X
UrduPoint

اسلام آباد میں نجی تعلیمی اداروں کے نظام کو باقاعدہ بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں،

اب تک تین ارب روپے سکولوں کی اپ گریڈیشن پر لگائے جا چکے ہیں، سکولوں کے لئے 200 نئی بسیں خریدی گئی ہیں، ڈیلی ویجز اساتذہ کو ریگولر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وزیر مملکت کیڈڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا ایوان بالا میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 فروری2018ء) وزیر مملکت برائے کیپیٹل ایڈمنسٹریشن و ڈویلپمنٹ ڈویژن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں نجی تعلیمی اداروں کے نظام کو باقاعدہ بنانے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اس حوالے سے پیشرفت ہوگی۔ بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے نجی سکولوں کے اندرونی امتحانات میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء کا بورڈ کے امتحانات میں داخلہ نہ بھیجنے کا معاملہ پیرا کے نوٹس میں آیا ہے اور اس پر ایک جامع پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے جس کے لئے تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور تعلیمی اداروں سے اس پر عمل درآمد کی درخواست کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے قواعد پر بھی نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ پیرا رولز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے جیسے ہی فیصلہ آئے گا اس کی روشنی میں عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں میں بہت سے مسائل ہیں۔ سرکاری سکولوں میں پانچویں جماعت کی فیس 500 روپے ہے جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں یہ 30 سے 35 ہزار لی جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے حکومت نے مختلف اقدامات کئے ہیں اور تین ارب روپے سکولوں کی اپ گریڈیشن پر لگائے جا چکے ہیں۔ 200 نئی بسیں خریدی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلی ویجز اساتذہ کو ریگولر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری پوری قیادت یکسو ہے اور اس حوالے سے ہم اقدامات کریں گے۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں