: تین سو پچھتر گرام پیک تیار رولڈ پف پیری (با صانی پانچ اسٹار ہوٹل کی بیکری اور اسٹورز پر دستیاب ہوں گی ، تین سو گرام چھوٹے آلو ، دو سو گرام نرم گوٹس پنیر، بڑا پارسلے ، بڑا ٹیر یگون ( فوڈاسٹور پر دستیاب ہو گا ورنہ متبادل کے طور پر اور یگنیو یا تھا ٹیم بھی لیا جا سکتا ہے)۔
ایک گٹھی پائیوس فوڈ(فوڈاسٹور پر دستیاب ہوگی متبادل کے طور پر ہری پیاز لے سکتے ہیں)، ایک کھانے کے چمچہ زیتون کا تیل۔ ترکیب: اوون کو دو سوڈگری سینٹی گریڈ گرم کر یں۔ پیڑی کو کھول کر نان اسٹک بیکنگ شیٹ پر رکھیں۔ تیز چھری کی نوک کی مدد سے دو سینٹی میٹر تک اس کے کنارے نکال دیں۔
آلو کے باریک ٹکڑے کاٹ لیں اور اسے ابا لیں یا بھاپ دیں لیں آٹھ سے چھ منٹ یا اس وقت تک جب تک یہ گل نہ جائیں پانی پھینک دیں اور ٹھنڈا ہونے دیں۔ گوٹس پنیر کو باریک باریک کر کے پیڑی پر ڈالیں۔ پارسلے اور ٹریگون کو باریک کاٹ لیں۔
چیوس کے بھی ٹکڑے کر لیں اور پھر ہرب (جڑی بوٹیاں) کو پنیر پر ڈالیں پھر آلو، کالی مرچ پسی ہوئی اور اگر چاہیں تو نمک بھی چھڑک دیں۔ اب اس موقع پر ٹارٹ کو دو گھنٹے تک پکانے کی ضرورت ہے۔ تیل چھڑ کیں اور پیڑی خستہ ہو جائے اور آلو ہلکے براؤن ہو جائیں ، نیم گرم یا کم درجہ حرارت کے مطابق پیش کر یں۔
سرونگ: اس ڈش سے 529کیلوریز حاصل ہوں گی۔ پروٹین 13گرام کاربو ہائیڈریٹ 48گرام، چکنائی 33گرام، خالص پرجی 14گرام، فائبر ایک گرام، نمک 1.13گرام۔ اسے مختلف انداز سے بنائیں۔ اگر آپ کو گوٹ پیڑ پسند نہیں تو اس کی جگہ مسکار پون پنیر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کھانے سے متعلق سوچوں پر فتح پائیں میں ایک اہم میٹنگ میں مصروف تھی اچانک سے مجھ پر چاکلیٹ کھانے کی سوچ حاوی ہونے لگی میں اس کے علاوہ کچھ نہیں سوچ پار ہی تھی کیا یہ آپ کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ کھانے کی سوچ کہیں نہ کہیں سے آپ پر اس وقت حاوی ہو جاتی ہیں جب آپ کو ان کی امید نہیں ہوتی ہے اور جس طرح آپ ان کی طرف متوجہ ہوتی ہیں یہ آپ کے وزن کے حوالے سے تنقید کا باعث ہے۔
کبھی کبھار ایسا ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے مگر اگر یہ آپ کی عادت بن جائے تو آپ کی ذراسی لغزش نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ امریکن ریسرچ اسٹڈ ی سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ کسی خاص کھانے کی بھوک نہیں ہوتی مگر یہ وہ احساس ہوتا ہے جو کھانے کی طرف متوجہ کر دیتا ہے اور تمام سوچوں کو اس جانب موڑ دیتا ہے۔
اور متعلقہ کھانا کھانے کے بعد نفسیاتی طور پر آپ پر سکون ہو جاتے ہیں اور آپ کو تسکین حاصل ہو جاتی ہے اور کچھ مخصوص حالات کی وجہ سے یہ عادت پیدا ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کی یہ کھانے کی طرف رغبت مستقل رہتی ہے۔ جبکہ بعض لوگوں کو یہ مخصوص حالت میں در پیش ہوتی ہیں یہ چاکلیٹ یا چپس کے منہ میں جاتی ہی ختم ہو جاتی ہے اگر آپ کے جذباتی مسائل کو حل نہ کیا جائے تو آپ کے کھانے کی طرف رغبت کا مسئلہ مستقل ہوجا تا ہے۔
کتاب کنسلٹینٹ کر یونگ اے ٹوزیڈ کے لکھنے والے ڈاکٹر ڈورپن ورچونے کہا” اگر آپ کے جذباتی مسائل تبدیل ہوتے ہیں تو آپ کھانے کی طرف راغب ہونے لگتے ہیں۔ مستقل اور تبدیل ہوتی رغبت کے درمیان جو چیز ساتھ ساتھ چلتی ہے وہ یہ ہے کہ کچھ جذباتی مسائل ہوتے ہیں جو آپ کی توجہ کے محتاج ہوتے ہیں۔
“ہوسکتا ہے اس کا تعلق نہ پوری ہونے والے مستی مزاح ، محبت اور تجسس سے جذبات سے ہو۔اس کے دوسرے عوامل میں ڈر، ڈپریشن، فسٹر یشن اور عدم تحفظ بھی ہو سکتا ہے۔ ٹینشن: دباؤ کا شکار ہونے کے باعث آپ کے دماغ میں کچھ کیمیکل کے لیول بڑھتے ہیں جس کی وجہ سے آپ زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں۔
امریکہ کی رو کی فیلر یونیورسٹی کی ڈاکٹر لیا بووش نے تحقیق کے بعد یہ حاصل لیا ہے کہ ہارمون کور سٹیول اسٹمولیٹ دماغ کے ایک کیمیکل neuropepticleyکی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو آپ کی کاربوہائیڈریٹ کو کم یا زیادہ کرتی ہے۔ مگر جب آپ پریشان ہوتے ہیں تو کورسٹیول زیادہ پیدا ہوتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ جب آپ دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو آپ کا جسم نئی چربی پیدا کرتا ہے دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ٹینشن نہ صرف ٹریگریس کار بوہائیڈریٹ پیدا کرتی ہے بلکہ یہ اضافہ وزن کو کم کرنے میں بھی مشکلات پیدا کرتی ہے۔
عورت اورمردوں کی مختلف تفسیاتی تسکین آپ اپنے شریک سفر کے ساتھ کاؤچ پر بیٹھ کر اپنی پسندیدہ فلم دیکھ رہے ہیں اور اچانک آپ کے شوہر کو بڑے چکن برگر اور فرنچ فرائز کی بھوک محسوس ہوتی ہے۔ بہت دیر ہو چکی ہے مگر وہ تیار ہوتے ہیں اور اسے لینے کے لئے گھر سے نکل جاتے ہیں۔
اور آپ حیرت زدہ بیٹھ کر ان کی برگر کے لئے کی جانے والی تمام کوششوں کو دیکھ رہی ہیں آپ کو آئسکریم یا چاکلیٹ کھانے کا مطلب تو سمجھ آتا ہے مگر برگر؟ اینیٹوس یونیورسٹی کی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ آدمی اپنی تسکین مکمل کھانے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں خاص طور پر ایسا کھانا جو ماں سے منسلک ہو جبکہ دوسری طرف عورتیں میٹھے کھانے کی طرف راغب ہوتی ہیں جو کہ بنابنا یا ہوا ور کھانے کے لئے تیار ہو کیا آپ جانتے ہیں92فیصد کھانے کی طرف رغبت محسوس کرنے والوں میں سے عورتیں سب سے زیادہ چاکلیٹ کی عادی ہوتی ہیں۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتیں اپنی نفسیاتی تسکین کم محنت طلب کھانے جیسے چاکلیٹ، آئسکریم اور کینڈی وغیرہ سے حاصل کرتی ہیں۔ اس پر قابو پانے کے چند اصول : ان اصولوں پر عمل کر کے بے وقت کھانے کی عادت پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
دن میں پانچ مرتبہ کھائیں دو مرتبہ مکمل کھانا جبکہ تین مرتبہ ہلکے پھلکے کھانے یا اسنیک لیں اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے ہر کھانے میں پروٹین متوازن انداز میں ہو اس طرح آپ کو کم بھوک لگے گی اور خود بخود آپ کا دھیان کھانے کی طرف سے بہت کم ہو جائے گا۔
اگر بلاوجہ کھانے کی عادت کا جلد ہی پتہ چل جائے تو اسے بہتر طور پر قابو کیا جا سکتا ہے تو جیسے ہی آپ کے ذہن میں اس سے متعلق پہلی سوچ آئے اسے نظر انداز کر یں بانسبت اس کے کہ اس پر عمل آمد کر یں۔اس بات کو سمجھیں آپ کیا کر سکتی ہیں۔
اپنے توجہ کو بھٹکانے کی کوشش کر یں اپنی دوست کو بلائیں اور اس کے ساتھ چہل قدمی پر نکل جائیں کوئی ایکٹیوکھیل کھیلیں۔ کھانے کی یہ رغبت تقریباََ بیس منٹ میں ختم ہو جاتی ہے۔ توجہ بھٹکانے کے لئے پانی کے دو گلاس پےئیں اس طرح یہ کھانے کی طرف رغبت کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
اگر یہ تمام چیزیں کار آمد ثابت نہ ہوں تو تیز قسم کی ٹھنڈک والی چیز کھائیں یا اپنے دانتوں کو برش کر یں تاکہ ذائقے کے اجزا ء (شیٹ بڈز) ختم ہو جائیں اور آپ کھانے کی طرف رحجان کو قابو کر لیں۔ شکا گو کی ٹیسٹ اور اسمبل ٹریٹمنٹ ریسرچ فاؤنڈ یشن نے پتہ چلایا ہے کہ جو لوگ ڈائیٹ کر رہے ہوتے ہیں انہیں پیپر منٹ، ہرے سیب اور کیلے کی خوشبو سونگھنے سے بھوک لگنے کی حالت میں اضافہ ہوا اور اس طرح انہوں نے ہر مہینے پانچ پونڈ وزن کم کیا۔
ونیلا ایسز کی خوشبو میٹھی چیزوں کی طرف رغبت سے باز رکھتی ہے۔ چاکلیٹ منٹ آئسکریم ایک وقت میں ایک اسکوپ کھائیں مگر تو ازن کے ساتھ۔ اسے فینسی ویفر کورن میں ڈالیں اور مزا لیں یہ آپ کو کھانے کے لئے پاگل ہونے سے روکتا ہے ۔ اکثر کیسز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند لقموں کے بعد ہی آپ کی نفسیاتی تسکین ہو جاتی ہے۔
اسے خصوصی بنائیں اگر آپ خصوصی موقعوں پر چاکلیٹ کا ایک ٹکڑا کھاتے ہیں تو سب سے اچھی چاکلیٹ خریدیں اور مکمل بار کار مزا اٹھائیں۔ کیفین میٹھے کی طرف رغبت کی عادت کو بڑھا دیتی ہے۔ آخری میں اپنے آپ کو سکون دینے کے لئے کھانے کے بجائے ببل ہاتھ میں یا نئے شاپنگ سینٹر میں جائیں اس طرح آپ اپنی اس عادت پر قابو پا کر اسمارٹ اور خوبصورت نظر آسکتی ہیں۔
کھانے جو نفسیاتی تسکین یا رغبت میں اضافہ کرتے ہیں: آئیے ان ٹاپ فور کھانوں پر نظر ڈالتے ہیں جو کھانے کی طرف رغبت میں اضافہ کرتے ہیں۔ چاکلیٹ:ایک چاکلیٹ ایک نشہ ہے80فیصد لوگوں نے کہا۔۔ ہاں!!!سائنسدانوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چاکلیٹ میں ایک عنصر ہوتا ہے جسے Phenylethlanineکہتے ہیں اور یہ چاکلیٹ کی رغبت میں اضافہ کرتی ہے۔
میٹھا: اگر آپ ہر کھانے کے بعد میٹھا کھانے کے عادی ہیں بہت سی اسٹڈ یز سے ثابت ہوا ہے کہ طربی اور چینی دماغ میں انڈوفینس پیدا کرتی ہیں۔ نیوورٹانمیٹر کی وجہ آپ کو اچھا محسوس ہوتا ہے اور آپ خوش رہتے ہیں۔ نمکین کھانا:اس قسم کا کھانا مردوں سے منسلک ہوتا ہے ۔
بدقسمتی سے نمکین کھانے کی عادت ان لوگوں کے لئے نقصان دہ ہے جنہیں بلڈپریشر رہتا ہے کیونکہ اس سے سوڈیم پیدا ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ چربی سے بھی بھر پور ہوتا ہے جیسے چپس، فرنچ فرائز اور پیزا وغیرہ۔ کاربوہائیڈریٹس : کاربوہائیڈریٹ والی چیزوں کی جانب رغبت کا تعلق عام طور پر دباؤ سے ہوتا ہے یہ نیوروٹرانسمیکٹر پروٹین کے لیول بڑھاتا ہے۔

More From Features - مزید خصوصیات