Kitchen Khatoon Khana Ki Dilchaspi Ka Mehwar

کچن۔۔۔ خاتون خانہ کی دلچسپی کا محور

Kitchen Khatoon Khana Ki Dilchaspi Ka Mehwar Recipe In Urdu

شبانہ راشد: ایک زمانہ تھا کہ خواتین اور کچن کا چولی دامن کا ساتھ سمجھا جاتا تھا۔ عورت بغیر کچن کے ادھوری تصور کی جاتی تھی۔ پھر جب عورت ماڈرن ہونا شروع ہوئی تو اس نے اپنے آپ کوکچن سے دور کر لیا۔ اس نے کچن کے معاملات کو پس پشت ڈال دیا تھا۔

لیکن آج کی عورت پھر کچن کی طرف واپس آ رہی ہے۔وہ کچن کو وقت دینے لگی ہے۔ عورت اپنے دن کاآغاز اور اس کاانجام کچن ہی سے کرتی ہے۔ چاہے وہ گھریلو عورت ہو یا دفتر میں کام کرنیوالی۔ اس کی صبح کا آغازکچن سے ہوتا ہے اور رات گئے تک وہ کچن ہی میں مصروف رہتی ہے۔
گھر کی زندگی کا محور اور مرکز کچن ہی ہوا کرتا ہے۔ اور شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر جاندار کی زندگی کھانے کے گرد طواف کیا کرتی ہے۔ کوئی بھی عورت کچن ہی کے ذریعے اپنی مہارت اور ہنر کا مظاہرہ کیا کرتی ہے۔ وہ انتہائی ذوق اور شوق کے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھوک کو مطمئن کرنے کے لئے کچن میں کام کرتی ہے اس کا دل اسی میں لگا رہتا ہے اور وہ یہ کام مردسے کہیں زیادہ خوش اسلوبی کیساتھ انجام دیا کرتی ہے۔
وہ خواتین جو گھر سے باہر کام کرتی ہیں اور کچن کو نظر انداز کرتی ہیں اس کی طرف جانا گوارا نہیں رتیں۔ یا جنہیں کھانے وغیرہ بنانے کاکوئی شوق نہیں ہوتا۔ وہ عام طور پر احساس کمتری میں مبتلاہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو چاہے لاکھ سمجھانے کی کوشش کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ دفتر کی کرسی پربیٹھ کر صرف فائلوں کو ادھر ادھر کرتے رہنے سے انہیں ذہنی اور دلی سکون حاصل نہیں ہو پاتا۔
اس لئے آج کی عورت نے اس نکتے کو سمجھ لیا ہے۔ وہ عورت جو عورتوں کی آزادی کا نعرہ لگا کر مارچ کرتی ہوئی کچن سے دور ہو گئی تھی آہستہ آہستہ پھر کچن کی طرف واپس آ رہی ہے۔ اب ایسی عورتیں اپنے دفتر کی میزوں کی سجاوٹ پر غور کرنے کی بجائے اپنے کچن کی تزئین اور آرائش کاخیال رکھنے لگی ہیں اور کچن کو آرام دہ باسہولت اور خوبصورت بنانے کے طریقے سوچنے لگی ہیں۔
اب ان کی توجہ مکمل طورپر اپنے کچن کی طرف ہو گئی ہے، وہ چاہتی ہیں کہ ان کا کچن ممتازاور دلکش دکھائی دے۔ آج گھر یافلیٹ ایسے بننے لگے ہیں کہ کوئی ضرور نہیں ہے کہ کچن ڈائننگ روم کے ساتھ ہی ہو۔یہ لیونگ روم اور ڈرائنگ روم کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اس ئے اس کی ترتیب اور خوبصورتی بہت ضروری ہے تاکہ ایک بھرپور کچن کا بھرپور تاثر مل سکے۔
مغرب میں عورت کے لئے کچن کاتصور ذرا مختلف ہے۔ وہاں گھروں میں کرنے والیوں۔ کا تصور نہیں ہے۔ اسی لئے گھر کی مالکہ کو بھی نہ صرف خود سے کھانا بناناپڑتا ہے بلکہ کچن اور برتنوں کی صفائی بھی وہی کیا کرتی ہے۔ اسی لئے وہ اپنے کچن کو اتنے منظم اور خوبصورت انداز سے رکھتی ہے کہ صفائی وغیرہ میں زیادہ پریشانی نہ ہو اور ہر کام خوش اسلوبی اور جلدی سے اپنے انجام کوپہنچ جائے اور کچن میں زیادہ وقت بھی صرف نہ ہو۔
وہ مختلف گیجٹ، الیکٹرونک اشیا اور سجاوٹ کی چیزوں کے ذریعے اپنے کچن کو خوبصورت، صاف ستھرا اور دیکھنے کے قابل جگہ بنا دیتی ہے۔ مغرب میں آج کل ایسے کچن کا رواج ہے جس میں کوئی دروازہ نہ ہو اور اگر ایک دروازہ ہے بھی تو اسے بند نہیں کیا جاتا۔
بلکہ اس میں پردہ لٹکا دیا جاتا ہے۔ خوبصورت اور دیدہ زیب پردہ۔ یہ بات طے ہے کہ جس طرح بھوک کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ انسان کھانا پینا چھوڑ دے۔ وہ کھاتا پیتا رہے گا۔ اسی طرح کچن کی آرائش اور اس کو با سہولت بنانے کا کام بھی جاری رہے گا۔
یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔لہٰذا کچن کو اس لحاظ سے خوبصورت ہونا چاہئے۔ یعنی ہر آنے والے لمحے کے ساتھ ہم پرانے لمحات کوفراموش کرتے چلے آتے ہیں۔ صرف یادیں رہ جاتی ہیں اور خاص طر پر وہ یادیں جو کچن اور کھانے پینے سے متعلق ہوں۔
آپ کو برسوں یہ یاد رہتا ہے کہ فلاں گھر میں و دعوت ہوئی تھی اس میں فلاح چیز اتنی اچھی پکی تھی۔ کیا لا جواب بریانی تھی؟ کیا زبردست کسٹرڈ تھا۔ اس قسم کی باتیں آپ اکثر کیا کرتی ہیں۔ آپ کو یاد بھی رہتی ہیں اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب آپ کو کچن اور اس کے معاملات سے پوری دلچسپی ہو۔
کس یزمانے میں کچن چھوٹے اور گھٹ ہوئے ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب بہت کشادہ اور ہوادار بنائے جاتے ہیں۔ ہر چیز اپنی اپنی جگہ سلیقے کے ساتھ موجود رہتی ہے۔ روشنی اور ہوا کے لئے دروازے اور کھڑکیاں وغیرہ ہوا کرتے ہیں۔ دھویں اور کثافت کو کچن سے باہر پھینکنے کے لئے ایکزاسٹ فین لگائے جاتے ہیں۔
بہتریہی ہوتا ہے کہ کھانے کا کمرہ اور کچن ساتھ ساتھ ہوں۔ اس طرح پکی ہوئی چیزیں کھانے کی میز تک پہنچانے میں بہت آسانی ہوا کرتی ہے۔ مالکہ فوری طورپر کھانے سرو بھی کر سکتی ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ کس فرد کو کس چیز کی زیادہ ضرورت ہے۔
کچھ لوگ اپنا کچن اپنے بیڈ روم کے قریب پسند کرتے ہیں۔ تاکہ آرام کے اوقات میں بھی کچن سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ حقیقت تویہ ہے کہ پورے گھر پر اگر کار فرمائی اور حکمرانی نظر آتی ہے تو وہ کچن ہی کی ہوتی ہے۔ کسی بھی عورت کا زیادہ تر وقت کچن ہی میں گزرتا ہے۔
اس لئے آج کے جدید گھروں میں کچن درمیان میں بنائے جاتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے پورے گھر کو کنٹرول کیا جا سکے۔ آپ بہت سے گھروں میں جا کر دیکھیں۔ آپ کو کچن کی حالت سے صاحب خانہ کے ذوق اور اس کی عادتوں کاپتہ چل سکتا ہے۔بہت سے گھروں میں آپ کو کچن ڈرائنگ روم سے بھی زیادہ صاف ستھرے اور خوبصورت دکھائی دیں گے۔
آج کی جدید عورت نے کچن کی اہمیت کوتسلیم کر لیا ہے۔ وہ اس لئے کچن میں زیادہ وقت صرف کرنے لگی ہے۔ کوکنگ کلاسز کا فیشن چل نکلا ہے۔ آخر کیوں؟ صرف اس لئے کہ خود کو اور گھر والوں کو مزیدار کھانے مہیا کرائے جا سکیں۔ پڑھی لکھی خواتین فیشن کے طور پر پر کوکنگ کلاسزجوائن کرنے لگی ہیں۔
اس کا تصور اب سے کچھ عرصہ پہلے ناپید تھا۔ لیکن جب سے عورت نے کچن کی مراجعت کی ہے۔ اس قسم کے مواقع سامنے آنے لگے ہیں۔ جگہ جگہ کوکنگ کے مقابلے ہونے لگے ہیں۔ میڈیا پر کوکنگ کے پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔ وہی کوکنگ جن کا تعلق کچن سے ہے اور وہی کچن جو آپ کے اعلیٰ ذوق کا آئینہ دار ہے۔
اگر آپ کا کچن خوبصورت اورسلیقے سے سجا ہوا ہے تو آپ اسے اپنے مہمانوں کو دکھاتے ہوئے یقینا فخر محسوس کریں گی اور یہی آپ کی کامیابی ہے۔ کیونکہ آپ ایک عورت ہیں اور آپ کی دلچسپی کا محور کچن ہی ہونا چاہئے۔

More From Features - مزید خصوصیات