X

پارلیمنٹ کی بالادستی سے ہی قانون کی اچھی حکمرانی قائم کی جا سکتی ہے، گورنرسندھ

ملک کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف جمہوریت کے استحکام اور تسلسل میں ہی مضمر ہے، آئین و قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں، سیمینار سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 اپریل2018ء) گورنرسندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئین و قانون سے با لادست کوئی نہیں ،پارلیمنٹ کی بالادستی سے ہی قانون کی اچھی حکمرانی قائم کی جا سکتی ہے، جمہوریت کے قیام ، استحکام اور تسلسل میں قانون کی حکمرانی مقدم ہے ، ملک کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف جمہوریت کے استحکام اور تسلسل میں ہی مضمر ہے ،بھرپور اور توانا جموریت عوامی امنگوں ، فلاح وبہبود کے اقدامات اور فلاحی معاشرہ کی تشکیل میں انتہائی نا گزیر ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ یوتھ ونگ سندھ کی جانب سے منعقدہ سیمینار جس کا عنوان ’’قانون کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی ‘‘تھا ، سے خطاب میں کیا۔

گورنر سندھ نے مزید کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں ،تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہی انتھک محنت ، لگن ، جدوجہد اور قربانیوں کے باعث پاکستان میں آج جمہوریت تسلسل سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد جمہوری روایات ، اصولوں اور ضابطہ اخلاق کے تحت رکھی گئی تھی بدقسمتی سے جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے انحراف کے باعث ریاست اور عوام کونا قابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا لیکن آج پاکستان میں جمہوری روایات ، ضابطہ اخلاق اور اس کے مروجہ ضوابط پر اس کے اصل روح کے مطابق بھرپور عمل درآمدکے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ، ملک میں پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی تمام سیاسی جاعتوں کے منشور میں سرفہرست ہے جو اس بات کا واضح عکاس ہے کہ سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت کے استحکام اور تسلسل انتہائی نا گزیر سمجھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کا سپریم ادارہ ہے جہاں عوام کے منتخب نمائندے قانون سازی میں بھرپور حصہ لیتے ہیں ، قانون سازی میں عوام کے مسائل کے حل ، مستقبل کی ضروریات ،احتساب ، انسداد کرپشن ، عوامی فنڈ ز کی حفاظت اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں شفافیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ حکمرانی کے کردار سے متعلق بھرپور اقدامات اٹھائے جا تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ریاست میں فلاح وبہبود کے کاموں کو فوقیت ،عوام کی رائے مقدم ، طے کردہ اصول و قواعد اور آئین و قانون کے مطابق عملی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ، قومی نوعیت کے منصوبوں ، اقدامات اور فیصلہ میں پارلیمنٹ کا کلیدی کردار ہوتا ہے کیونکہ حالات و واقعات کے مطابق قانون سازی سے ہی بہتر نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا اس وقت ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ، بجلی کے سنگین بحران اور قومی معیشت تنزلی کا شکار تھی لیکن حکومت نے پارلیمنٹ میں امن و امان کے قیام کے لئے قانون سازی کی او ر اس پر بھرپور عملدرآمد کو یقینی بنایا اسی طرح بجلی کے میگا پروجیکٹس کی تعمیر میں شفافیت کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے آئین و قانون کے مطابق اقدامات اٹھائے ،حکومت معاشی پالیسی کی ترتیب میں بھی پارلیمنٹ میں کلیدی کردار ادا کیا آج اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں ، پورے ملک میں امن و امان قائم ، طلب کے مطابق بجلی دستیاب جبکہ قومی معیشت مستحکم ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے اپنی روایات ، مذہبی رسومات کی آزادانہ ادائیگی اور ثقافت کو محفوظ بنانے کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر اپنے لئے علیحدہ وطن حاصل کیا جس کے پہلے سربراہ بیرسٹر قائد اعظم محمد علی جناح تھے جو ایک اچھے ، سنجیدہ اور تجربہ کار قانون دان تھے جن کی پوری زندگی اصولوں سے عبارت تھی ، ریاست کا پہلا حکمران قانون دان تھا اس لئے ریاست میں قانون کی حکمرانی کا تصور اس کے قیام کے وقت ہی مل گیا تھا۔ سیمینار سے راجہ انصاری ، یاسین آزاد ایڈوکیٹ ، شاہ محمد شاہ ، اور مرزا اشتیاق بیگ نے بھی خطاب کرتے ہوئے ریاست کے اصول، قانون کی حکمرانی میں حائل رکاوٹوں کے خاتمہ میں موجودہ حکومت کے اقدامات ، پارلیمنٹ با لادست ادارہ اور جمہوری معاشرہ میں عوام کی حکمرانی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔#

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں