X

سعودی عرب میں نمازیوں کی لاپرواہی نے مزید 33 مساجد بند کروا دیں

وزارت مذہبی اموت کے مطابق 8 علاقوں میں درجنوں نمازی کورونا کاشکار نکلے

مکہ مکرمہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔20 اپریل2021ء) سعودی عرب کی مساجد میں نمازیوں کی بے احتیاطی کی وجہ سے کورونا پھیلاؤ کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔گزشتہ روزبھی درجنوں نمازیوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعدمختلف علاقوں میں واقع 8 مساجد بند کر دی گئی ہیں۔ وزارت اسلامی امور، دعوت و رہنمائی کے مطابق 71 روز کے دوران کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد اب تک677 مساجد بند کرا دی گئی ہیں جن میں سے628 کو سینیٹائزیشن کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

تازہ ترین کیسز کے بعد بند کرائی گئی33مساجد میں سے8کا تعلق ریاض ریجن سے ہے، 6 کا تعلق مکہ مکرمہ سے،7 کا القصیم ریجن سے، 4کا الشرقیہ ریجن سے جبکہ 3,3 کا تعلق حدود شمالیہ اور جازان ریجن سے ہے۔مدینہ اور باحہ ریجن میں بھی ایک، ایک مسجد بند کی گئی ہے۔

دس کا تعلق القصیم، دو، دو کا ریاض ، الشرقیہ اور جازان سے ہے جبکہ ایک، ایک مسجد حدود شمالیہ اور عسیر میں بحال کی گئی ہے۔وزارت مذہبی امور کے انسپکٹرز کی جانب سے مملکت کی مساجد کے اب تک 2 لاکھ 36 ہزار 576 تفتیشی دورے کیے گئے ہیں۔

1711 مساجد میں کورونا ایس او پیز کی پابندی کے سلسلے میں لاپروائی پائی گئی ہے۔ وزارت اسلامی کی جانب سے ٹویٹر اکاؤنٹ پر تمام نمازیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کوئی بھی نمازی اپنے اندر کرونا وائرس کی کوئی علامت محسوس کرے تو کرونا ٹیسٹ کے بغیر مسجد جانے سے گریز کرے۔ جب تک یہ یقین نہیں ہوجائے کہ وہ کرونا میں مبتلا نہیں ہے وہ گھر پر ہی نماز ادا کرتا رہے۔چہرہ ماسک سے ڈھانپے رکھیں، جائے نماز گھر سے ہی لائیں اور دیگر نمازیوں سے محفوظ فاصلہ رکھیں۔

وزارت اسلامی امور نے مزید کہا کہ ’اس حوالے سے لاپروائی برتنے کا نتیجہ دیگر نمازیوں کو خطرات سے دوچار کرنے کی صورت میں برآمد ہوگا۔ سب لوگ یہ بات مدنظر رکھیں کہ حفاظتی تدابیر کی پابندی دینی فریضہ اور شہری عمل ہے‘۔ نمازیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی مسجد میں کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد میں کوتاہی نظر آئے تو پہلی فرصت میں 1933 پر رابطہ کرکے مطلع کردیں۔واضح رہے چند ہفتے قبل سعودی وزیر ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے ایک ویڈیو بیان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مملکت میں کورونا کیسز میں کمی نہ آئی تو سعودی عرب کی تمام مساجد کو ایک بار پھر بند کیا جا سکتا ہے ۔ ایسی صورت میں مساجد میں صرف اذان دی جا سکے گی اور نمازیں گھروں پر ہی ادا کرنی ہوں گی۔

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں