جسٹس چوہدری کا سچ !

منگل جنوری

Irshad Bhatti

ارشاد بھٹی

بات وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں پچھلی مرتبہ ختم کی تھی ۔ 9مارچ 2007ء کی صبح گیارہ بجکر پچیس منٹ پر جسٹس افتخار چوہدری آرمی ہاوٴس راولپنڈی پہنچے تو انہیں مہمان خانے میں بٹھا دیا گیا ۔ پانچ منٹ بعد پاوٴں کی ٹھوکر سے دروازہ کھول کر صدر مشرف داخل ہوئے ۔چند لمحوں کے بعد سرکاری میڈیا آیا ،تصویریں کھینچیں ، ٹی وی فوٹیج بنی اور پھر جسٹس چوہدری نے سارک لاء کانفرنس اور سپریم کورٹ کے اختتامی گولڈن جوبلی سیشن پر بات شروع ہی کی تھی کہ صدر مشرف بول پڑے ”مجھے پشاور ہائی کورٹ کے جج کی طرف سے آپ کیخلاف شکایت موصول ہوئی ہے “ میں جانتا ہوں مگریہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے ،اس غیر متوقع سوال پر حیران و پریشان رہ جانے والے جسٹس چوہدری نے جواب دیا ۔

آپ کیخلاف کافی شکائتیں اور بھی ہیں اور میرے پاس بہت ساری چیزوں کے ثبوت بھی ہیں ۔

(جاری ہے)

یہ کہہ کر مشرف نے جب اپنے اے ڈی سی سے کہا کہ ”باقی لوگوں کو بھی بلا لیں “ تو وزیراعظم شوکت عزیز ،جنرل اشفاق پرویز کیانی ،جنرل حامد جاوید ،میجر جنرل ندیم اعجاز اور بریگیڈ ئیر اعجاز شاہ بھی آ گئے ۔ صدر مشرف دوبارہ بولے ” سپریم کورٹ کی گاڑیاںآ پ کے خاندان کے زیر استعمال رہتی ہیں“۔

نہیں یہ جھوٹ ہے ،افتخار چوہدری نے جواب دیا ۔آپ مرسڈیز کارچلا رہے ہیں ،جبکہ قانونی طور پر آپ یہ کار استعمال نہیں کر سکتے۔مشرف نے کہا : یہ گاڑی وزیراعظم نے خود بھیجی تھی وہ یہاں موجود ہیں، آپ ان سے یہ پوچھ سکتے ہیں ،جسٹس چوہدری نے جب یہ بتایا تو صدر مشرف نے حیرانگی سے شوکت عزیزکی طرف دیکھا ،مگر جھکے کندھوں میں ڈبل جھکے سر کے ساتھ بیٹھے شوکت عزیز نے کچھ کہنا تو درکنار آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا ۔

آپ نے لاہور ہائیکورٹ کے معاملات میں مسلسل دخل اندازی کی اور چیف جسٹس (لاہور ہائیکورٹ ) کی سفارشات جان بوجھ کر نظر انداز کیں ۔صدر مشرف پھر بولے ۔یہ محض پروپیگنڈا ہے ،جس کا مقصد مجھے او ر عدلیہ کو بدنام کرنا ہے ۔جسٹس چوہدری نے وضاحت پیش کی ۔ چوہدری صاحب ویسے تو میرے پاس اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں لیکن ان چیزوں میں پڑنے کا کیا فائدہ۔

میرا خیال ہے کہ آپ استعفیٰ دیدیں ،مستعفی ہونے پر آپ کو کسی اہم جگہ پر لگا دیا جائے گا جبکہ انکار کی صورت میں آپ کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گااور شرمندگی الگ ہو گی ۔صدر مشرف کا لہجہ اب سخت ہوگیا تھا ۔میں نے کسی ضابطے یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ۔ قانون کا سرپرست ہوتے ہوئے مجھے اپنے اللہ پر مکمل بھروسہ ہے اور یہ یقین بھی ہے کہ وہ میری مدد کرے گا ۔

استعفیٰ نہیں دوں گااور میں تمام الزامات کا سامنا کرنے کو تیار ہوں ۔جونہی جسٹس چوہدری نے بات مکمل کی تو صدر مشرف انتہائی غصے میں پہلے اٹھ کر کھڑے ہوئے پھر اونچی آواز میں یہ کہہ کر کہ ”انہیں سب ثبوت دکھائیں“ وزیراعظم شوکت عزیز کے ہمراہ کمرے سے نکل گئے ۔ جنرل مشرف کے جانے کے بعد جنرل کیانی، میجر جنرل ندیم اعجاز اور بریگیڈئیر اعجاز شاہ نے کوئی ثبوت تو نہ دکھا ئے البتہ تھوڑی دیر بعد جنرل کیانی بولے ”جب آپ بلوچستان ہائیکورٹ کے جج تھے تو آپ نے اپنے بیٹے کیلئے بولان میڈیکل کالج سے خلاف ضابطہ سیٹ لی تھی ۔

آپ کی گاڑیوں میں ڈالے گئے پٹرول کی رسیدیں چیک کی گئیں تو0 9فیصد جعلی نکلیں ۔آپ استعفیٰ دیدیں ، اسی میں آپ کی بہتری ہے ۔پھر جنرل ندیم اعجاز نے بھی استعفیٰ کیلئے جسٹس چوہدری پر دباوٴ ڈالنا شروع کر دیا ۔اب لہجے توہین اور تحقیر آمیز ہو چکے تھے ۔ مگر تمام تر کوششوں کے باوجود بھی جب افتخار چوہدری نہ مانے تو تقریباً ایک گھنٹے بعد یہ لوگ بھی کمرے سے نکل گئے ۔

ا ن کے جانے کے بعد افتخار چوہدری بھی واپسی کیلئے اٹھے تو ایک آفیسر نے انہیں وہیں بیٹھے رہنے کو کہا اور پھر جسٹس چوہدری کو یہ پتا بھی چل گیا کہ انہیں کیمرے کی آنکھ سے دیکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ کافی دیر اکیلا بیٹھنے کے بعد جب اُنہوں نے دوسری مرتبہ جانے کی کوشش کی تو کہیں سے تقربیاً دوڑتا ہوا ایک آفیسر آگیا ۔ آپ کمرے سے باہر نہیں جا سکتے۔

جسٹس چوہدری کو دروازے پر روک کر وہ بولا ۔ گھنٹہ بھر کے بعد جسٹس چوہدری نے پھر جانا چاہا تو ایک اور آفیسرنے آ کر کہا کہ ” ابھی آپ کو جانے کی اجازت نہیں ہے“ ۔ وہ بار بار جانے کی کوشش کرتے رہے اور انہیں بار بار روکا جاتا رہا ۔”میرے پروٹوکول آفیسر کو بلاد یں میں اُس سے کچھ ڈسکس کرنا چاہتا ہوں“ ، جسٹس چوہدری کی اس درخواست پر جواب مِلا ”وہ یہاں نہیں آسکتا“ ۔

آپ میرے سٹاف آفیسر کو یہ پیغام ہی پہنچا دیں کہ وہ گھر بتا دے کہ میں آرمی ہاوٴس میں ہوں اور مجھے دیر ہوجائے گی ،لہذا آج لاہور جانے کا پروگرام ملتوی کر دیا جائے ۔ انہوں نے جب یہ دوسری درخواست کی تو کہا گیا ” آپ کا کوئی پیغام نہیں دیا جا سکتا“ ، پھر اسی دوران انہیں بتایا گیا کہ صدر مشرف دوبارہ آئیں گے ۔ مگر صدر مشرف تو نہ آئے لیکن انہیں مہمان خانے میں بیٹھے جب ساڑھے 5گھنٹے ہو گئے تو شام 5بجے میجر جنرل ندیم اعجاز نے آکر کہا آئیے ! میں آپ کو گاڑی تک چھوڑ دیتا ہوں ۔

پورچ میں گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے جنرل ندیم اعجاز بولے "This is a bad day" آپ کو بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان اور جج آف سپریم کورٹ کام کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔ اسی اثناء میں افتخار چوہدری نے دیکھا کہ انکی گاڑی سے پاکستان اور سپریم کورٹ کے جھنڈے اتار لیئے گئے تھے۔پھر جونہی وہ گاڑی میں بیٹھے تو ان کا سٹاف آفیسر رندھی ہوئی آواز میں بولا ”سر میں نے ٹی وی پر دیکھا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال نے قائم مقائم چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا ہے “۔

گاڑی آرمی ہاوٴس سے نکلی تو ڈرائیور رو پڑا ”سرہمیں سپریم کورٹ جانے سے منع کر دیا گیا ہے مجھے آپ کو گھر لے جانے کو کہا گیا ہے “۔ فکر نہ کرو اللہ بہتر کرے گا، تم سپریم کورٹ چلو، افتخار چوہدری مضبوط لہجے میں بولے۔لیکن ان کی گاڑی سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد سے سپریم کورٹ کی جانب مڑی ہی تھی کہ آناً فاناً پولیس کی گاڑیوں نے انہیں گھیرے میں لے کر رکنے پر مجبور کر دیا ۔

گاڑی رکتے ہی ایک پولیس آفیسر نے آ کر کہا ”ڈرائیور اور گن مین گاڑی سے باہر آجائیں “ جب ڈرائیور اور گن مین نے اترنے سے انکار کیا تو پولیس آفیسر نے اہلکاروں کو حکم دیا کہ دونوں کو گاڑی سے باہر نکا ل لیں اور اس سے پہلے کہ صورتحال خراب ہوجاتی جسٹس چوہدری نے پولیس آفیسر سے کہا کہ” اوکے ہم سپریم کورٹ نہیں جاتے ، گھر چلے جاتے ہیں “ ۔

پولیس پیچھے ہٹی اور 5بجکر 45منٹ پرجب افتخار چوہدری گھر پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس بیسووٴں اہلکاروں نے ان کا گھر چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔تمام ٹیلی فون ڈیڈ ہو چکے تھے ۔ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کنکشن کاٹ دیئے گئے تھے، نہ کوئی گھر کے اندر آسکتا تھا اور نہ کسی کو گھر سے باہرجانے کی اجازت تھی ۔ اوریوں نہ صرف چیف جسٹس آف پاکستان اپنے خاندان سمیت نظر بند ہو گئے بلکہ پوری دنیا سے ان کا رابطہ بھی منقطع ہو گیا ۔

اس سے آگے جو کچھ ہواوہ آپ سب جانتے ہیں لیکن یہ اور باقی سب کچھ جسٹس چوہدری کی اُس کتاب میں آنے والا ہے جو اب لکھی جا رہی ہے ۔اسی کتاب میں ہے کہ جب وہ گھر پہنچے تو اہل خانہ کی حالت کیا تھی ،پہلی رات کیسے گذری ،کیسے ان کے 7سالہ بیمار بچے کی دوائیاں روک لی گئیں، کیسے ایک بیٹی کالج اور دوسری یونیورسٹی کے پیپرز دینے نہ جا سکی اور ان کے گھر کے پرانے ملازمین کو کیوں اٹھا لیا گیا ۔

آپ اسی کتاب میں پڑھیں گے کہ جب چوہدری شجاعت انہیں ملنے آئے تو باہر کیا ہو رہا تھا ۔ سندھ ہاوٴس سے لمحہ بہ لمحہ انہیں کس کے کہنے پر مانیٹر کیا جاتا رہا ۔ بے نظیر بھٹو نے انہیں کیا پیغام بھجوایا ۔ وہ چیف جسٹس ہاوٴس کیوں آئیں ،اعتزاز احسن انہیں زرداری صاحب سے ملوانے کیوں لے گئے ،وہاں کیا باتیں ہوئیں۔نظر بندی کے دوران وہ کِن حالات سے گزرے ،انہیں کیا کیاپیشکشیں ہوئیں ۔

ان کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان اور ریاض ملک کی کہانی کا دوسرا رخ کیا ہے ۔ چیف جسٹس بحالی تحریک کے قائدین کیوں بدل گئے ، دیکھتے ہی دیکھتے کِس کِس کی زندگی سنور گئی ۔شروع کے دنوں میں جج صاحبان کا رویہ کیسا رہا ، جسٹس چوہدری کا بیٹا ساری ساری رات چھت پر پہرہ دینے پر کیوں مجبور ہوا ،چوہدری صاحب پیدل سپریم کورٹ جانے کیلئے محصور گھر سے نکلنے میں کیسے کامیاب ہوئے ، بلوچستان ہاوٴس کے سامنے مشہور زمانہ ”پولیس گردی “ سے پہلے سابق وزیراعظم جمالی انہیں کہاں لے گئے ، وہاں کیا گفتگو ہوئی۔

جسٹس چوہدری نے جمالی صاحب سے کیا فرمائش کی اور جمالی صاحب نے مسز افتخار چوہدری کو واپس گھر کیوں بھیج دیا ۔ اسی کتاب سے آپ کو پتا چلے گا کہ اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ جسٹس چوہدری شعیب سڈل کو چیئر مین نیب لگوانا چاہتے تھے ۔عمران خان کے الزامات میں کتنی سچائی ہے۔ موجودہ صورتحال پر وہ کیا سوچتے ہیں ، اب کی جوڈیشری پر ان کو تحفظات کیوں ہیں اور کل تک ان پر جانیں وار دینے کی باتیں کرنے والے آج خاموش کیوں ہیں ۔ یہ کتاب جسٹس چوہدری کا سچ ہے، یہ سچ آنے والا ہے اور مجھے اتنا تو یقین ہے کہ جب یہ سچ آئے گا تو آپ اپنے ضمیر کی پارلیمنٹ میں چوبیسویں ترمیم لانے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Justice Chaudhry Ka Sach Column By Irshad Bhatti, the column was published on 10 January 2017. Irshad Bhatti has written 210 columns on Urdu Point. Read all columns written by Irshad Bhatti on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.