سجدہ ریزی

پیر اکتوبر

Khalid Mehmood Faisal

خالد محمود فیصل

تاریخ کا سبق ہے کہ وہ اقوام، افراد، یا شخصیات ہوں، ان کے رویے،طرز زندگی،رہن سہن،بول چال ان سے یکسر مختلف ہوتا ہے، جنہوں نے غلامی میں آنکھ کھولی ہو، اول الذکر کسی مصلحت سے کام نہیں لیتے،حق گوئی بے باکی ان کی پہچان ہوتی ہے، وہ بند کمروں میں فیصلے نہیں کر تے،جابر اور ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنے میں بے باک ہوتے ہیں، کسی سازش میں شریک نہیں ہوتے، امت مسلمہ تاریخ کے آئینہ میں ان شخصیات ، افراد ،حتی کہ حکمرانوں کے نام پے فخر کر سکتی ہے جن کے دامن پے ناانصافی، فریب،ظلم اور جبر کا کوئی دھبہ نہیں تھا، دوسری جانب انسانی حقوق کے علمبرداروں کی اک طویل فہرست ہے،جس نے رومن ایمپائر سے لے کر عہد حاضر تک انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا، عورتوں کی عصمت دری ان کے ہاں معمولی بات تھی۔

(جاری ہے)

آج جب اس قماش کی ریاستیں ہمیں قواعد وضوابط پڑھاتی ہیں تو اپنی کم مائیگی پے رونا آتا ہے۔ اس بے بسی کا فائدہ ہی تو طاقتور مافیا اٹھارہاہے۔
مقام حیرت ہے کہ وہ فرانس جس نے 1945 تک لڑی جانے والی 125 یورپی جنگوں میں سے پچاس میں سے حصہ لیا وہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا مرکز ٹھرا، جی سیون کی وہ ممبر ریاستیں جن کی بربریت، اور ظلم کی داستانیں تاریخ میں محفوظ ہیں، مفتوح ریاستوں کے وسائل لوٹنے میں پیش پیش رہی، وہ ان ممالک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے جارہی ہیں جنھیں غلام بنایا گیاکیا برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک نے لسانی، معاشی مسائل پیدا کر کے سلطنت عثما نیہ کے سقوط کی راہ ہموار نہیں کی؟ قومیت کا درس عربوں کو کس نے دیا، فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کی راہ کس نے ہموار کی؟ ناجائز ریاست کی سیاسی، معاشی،اخلاقی حمایت میں کون پیش پیش ہے؟ کہا جاتا ہے کہ جب شاہ فیصل نے ساٹھ کی دہائی میں شرق اوسط کی معاشی مدد اور حمایت اسرائیل کے مقابلہ میں کی اور دوسری سربراہی اسلامی کانفرنس میں تیل کو بطور ہتھیار استعمال کر نے کا عندیا دیا تو اپنی ہی ریاست میں بھتیجے کے ہاتھوں شہید کروادیئے گیے کیا قاتل نے بغیر معاوضے کے یہ ظلم کیا ہو گا ؟ کیا اس وقت دولت کی ترسیل کو منی لانڈرنگ کا ہی نام دیا جاتا تھا؟
شہنشاہ ایران کی وفاداری کا دم کون بھرتا رہا کس کی ایماء پر اس نے اپنی مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کیے رکھا، عراق ،ایران جنگ کو کس نے ہوا دی ،کویت کے خلاف عراق کو کون اکساتا رہا،مشرق وسطی میں اسلام پسندوں کا ناطقہ بند کرنے میں آمروں کے کندھے پر کون تھپکی دیتا رہا، کس ریاست نے عراق، کویت جنگ کی آڑ میں سعودی فرمانرواں سے 9o ڈالر فی بیرل کے حساب سے صد سالہ معاہدہ کیا؟ محقیقن کہتے ہیں کہ1947-50 تک امریکہ کا دفاعی بجٹ 60 بلین ڈالر تھا اب تلک اس میں دوسو فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے کیا یہ رقم دنیا میں امن کے قیام کے لیے خرچ کی گئی؟ دوسرے ممالک میں جارحیت کے نام پر ڈالر کی فراہمی اور افواج کے قبضہ کا شمار لانڈرنگ کی کس قسم میں آتا ہے ،نجانے مورخ اس قبضہ کو کیا نام دے گا۔

 سرد جنگ میں اپنا پلہ بھاری رکھنے کی لیے سرمایہ کن کن ممالک کو فراہم ہوتا رہا؟ جی سیون کے ممالک انکل سام سے یہ پوچھنے کی جسارت کریں گے؟ اگر یہ ساری سر گرمیاں امن کے قیام کے لیے تھیں تو پھر دہشت گردی کیا ہے؟ افغان قوم کو سول وار میں جھونکنے والا کون تھا، ہیرون کلچر، کلاشنکوف کو جنوبی ایشیاء میں کس نے متعارف کروایا؟ ڈالر کی ریل پیل کس قانون اور ضابطے کے تحت ہوتی رہی؟ اسامہ کو ہیرو سے زیرو بنانے والے کون تھے؟ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس منی لانڈرنگ کا حساب ان سے بھی لے گی جو کبھی امریکہ کی آنکھ کا تارا تھے؟ آج دہشت گرد ٹھرایئے گئے؟ کیا دنیاکھلی آنکھوں سے یہ سب نہیں دیکھ رہی؟
ماضی کو رکھیے اک طرف، شرق اوسط کے مسلم ممالک ایک ایک کر کے معاشی طور پر کمزور نہیں کر دیے گیئے؟ عراق پر کیمیائی ہتھیاروں کی آڑ میں صدام کو منظر سے ہٹادیا گیا،واقفان حال کہتے ہیں صدام تیل کی تجارت یورو میں کرنے کا خواب دیکھ رہاتھا کہ ابدی نیند سلا دیا گیا۔

 کرنل قذافی اذیت ناک انداز میں موت کے منہ میں اس لئے دھکیل دیئے گیئے کہ وہ اب ذہنی آزادی چاہتے تھے۔
اخباری رپورٹر او رتجزیہ نگار یہ کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے کہ داعش کو پروان چڑھانے میں بڑی طاقتوں کا ہاتھ ہے جس نے تیل کی دولت کو لوٹ کر سرمایہ انتہا پسندوں تک پہنچایا کیا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اس کا بھی حساب لے گی؟
شام کے حافظ الاسد کی سفا کی سے صرف نظر کس نے کیا ہے،عورتوں، بچوں پر بمباری پر کس نے چپ سادھ لی؟ صدر مرسی شہید کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے میں کس کو دلچسپی تھی ،جمہوریت کا راگ الاپنے والوں نے مصر میں آمریت کو کندھا دینا کیوں ضروری سمجھا؟ یہ سب سرمایہ کی فراہمی کے بغیر ممکن تھا؟ کون سے رولز اپنائے گئے اس بابت راوی خاموش ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات قابل تحسین ہیں، لیکن کیا سوئس بنکوں میں پڑی اہل عرب کی دولت سے غریب ،پسماند فائدہ اٹھاتے رہے، عرب تو گنوار ٹھہرے ،کیا سوئس بنکس کے منتظمین کی اخلاقی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ ان ممالک کے عوام کو اس ناجا ئز منی لانڈرگ سے آگاہ کرتے؟ کیوں کہ ان کا شمار تو مہذبین میں ہوتا ہے، ہندوہستان جو اس فورس کا observer ممبر ہے اس سے پوچھنے کی زحمت کب گوارا کی جائے گی کہ اس کی ریاست میں مسلح کم و بیش33 علیحدگی پسند تحریکوں کو سرمایہ کہاں سے مل رہا ہے،کیا ٹاسک فورس یہ بھی جانتی ہے کہ سری لنکاء میں تامل ٹایئگرز کو کون سی ایشائی ریاست” معاشی کمک“ دیتی رہی۔

مگر قید میں لاکھوں کشمیریوں کی اخلاقی مدد کو بھی دہشت گردی سے منسوب کیا جاتاہے اس دوہرے معیار پر ٹاسک فورس کب لب کھولے گی؟
 ٹاسک فورس کے فرائض منصبی میں اس رقم کا کھوج لگانا ہے جو غیر قانونی طریقہ سے دہشت گردوں کے ہاتھ لگتی ہے اس میں شامل ممالک کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ ان متاثرین کی بھی مالی امداد کی قانون سازی کریں جن کی دوہری پالیسیوں کی سزا معصوم شہریوں کو موت کی صورت میں ملی؟ جو نام نہاد جنگ کے کام آگئے ۔

ان کا حرجانہ آخر کس نے ادا کرنا ہے؟
کسی آزاد ریاست کی عدلیہ اگر کسی شہری کو انتہا پسندی سے بری الذمہ قرار دے پھر بھی اس کے بنک اکاوئنٹ کو منجمد کرنااور دباؤ کے تحت اس بزرگ کو پابند سلاسل رکھنا ذہنی غلامی کی عکاسی کرتی ہے۔کیا ہماری عدلیہ کی عالمی برادری کی نگاہ میں کوئی قدر نہیں؟
 فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطالبہ پے ہماری سرکار نے ”ڈومور“ کی مشق بھی کی ہے مگراس کا عمل ان کے معیار پے نہیں اترا،گرے لسٹ سے نکلنے میں مزید مدت درکار ہے، غلامی اپنا اثر دکھاتی ہے ہم ان کے غوروفکر پے ہی بغلیں بجا رہے ہیں۔

مقام حیرت ہے کہ انکل سام کئی ارب انسانوں کو لقمہ اجل بنانے کے باوجود ان قواعد وضوابط کو تیسری دنیاکے مقروض ممالک پر لاگو کرنے کے لیے ڈنڈا اٹھا رہا ہے جس کی دھجیاں وہ خود بکھیرتا رہا ہے لیکن کسی حکمران میں جرآت نہیں کہ اسے آیئنہ دکھا سکے ۔یہ حق تو مسلم حکمرانوں کا
 بنتا ہے مگر وہ تو خالق کائنات کی بجائے سپر پاور کے سامنے سجدہ ریز ہیں ، طرفہ تماشہ یہ ہے کہ انھیں کے وسائل کو لوٹ کر ان ہی سے دولت کی ترسیل کا حساب مانگا جا رہاہے، جنکا شمار خود متاثرین دہشت گردی میں ہوتا ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Sajda Raizi Column By Khalid Mehmood Faisal, the column was published on 21 October 2019. Khalid Mehmood Faisal has written 53 columns on Urdu Point. Read all columns written by Khalid Mehmood Faisal on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.