X

مولانا فضل الرحمن کی راولپنڈی میں اہم شخصیت سے خفیہ ملاقا ت

اس سال کے آخر میں کیا ہونے والا ہے ؟ معروف صحافی نے اہم انکشاف کر دیا

لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 جولائی2019ء) معروف صحافی مظہر برلاس کا اپنے کالم میں کہنا ہے کہ گیارہ ماہ اپوزیشن حکومت کا کچھ نہیں کر سکی۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی والے سیاسی میدان میں ناکام نظر آئے۔عمران خان کے لیے ا س سال کا بارہواں مہینہ بہت خطرناک ہے وہ اس مہینے میں بارہویں کھلاڑی بھی بن سکتے ہیں۔حکومت اگلے چند دنوں میں مدرسوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان کر سکتی ہے جس کے نیتجے میں ایک بڑی تحریک شروع ہو سکتی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے بھی جولائی اگست میں میدان گرم کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔مجھے نہیں پتہ کہ مولانا فضل الرحمن نے پنڈی میں کس شخصیت سے ساڑھے تین گھنٹے ملاقا ت کی،یہ بھی نہیں پتہ کہ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں کس اہم شخصیت دو اہم ملاقاتیں کیں۔

سنا ہے کہ مولانا افرادی قوت فراہم کریں گے اور خرچہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کرے گی۔کم ہونے کی صورت میں خرچہ کہیں اور سے بھی آ سکتا ہے۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اقتدار ن لیگ یا پیپلز پارٹی کو مل سکتا ہے۔

کل سے یہ مہینہ شروع ہو جائے گا یعنی 20 جولائی سے 20اگست۔انتظار کیجئے۔ابھی تو ایک شخص نے اسلام آباد کے چکر لگانا شروع کیے ہیں۔چند دنوں تک کام شروع ہو جائے گا۔واضح رہے پاکستان مسلم لیگ نکے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا تھا۔جس کے بعد اب جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے سینئیر صحافی سعید قاضی کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کے بعد رانا افضل اور مولانا فضل الرحمن کی گرفتاری کا بھی امکان ہے۔ جب کہ سینئیر صحافی طاہر ملک کا بھی یہی کہنا ہے کہ نیب کا مولانا فضل الرحمن کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا ہے اور وہ بھی چند دن ایسے ہی گزاریں گے۔مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی کہا تھا کہ میں نیب کو کچھ نہیں سمجھتا

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں