الف لیلیٰ کہانی !

جمعہ مئی

Irshad Bhatti

ارشاد بھٹی

اِدھر افطار ڈنر ختم ہوا، اُدھر چائے کا کہہ کر منصوبہ بندی کے تحت ہم نے شیخو کو گھیرا، اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ پاتا ہم میں سے ایک بولا ” شیخو تو ایسا کفائیت شعار اکثر پرفیوم نہ لگائے کہ کوئی دوسرا نہ سونگھ لے “ دوسرے دوست نے کہا”شیخو اس شیخ جیسا جس کے بیٹے نے جب بہت ضد کی کہ ابا میں ٹی وی دیکھ لوں تو شیخ بولا ”دیکھ لو مگر آن نہ کرنا “ ، تیسرا دوست بولا ” شیخو سے مل کر مٹھائی کی دکان پر بیٹھا شیخ کا وہ بیٹا یاد آجا ئے کہ جس سے اسکے دوست نے جب پوچھا ” تمہارا رس گلے کھانے کو جی نہیں کرتا “ تو اس نے کہا” کرتا ہے لیکن ابا رس گلے گن کر جائے ،اس لیئے جب دل کرتاہے تو رس گلے چوس کر واپس رکھ دیتا ہوں “، اس سے پہلے شیخو جواب دیتا ،چوتھا دوست بول پڑا ”شیخو تو ایسا کایاں کہ ایک بار لڑائی کے دوران جب مخالف نے کہا کہ تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کرو تو شیخو نے فوراً زمین پر دائرہ کھینچا اور اس میں کھڑے ہو کر کہا” اب بولو“ شیخو نے کچھ کہنا چاہا مگر ایک دوست اسکی بات کاٹ کر بولا”شیخو نے تو اپنے محلے میں ڈھول بجا کر سحری کیلئے جگانے والے کو اس لیئے منع کر رکھا کہ یہ ظالم آتا تو جگانے کیلئے لیکن ڈھول بجا کر شادی کے جذبات جگا کر چلا جاتا ہے ، اس کی بات ختم ہوئی تو میں نے کہا ” جن دنوں شیخو کا چین آنا جانا تھا ،ان دنوں اس نے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیا ” میں شوگر کا مریض ،کیا چینی سے شادی کر سکتا ہوں “، شیخو بولنے ہی لگا تھا کہ ایک دوست نے کہا” شیخو کی انگریزی ایسی کہ say no to corruption کا مطلب یہ بتائے ”کرپشن کو کچھ مت کہو“ ، دوسرا دوست بولا شیخو کو بتانا یہ کہ ” اگر کوئی برا بھلا کہے تو مائنڈ نہ کیا کرو کیونکہ ضروری نہیں کہ وہ لیگی ہی ہو ،کوئی سمجھدار انسان بھی ہو سکتا ہے “۔

(جاری ہے)


اتنے میں چائے آئی ، ہماری توجہ ادھر لگی تو موقع پا کر شیخو نے طنزیہ انداز میں کہا ” بس یا کوئی جگت رہ گئی “ ہم بیک آواز بولے ” نہیں اب آپکی باری ،اب آپ بغضِ نواز جھاڑ سکتے ہیں “، سگار سلگاتے شیخو نے تلخ لہجے میں کہا” بغضِ نواز ۔۔مطلب جو کچھ میں اپنے ملک ، قوم، کرپشن یا لٹ مار کے حوالے سے کہتا ہوں ، تمہاری نظر میں وہ بغضِ نواز ہے ، تم ہی بتاوٴ ،جب یہ کہانی سننے کو ملے کہ حسین نواز نے 6ماہ کی عمر میں دوبئی سٹیل مل لگالی ، حسن نواز جس کرائے کے فلیٹ میں رہے اسکے مالک سے بے خبرہو، 2005میں دوبئی کی سٹیل مل بیچ کر ان پیسوں سے 1993یا 1996میں لندن میں فلیٹ خریدے جائیں ، میاں شریف کروڑوں روپے قطری خاندان کو بھجوادیں اور کوئی لکھت پڑھت نہیں جبکہ سالہا سال بعدان پیسوں کے بدلے حماد بن جاسم لندن کے فلیٹس حسین نواز کو دیدیں اور اس بار بھی کوئی لکھت پڑھت نہیں اورمریم صاحبہ کہیں ،باہر چھوڑیں ،میری اور میرے بہن بھائیوں کی تو اندرون ملک کوئی جائیداد نہیں جبکہ بھائی کہے الحمد للہ لندن فلیٹس ہمارے ، جب یہ سننے کو ملے کہ نواز شریف ،شہباز شریف دونوں سگے بھائی مگر نواز شریف کا باپ ارب پتی جبکہ شہباز شریف کا غریب ، میاں صاحب بیک وقت پاکستان کے وزیراعظم اور دبئی میں بیٹے کے تنخواہ دار ملازم بھی ، مطلب یہاں وہ نوکریاں دے رہے وہاں خود نوکری کر رہے ،داماد کیپٹن صفدر کو 15سو ریال وظیفہ ملے مگر کئی مربعے زمین کا مالک اور ایک طرف چوہدری نثار کہیں میں 92-93میں شریفوں کے لندن کے فلیٹ میں رہ چکا لیکن دوسری طرف بتایا جائے کہ فلیٹس قطری شیخ نے-6 2005میں دیئے اور جو اتفاق برادرز کی لوہے کی بھٹی 1968میں لگی وہ 1965کی جنگ میں پا ک فوج کیلئے ٹینکوں کے پرزے اور توپیں بناتی ملے اور حسین نواز بتائیں کہ الحمد للہ لندن فلیٹس میرے ، الحمد للہ جدہ سٹیل مل اپنی ،الحمد للہ دوبئی میں والد نواز شریف میرے بھائی حسن نواز کے ملازم لیکن جب عدالت بلائے تو کہیں ”مجھ سے نہیں پوچھ سکتے کیونکہ الحمد للہ میں تو برطانوی شہری “اور اب میاں صاحب نے تو کہانی ہی مُکا دی ،قومی اسمبلی اور سپریم کورٹ میں جائیدادوں کی الف سے ی تک کہانی سنا کر احتساب عدالت میں فرمائیں ” مجھے تو کچھ پتا نہیں ،حدیبیہ پیپرز ملز کا ابا جی کو علم اور باقی سب کا حسین کو پتا ، میں تو معصوم ، اگر اس الف لیلیٰ کہانی کے حوالے سے کچھ پوچھا جائے تو یہ احتساب نہیں انتقام ، نادیدہ قوتوں ،اسٹبلشمنٹ اور خلائی مخلوق کی جمہوریت کے خلاف سازشیں ، سوال کیئے جائیں تو دھمکیاں کہ سازشوں سے باز آجاوٴ ورنہ ممبئی حملوں سے دھرنوں تک سب کچھ بتا دوں گا ، اب بھی تم لوگ اگر سمجھ رہے کہ ” یہ بغضِ نواز “ ہے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ۔


شیخو بات مکمل کر کے سگار سلگانے لگا تو میں نے کہا ” حضور3دفعہ کا وزیراعظم جس نے موٹروے بنانے سے ایٹمی دھماکے کرنے تک ملک وقوم کیلئے بیسووٴں کام کیئے ، اس پر ملک دشمنی کا الزام ، کیا یہ انصاف ہے “شیخو سگار کے لمبے لمبے کش مار کر بولا” یہی تو دُکھ کہ 3دفعہ کا وزیراعظم ممبئی حملوں جیسا بیان دے ،ورنہ محمود درانی ،رحمان ملک اورپرویز مشرف بھی اس طرح کی بات کر چکے یہ علیحدہ بات کہ پرویز مشرف نے پیشیاں بھگتتے ہوئے کبھی یہ دھمکی نہ دی کہ مجھے چھوڑا نہ گیا توسب کچھ بتا دوں گا ، چلو پرویز مشریف تو آمر،بھٹو پھانسی چڑ گیا مگر کچھ نہ بولا،پھر یہ مان بھی لیا جائے کہ میاں صاحب نے ترقی وخوشحالی کے بیسووٴں منصوبوں کی بنیاد رکھی تو کیا یہ سب کرکے میاں صاحب نے کوئی احسان کیا ، کیا یہی کرنے کیلئے عوام نے انہیں ووٹ نہیں دیئے تھے ،کیا یہی کچھ کرنے وہ اقتدار میں نہیں آئے تھے ،کیا کوئی اور وزیراعظم ہوتا تو وہ یہ سب نہ کرتا ،ویسے میاں صاحب کو وزیراعظم اس لیئے نہیں بنایا گیا تھا کہ 5براعظموں میں جائیدادیں بنالیں اور قوم صحت ، تعلیم اور پانی سے بھی محروم رہے جبکہ ان کی نسلوں کی نسلیں بھی سنور جائیں ، اب آجائیے ایٹمی دھماکوں پرتو اطلاعاً عرض ہے کہ میاں صاحب تو دھماکے کرنے سے ہچکچا رہے تھے ، دھماکوں سے 8دن پہلے صحافیوں کا ایک وفد انہیں ملتا ہے ،نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی کہتے ہیں ” وزیراعظم صاحب ہم تو سمجھے تھے کہ آ پ نے ہمیں یہ خوش خبری سنانے کیلئے بلایا کہ ایٹمی دھما کے ہو رہے مگرآپ تو ڈانوا ڈول ،میاں صاحب اگر آپ نے دھماکے نہ کیئے تو قوم آپکا دھماکہ کر دے گی ،پھر ایک دن بعد ڈاکٹر قدیر نے خط لکھا کہ ”اگر آپ نے ایٹمی دھماکے نہ کیئے تو میں اور میر ی ٹیم مستعفی ہو جائے گی “ اورپھر گوہر ایوب بتائیں کہ جب وہ دھماکوں والی صبح وزیراعظم ہاوٴس پہنچے تو شہباز شریف نے ڈائنگ روم میں بتایا” وزیراعظم امریکی صدر سے فون پر بات کر رہے اور اگر بل کلنٹن نے اچھا پیکج دیا تو ہم دھماکے نہیں کریں گے “ ،میں نے کہا اب سب کچھ ہو چکا ،دھماکے نہیں روکے جا سکتے اور امریکی وزیر رچرڈ ہالبروک اپنی کتاب میں لکھیں کہ ”دھماکے کرنے کے بعد نواز شریف نے کہا ،مجھے بہت افسوس کہ میں نے ایٹمی دھماکے کر دیئے ،میں بل کلنٹن سے بہت شرمندہ ہوں “۔


شیخو نے بجھا سگار پھر سے سلگایا اور دوبارہ سٹارٹ ہوگیا ” آج کل میاں صاحب کی جو صورتحال مجھے تو یوں لگے کہ کل کلاں وہ یہ بھی کہہ دیں گے کہ فلم بازیگر میں شلپا شیٹھی کو چھت سے شاہ رخ نے نہیں نان اسٹیٹ ایکٹر نے دھکا دیا تھا “ ،یہ کہہ کر خلاف توقع شیخو اپنا لائیٹر اور سگار بکس اُٹھا کر بولا” میں نے ایک دوست کے ہاں جانا لیکن جاتے جاتے یہ ضرور کہنا کہ ہر وقت لیڈروں کو کوستے رہتے ہو ،کبھی اپنے گریبانوں میں بھی جھانک لیا کرو،قوم کی حالت یہ ہو چکی کہ رمضان میں 50روپے کی چیز اڑھائی سو میں بیچتے ہوئے نظر مسلسل گھڑی پر رہے کہ کہیں باجماعت نماز نہ نکل جائے ۔


دوستو! یہ تو تھا شیخو ، آپ اسے سیریس نہ لیں ، یہی پچھلے رمضان میں فرما رہا تھا کہ جنرل مشرف میں لاکھ خامیاں سہی مگر یہ کیا کم خوبی کہ اس دور میں روزے سردیوں میں آتے تھے البتہ شیخو کی یہ بات درست کہ جیسے اب پرانی فلموں کی گر ل فرینڈز کے وہ باپ نایاب ہوچکے کہ جو کہا کرتے ” یہ لو blankچیک اور نکل جاوٴ میری بیٹی کی زندگی سے“ ،ویسے ہی اب وہ سیاستدان بھی ناپید ہوچکے جنہیں اپنا پیٹ بھر نے کی بجائے دوسروں کی بھوک کی فکر ہوتی تھی اور جیسے 1990میں لڑکیاں ڈرا کرتیں کہ نجانے ”ساس “ کیسی ملے اور 2018میں ”ساس“ ڈر رہی کہ نجانے بہو کیسی ہو گی ،ویسے ہی کبھی رہنما خوفزدہ تھے کہ کچھ ایسا ویسا کیا تو قوم کو کیا منہ دکھائیں گے ، جبکہ اب قوم منہ کھول کر رالیں بہا رہی کہ ساڈیاں جائیداداں لندن وچ کیوں نئیں ۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Alif Lailvi Dastaan Column By Irshad Bhatti, the column was published on 25 May 2018. Irshad Bhatti has written 216 columns on Urdu Point. Read all columns written by Irshad Bhatti on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.