بھٹکا ہوا آہو اور GPS۔ قسط نمبر1

بدھ مارچ

Shahzada Raza

شہزادہ رضا

وقت نام کی محبوبہ تادیر ناز نہیں اُٹھایا کر تی۔۔۔۔۔۔ تاریخ کے چورا ہے کے عین بیچ ساتھ چھوڑ کر پرائی ہوجاتی ہے۔!اکتوبر 1988تک NoKiAموبائل فون ٹیکنالوجی کا
 بے تاج بادشاہ تھا،
1999تک نوکیا (NOKIA)کاOPERATING PROFIT 4بلین ڈالر تک پہنچ گیا
2007تک دنیا میں بیچے گئے کل موبائل فونز کا50%نوکیا تھا۔
دریں اثناء iphoneمارکیٹ میں آیا ، یہ نوکیا سے ٹیکنالوجی میں تومختلف تھا ہی مگر اس کی خاص بات اس کے Appsتھے۔


18استمبر 2007کو ایک امریکی TVچینل میں مدعو NOKIAکے CEO STEVE BALLMERسامنے iphone کاذکر کیا گیاتو steveنے حقارت آمیزلہجے میں iphoneکا مذاق اُڑاتے ہوئے اُسے قابل توجہ نہ جان جبکہ نوکیاکی ٹیکنالوجی اور پائیداری کو ناقابل شکست اور اپنی بقا کا ضامن گردانا۔!!
اگلے 6سا ل کے عرصے میں NOKIAکی فروخت 90%تک گر چکی تھی۔

(جاری ہے)


2013میں مائکرو سوفٹ (یعنیiphone شےئر ہولڈرز)نے نوکیاکو خرید لیا،اُسی ستمبر iphoneپے ٹھٹھا کرنے والا nokiaکا CEO Steve Ballmerنوکیاکی
فروخت کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں اور روکر اپنی ناکامی کا قبول کرتے ہوئے iphoneکو Best wishesکر رہا تھا۔


2015میں Aattoیونیورسٹی فن لینڈ کے اسسٹنٹ پروفیسرTm O-vuoriاور inseadنامی تحقیقاتی ادارے کے پروفیسر Qui Huyنے اپنا ریسرچ پیپر
     how nokia lost the smartphone battle.شائع کیا جس میں نوکیا کی بربادی کی وجوہات پرتحقیق کی گئی حاصل تحقیق یہ تھا۔
کہ نوکیا آنے والے وقت کا ادراک کرنے میں ناکام رہا“تقریباََ 11بڑی وجوہات میں یہ بھی تھا کہ درمیانی اور نچلی سطح کے مینجرز نے مارکیٹ کے رجحانات کی رپورٹنگ بالائی سطح
تک پہنچائی ہی نہ تھی جبکہ بالائی سطح کے افسران میں گھمنڈ اور بدتہذیبی نے نچلی سطح کے مینجرز اور افسران کے درمیان بداعتمادی کی خلیج حائل کر دی نوکیا کی بربادی میں کمپنی کے اس کلچر
کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔


2008تک جماعت اسلامی پاکستان بلاشبہ مب سے فعال، منظم اور مضبوط دینی و سیاسی جماعت رہی۔ جماعت کی تاریخ قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے خصوصاََجب چمن
کی آبیاری خون سے کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو جماعت ہی پیش پیش رہی۔
مشرقی پاکستان(بنگلہ دیش)میں دہشت گرد تنظیم مکتی باینی اور انڈین آرمی کی بربریب کے خلاف جماعت”البدر“ اور الشمس کے روپ میں پاک افواج کے شانہ بشانہ شہادتیں
پیش کر تی رہی۔


روسی افواج کو افغانستان میں مقید کرکے ان کا قیمہ بنایا ہو یا تکمیل پاکستان کی جنگ آزادی کشمیر کے نام پہ لڑئی ہو، حزب اسلامی اور حزب المجاہدین کی صورت جماعت کے رضاکار
 اپنے خون سے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں اور کشمیر کے چناروں میں رنگ بھر تے رہے۔
اللہ ان تمام شہداء اور غازیوں کو جنت کا مکین بنائے (آمین)
سید علی گیلانی، حکمت بار اور قاضی حسین احمد کی جماعت اسلامی افق نے کتابوں میں دفن جہاد بالسف کے افسانوں کو حقیقت کا رنگ و روپ دے کر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ۔

:
پاکستان اور دیگر ممالک میں جماعت اسلامی سیاسی پر بھی اپنی ہم عصر حکومتوں کے لیے خوف کا باعث بنی رہی ۔ جارحانہ سیاست جماعت کا طرُہ امتیاز تھاجس کی وجہ سے جماعت کو پاکستان میں تیسری سیاسی قوت کا اعزاز حاصل رہا،قدرتی آفات کے موقع پر بھی جماعت اسلامی سب سے پہلے اپنی خدمات قوم کے سپر دکرتی نظر آتی ۔
قاضی حسین احمد مرحوم کے آنکھیں موند ھتے ہی جماعت نے اپنے پر پھرپھڑائے اور اس پہ جمی روائتی جارحانہ سیاست کی مٹی جھاڑ تے ہوئے عجیب وغریب حرکتیں شروع کردیں ضیاء الحق شہید کے دور میں اسٹیلشمنٹ سے پروان چڑھی محبت اپنے انجام کو پہنچی ، منورحسن جیسے عابد د زاہد نے TTPیعنی تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کی سرکوبی کرنے والے پاک فوج کے شہداء کی شہادت کو مشکوک قرار دیا مگر مشرف کی وردی کو اپنے ہم خیال اسلامی گر وہوں سمیت باجماعت سند قبولیت بخشی۔


پوراپاکستان مانتا تھا کہ TTPامریکی CIAاور بھارتی RAWکی ناجائز اولاد تھی جو بچوں ،بوڑھوں اور عورتوں کا قتل عام عین اسلام سمجھتے تھے۔ RAWاورCIAکی TTPکو کمنڈنگ کے ناقابل تردید ثبوت ہمارے ادارون کے پاس موجود تھے مگر جماعت نے TTPکی کبھی کھل کے مذمت نہ کی ۔اسے اور لاعلمی کہیے یا بیوقوفی!!
بالوں اور گرد سے اُٹے ہوئے ان جانور نماانسانوں کو نماز تودور کلمہ بھی نہیں آتا تھا مگر جانے نہ جانے جماعت ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
دریں اثناء جناب منورحسن صاحب نے” عمران خان اور ہمارے موقف میں بس اُنیس بیس کا فرق ہے“مگر وہ ہماری طرح اسلام کا نام نہیں لیتا والا بیان دے کرمرکزی شوریٰ کو
ناراض کر دیا اور اپنی چھٹی کروالیبعد میں کہا گیا کہ موصوف کی ناسازی طبع استعفیٰ کی وجہ بنی ۔


جماعت کے اس رویے نے اُنہیں پہلی بار اسٹیلشمنٹ سے دو کردیا۔ اب جماعت کو اپنی سیاسی لڑائی میں فوج کی پسندید گی اور اسٹیلشمنٹ کی مدد حاصل نہ تھی۔
KPمیں حکومت کی حصہ داربن کر جماعت نے 4سال اور 10ماہ خوب کام کیا مگر2018کے الیکشن سے محض 2ماہ قبل ہی جماعت پر یہ خوفناک حقیقت آشکار ہوئی کہ اس کی اتحادی جماعت تو ایک کرپٹ ترین جماعت ہے۔ قوم کا ماتھا ٹھنکا، قوم کردار وگفتار ان غازیوں کی منتظر رہی کہ ساید کوئی وائٹ پیپر PTIکے خلاف شائع کیا جائے گا جس میں خٹک حکومت کی کرپشن کی تفاصیل درج ہونگی یا پھر کوئی جماعتی NABیا اعلیٰ عدلیہ کے ہاں رجوع کرے گا ۔

کیونکہ قوم کو یقین تھا کہ جماعت کے فرشتہ صفت مومنین قرآن کی اس آیت کو مد نظر رکھیں گے کہ ”اے ایمان والو جب کوئی فاسق خبر لائے تو تحقیق کر دیا کرو(الحجرات)اور بنا ثبوت الزام نہیں لگائیں گے ۔
مگر ایسا کچھ نہ ہوا ، سادہ کاغذات پر جعلی قسم کے جماعتی استعفوں کے سوا سوشل میڈیا پر کچھ نہ ملا۔
2018کی الیکشن مہم کے دوران مجھے ذاتی طور پر جماعت کا ایک نیا چہرہ دیکھنے کو ملا میں بھو ل چکا تھا کہ جماعت کی میدیا ٹیم90کی دہائی میں منصورہ کے شعبہ سمع وبصرََ میں کام کرنے والا سیماب صفت لوگ نہ تھے جو میڈیا ٹیم ممبر بننے سے پہلے حزب اسلامی افغانستان کے البدر یا حزب المجاہدین کے تربیتی مراکز سے STFیا کم از کم ایک ماہ کی عسکری اور اخلاقی تربیت ضرور حاصل کرتے ۔

ہڈیوں میں آترتی سرد ہواؤں ،RPG-7کے کان پھاڑ دینے والے دھماکو ں کی سنگت سے وجود میں آنے والی نمازوں ، عصر کے بعد دی
جانے والی اخلاقی تر بیت کی کلاسوں کا ان موجودہ سوشل میڈیا ٹیم کے نوخیز بچوں
شائبہ تک نہیں ۔۔ انہوں نے تحریکی سختیوں کا منہ تک نہیں دیکھااور نہ ہی جماعتی ذمہ داران نے 2018 کے الیکشن مہم میں ان کوکیسی ضابطہ اخلاق کا پابند کیا۔

!!
2018کے اوائل سے ہی اپنے جماعتی دوستوں کے منہ سے عمران خان کے خلاف دبی دبی شکائیات سننے کو ملتی رہیں جب اُن سے پوچھنے تو اعتراض ہوتا کہ خان نے سیاست میں گالم گلوچ کے کلچر کو فروغ دیا ہے جب اُن سے لفظ ”گالی“کی تشریح کی درخواست کی جاتی تو میری اخلاقی تربیت کو کوستے ہوئے مجھے باور کرایا جاتا کہ عمران خان عزت مآب
آصف علی زرداری اور متحرم نواز شریف کو اوئے ڈاکو “ اور ” اوئے چور“ کہے کر مخاطب کر تا ہے ۔


میں جواباََ دوستوں کو حافظ سلیمان بٹ کی وہ ویڈیو بھیج دیتا جس میں موصوف نواز شریف کے شجرہ نسب کو پنجابی میں لتاڑ رہے ہیں ۔
(پنجابی گالی کی شدت و حدت کر میرے جیسے محیب الطرفین پنجابی ہی سمجھ سکتے ہیں ) گزشتہ پندرہ بیس سالوں سے جماعت نواز شریف فیملی کے عشق میں مبتلا ہو کر احتجاجی سیاست ترک کر چکی تھی لہذا اس سیاسی خلا کو عمران خان نے پُرا کرنا شروع کردیا ، 22سال کی جدوجہد اور ایک نکاتی ایجنڈا کرپشن کا خاتمہ
نیتجہ عمران خان وزیراعظم اس میں نہ سمجھ آنے والی فلاسفی کون سی ہے!
جماعت کی سوشل ورک میں اجارہ داری کو بھی حافظ سعید اور انکی جماعت نے کافی حدتک ختم کر دیا ہے ۔


جماعتی مجالس شوریٰ اور مجلس عامہ کے ارکان کا سوشل میڈیا سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔
یہ اللہ والے لوگ گیان دھیان اور اندرونی جوڑ توڑ میں مصروف رہنے والے ہیں مجھے 90فی صد یقین ہے کہ وقاص انجم جعفری کے سوا کسی جماعتی بزرگ کا سوشل میدیا اکاؤنٹ
نہیں ہے کیونکہ موصوف ہی کم عمر ترین رکن مجلس شوریٰ ہیں۔
باعث حیرت یہ تھا کہ 2018کی الیکش کمپین میں جماعت کاہدف تنقید صرف اور صرف عمران خان اور بی ٹی آئی تھی ۔

کبھی کبھارایک اردو ہو میو پیٹھک سا بیان ۔۔ لسٹ میں موجود تمام کرپٹ لوگوں کے خلاف آجاتا محترم بابا کوڈا اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ آفشور کمپنی رکھنا کوئی جر م نہیں 600سے1000ڈالر میں آپ ایک آفشور کمپنی کھول سکتے ہیں
جر م اس میں ناجائز یا نامعلوم ذرائع سے آنے والا پیسہ رکھنا ہے۔
ویسے بھی سپریم کورٹ میں دائر جماعتی درخواست کا ہدف نواز شریف بالکل نہیں تھا کیونکہ نواز شریف کو نام لیکر نامزد نہیں کیا گیا تھا۔


نواز شریف ویسے VUlNERABlEتھا چنانچہ بابا کوڈا ختم کردیں جماعت رہنے دیں جماعت نے نواز شریف کی سپریم کورٹ ے نااہلی کی دیگ منصورہ لیجانے کی بہت کو
شش کی مگر ناکام ہوئے۔
سوشل میڈیا کمپنی میں کوئی بھی ٹھوس ثبوت جماعت نے پی۔ٹی۔ آئی کے خلاف نہ دیا تمام کمپین عمران خان کے چند ساتھیون یعنی ارد گرد موجود افراد کے خلاف تھی ۔ جماعتی موقف یہ تھا کہ صرف ایماندار لیڈر ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھیوں کا فرشتہ صفت ہونا بھی لازم ہے بھلا ہوا پنے سراج لالہ کا کہ انہوں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں اینکر کے سوال کے جواب میں فضل الرحمن جسے بدنام زمانہ کرپٹ انسان کے ساتھ اتحاد کا جواز پیش کرتے ہوئے فرمایا ” آپ افراد کی بات کرتے ہیں جبکہ ہم نظام کی بات کرتے ہیں“ یعنی
لیڈر شیپ سے فرق پڑاتا ہے لیڈر کے گرداگرد کون افراد ہیں کوئی معنی نہیں رکھتا۔


میڈیا کیمپین میں کہا گیا کہ عمران خان خود تو ٹھیک ہے مگر اس کے گرد افرادکرپٹ ہیں تصاد دیکھئے ماشاء اللہ راہوں قرآنی تعلیمات کی ۔ ۔ خلاف ورزی کرتے ہوئے سنی سنائی بات کو مرچ مصالحہ لگا کر سوشل میڈیا پر Shareکردینا ہو یا بہتان تراشی کرنا ہو جماعتی بھائی منہ سے جھاگ نکالتے ہوئے چڑھ دوڑتے ہیں۔
اسرائیلی طیارے پاکستان میں لینڈ کرنے کی جھوٹی کبر ہو یا اسرائیل کوتسلیم کرنے کی افوہیں کسی تحقیق کی ضرورت نہیں بس ہدف عمران خان ہونا چاہیے۔


خان کی پردہ دار اور پابند صوم صلوة بیوی کو بھی جماعیتوں نے نہ بخشا ایسے ایسے ۔۔۔۔۔ ٹھٹھے کہ خدا کی پناہ ۔!
یہ کام کرتے ہوئے خوف خدا نہ کوئی اخلاقیات نہ کسی تربیتی نشت میں سنا لیکچر یادرہا۔
جماعت کی سوشل میڈیا کے یہ نازک الزام لڑکے لڑکیان خان اور PTiپر Rapid fireکو ہی دنیا و عاقبت میں کامیابی اور راہ نجات گردنے ہیں PTiکے جلسوں میں مخلوط ناچ گانے کا ڈھول پیٹا گیاکوئی ایسی و ڈیوبطور ثبوت پیش کرنا کی زحمت نہیں کی گئی۔

حالانکہ جتناPTiوالے اپنے ترانے پرلہکتے تھے اس سے کہیں زیادہ شباب ملی کے دنوں میں بجائے گئے نغموں پر جماعت والے اپنے ا عضاء کی شاعری سے پبلک کو محظوظ کرتے رہے۔نون لیگ کے جلسوں میں خواتین کو باقاعدہ ہراساں کیا گیا، کارنر مسیٹگز
میں طوائفوں کے مجرے تک منعقد کروائے گئے۔ جماعت نے ایک لفظ تک نہ کہاچپ کا روزہ رکھے صرف خان اور اسکی پارٹی کو ہدف تنقید بناتے رہے۔


جماعت اسلامی پاکستان کا یہ یقین ایمان کی حد تک پختہ ہو چکا تھاکہ نوازشریف میڈان پاکستان اور اسلامی زہن کاآدمی ہے جبکہ بنظیرمغرب زدہ اور یہودی ایجنٹ تھی وہ تو بعد میں پتا چلا کہ افغانی طالبان کے قیام کے EXecutive orderبینظیرنے ہی دیے تھے۔
بی بی کے دست راست جنرل نصیر اللہ بابر (ریٹاٹرڈ)کے ذریعے افغانستان میں طالبان کو مستحکم کیا گیا ۔

دوستم اور احمد شاہ مسعود کے حامی جنرل بابر کو ”پدرطالبان“یعنی طالبان کا
باپ کہتے تھے۔
2018کی الیکشن کمپین کے دوران بھی سراج لالہ اپنی حکمت عملی واضح نہ کرکے PTIکے ووٹوں سے سینئر بننے والے سراج بھائی خم ٹھونک PTiکے خلاف ڈٹ گئے ترازو کے
راسخ شدہ نشان کو یکسر کتاب میں بدل کر فضل الرحمن جسے سیاستدان کے ساتھ مل کر کبھی PPP اور کبھی ن لیگ سے بغلگیسر نظر آئے۔


آزاد کشمیر میں ن لیگ کے اتحادی بنے اور پاکستان میں بھی بشتر مقامات پر ن لیگ کو سپورٹ کیا مگر ۔۔۔ سیاست ہے اسلام کا یہاں کیا کام! متحدہ مجلس عمل نے مشرف دور میں
صوبائی حکومت ہونے کے باوجود محض کاروبار مملکت چلایا۔ کسی تبدیلی کی داغ بیل نہ ڈال سکے۔
عام کا رکن سے لیکر ضلع اور صوبائی سطح تک کے جماعتی ذمہ داران جماعت کی ان سیاسی بونگیوں پر بالکل اسی طرح دفاع کرتے ہیں جسے MQMکے لیڈران۔


الطاف حسین کی غلاظت کوصاف کرتے رہتے ۔!!
عوام کو سراج لالہ کے تقویٰ کی مثالیں دی جاتی ہیں جوکہ سراسر اُنکاذاتی فعل ہے اور وہ اس کا اجر اللہ سے وصول کرینگے ۔ جماعتی بھائیوں کو یاددلادوں کے تقویٰ میں عثمان غنی ، ابوبکر صدیق اور علی المرتضی کسی سے کم نہ تھے لیکن اللہ نے اپنے دین کو قوت بخشنے کاکام عمرفاروقسے لیا۔ یقیناََ عمرفاروقMANAGERIAL SKILLSمیں دوسرے صحابہ سے
نمایا تھے۔

جماعتی لوگوں کی اکثریت کے باکر دار اور صالح ہونے میں کوئی شک نہیں
مگر سیاسی فیصلے ذاتی کردار سے بالا تر ہوتے ہیں۔بھٹو جیسے سوسلشٹ ذ ھن والے سے اللہ نے ایسے کام لے لیے جو شایدملا سے نہ ہو سکتے ۔ ایٹمی پروگرام کی بنیاد ، اسلامی آئین کی
تخلیق اور شراب پر پابندی ، قادیانی کو غیر مسلم قرار دینا بھی بھٹو دور میں ہوا۔!!
جماعت کے اندر اعتراض یا تنقیہ کرنے والے کو امیر کی اطاعت ، نامی تلوار سے ڈرایا جاتا ہے ، خوداحتسابی ، لیڈر شپ کامحاسبہ یا تنقیدکا کلچر بالآخر جماعت اسلامی سے مفقود ہوتا
دکھائی دیتا ہے
امیر کی اطاعت کرتے کرتے زرداری اور نواز شریف جیسے لیڈروں کوبلواسطہ یابلا واسطہ سپورٹ کرنا نہ جانے کہاں کی شریعت ہے!دوسری طرف PTIکے ووٹر اور سپورٹر ز کامیلان
طبع یکسر مختلف ہے۔

یہ ظالم لوگ جب تنقید پہ آتے ہیں تو اپنے ہی لیڈر کو رگڑدیتے ہیں،وزیر اعلیٰ ہاؤس میں سوٹمنگ پول بنانے کے معاملے میں PTIکے لوگوں نے پرویز خٹک
کی مت ماروی اور مجبوراََ اُنہیں میڈ یا میں وضاحت دینا پڑی۔
اعظم سواتی والے معاملے میں پارٹی کے اپنے ہی لوگوں نے سواتی صاحب کی آتما رول دی اور جناب فارغ کردئیے گئے۔
خان صاحب کو کروشیا کی ایک ماڈل نما وزیر اعظم نے دورہ کی دعوت دی توپی ٹی آئی کے اپنے ہی لوگون نے ازراہ تفن کہنا شروع کردیا۔


”خان صاحب کوئی نواچن نہ چڑھا دینا“ یہ بولڈنیس صرف PTIکے ووٹرز کا خاصہ ہے ۔
مجال ہے کہ کوئی جماعتی بیانگ دھل اپنے لیڈر یا جماعتی پالیسیوں پر خفیف سی تنقید بھی کر سکے، جماعت کے مطابق اس کام کے لیے باقائدہ نظم موجود ہے۔
البتہ PTIیا عمران خان کی ذات پہ کیچڑا چھالنے کے لیے آپ پاس سوشل میدیا پر لائسنس ٹوکل موجود ہے ۔ لگے رہئے کوئی پوچھے والا نہیں،
اپنی قیادت اور پالیسیوں کے بارے جماعیتوں کی اپنے سوشل میڈیا پر تنقید مفقود ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی شک ہوتا ہے کہ شاید یہ لوگ غلطیوں سے مبرا ہیں اور ان میں کوئی بشری
 خامی نہیں شاید یہ انسان نہیں فرشتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ہم فرشتون کو ووٹ نہیں دیتے کیونکہ سیاست ان کا کام نہیں۔


ان بھائیوں سے گزارش ہے کہ جنت پہ تھوڑا ساحق ہمیں بھی دے دیں امیر کی اطاعت اپنی جگہ مگر تنقید کا حق بھی اداکیجئے۔
ثانیاََ عرض ہے کہ قرآن و حدیث میں کہیں بھی جماعت اسلامی پاکستان کا ساتھ دینے کا حکم نہیں ہے۔
”سچے لوگوں “ کا ساتھ دینے کاحکم ہے اور وہ سچے لوگ کسی بھی پارٹی سے ہو سکتے ہیں ۔ اللہ حافظ سعید سے سوشل ورک اور عمران خان سے سیاسی کام لے سکتا ہے یہ اپنا نصیب ہے
کہ کسی کے حصے میں کیا سعادت لکھی ہوئی ہے ۔


جماعت اسلامی کے ایک عام کارکن کے اخلاص میں کوئی شک نہیں و ہ اپنا تن من دھن اللہ کی راہ خلوص نیت سے صرف کر رہا /کررہی ہے ۔
مگر ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جو زمین میں گڑھے اپنے سے 100گنا بھاری پتھر کو ہٹانے کے لیے کسی مشین کی مدد لیے بنا محض اپنے زور بازو پر بھر وسہ کر رہا ہو ، صبح سے شام
تک روزانہ اسی مشق لا حاصل میں مشغول رہے اور تھک ہار کر ایک گلاس پانی پی کر سوجائے۔


کام یعنی ورک workکی تعریف کے مطابق اس کا ٹیبل سے گلاس اُٹھاکر پینا کام ہے اور صبح سے شام تک کی گئی مشقت محض وقت کا ضیاع ہے۔
 لہذا جماعتی بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس BUBBLE EFFECTسے باہر نکل آئیں کہ پاکستان اور دنیا بھر میں اسلام کا پرچم صرف وہی لہراسکتے ہیں ۔ افغانستان اس
 کی تازہ مثال ہے۔
جوکام حزب اسلامی نے کرنا تھا وہ اللہ نے طالبان سے کروادیا اور حزب اسلامی کی لیڈر شپ کو بھاگ کر ایران جیسے ”اسلامی “ملک میں پناہ لینا پڑی بس اتنا یاد رکھیے کہ آپ کے
 سٹڈی سرکل : تربیتی مشقوں اورجماعت سے باہر بھی دنیا ہے اور آپ سے بر وقت سیاسی فیصلوں کی متقاضی ہے۔


الیکشن 2018کے بعد سب سے زیادہ خطرناک جماعتی رحجان جس نے ہر محب وطن کے کان کھڑے کر دیے وہ پاک فوج کے خلاف اپنی نوجوان نسل کے ذھن کو پرایگنڈا کرنا تھا۔
سوشل میڈیا یہ جماعتی کمپین دیکھ کر لگ رہا تھا کہ جیسے پاک فوج اندیا کی فوج ہے کراچی کی ایک خاتون جومیری طرح ایک تیسرے درجے کی لکھاری ہے نے اپنے پیج پر جنرل عبداللہ خان نیازی کی جنرل اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے کی تصویر کو خوب وائر ل کیا ۔


پاک فوج اور ISIکے خلاف وہ زیر اُگلا گیا کہ خدا کی پناہ مگر کیا ہو ا،
نہ تو جماعت الیکشن کمیشن اور نہ ہی اعلیٰ عدالیہ کے پاس شکایت لے کر گئی کوئی ایسا ثبوت پیش نہ کیا گیا کہ جس ثابت ہو سکے کہ پی ٹی آئی کی جیت میں فوج کا کوئی کردار تھا۔
اکادکادھاندلی یا بے ضابطگی تو پوری دنیا کے الیکشن میں ہوئی ہے مگر جماعت نے سوشل میڈیا پر 2018میں اپنی بدترین شکست کی ذمہ داری پاک فوج اور ISIپر ڈال دی ۔(جاری ہے)۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Bhatka Hua Aahu Column By Shahzada Raza, the column was published on 13 March 2019. Shahzada Raza has written 5 columns on Urdu Point. Read all columns written by Shahzada Raza on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.