X
UrduPoint

برطانیہ نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کردیا

لندن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 فروری۔2018ء) برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے برما کی ریاست رخائین میں مسلمانوں کے قتل عام کی آزادانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کردیا ہے۔برطانوی وزیر خارجہ نے میانمار کا دورہ کیا جہاں انہوں نے آنگ سان سوچی پر رخائین ریاست میں ہونے والے فسادات کی تحقیقات کروانے کے لیے زور دیا۔۔برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن چار روزہ ایشیا کے دورے پر ہیں جہاں وہ میانمار کے دارالحکومت نےپیڈو پہنچے جہاں انہوں نے آنگ سان سوچی سے ملاقات کی جن کی شہرت بین الاقوامی برادری میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بعد پہلے ہی تنزلی کا شکار ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق آنگ سان سوچی سے ملاقات کے بعد برطانوی وزیر خارجہ نے بنگلہ دیش کے ضلع کوس بازار کا دورہ کیا جہاں میانمار آرمی کے کریک ڈاون کے بعد لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں نے کیمپوں میں پناہ حاصل کی تھی اور اس وقت بھی 70 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان یہاں قیام پذیر ہیں۔اپنے ایک بیان میں برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے میانمار کے حکام پر رخائین ریاست میں مسلمانوں کے قتل عام اور علاقے میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کی جامع اور شفاف تحقیقات کی اہمیت کو واضح کردیا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رخائن ریاست میں ہنگامی بنیادوں پر ایسے قدامات کیے جائیں جس کے تحت روہنگیا مسلمانوں کی اپنے علاقوں میں واپسی ممکن ہو سکے اور وہ بلا کسی خوف و خطر علاقے میں اپنی زندگی گزار سکیں۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں