ڈسکہ کے نواحی علاقے میں ڈاکوؤں کا ناکہ، گاڑی نہ رکنے پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک کر دیا

ہفتہ نومبر 17:35

ڈسکہ (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین11نومبر2006) ڈسکہ کے نواحی علاقے میں ڈاکوؤں کا ناکہ، رکشتہ نہ رکنے پر فائرنگ کر دی ایک شخص ہلاک ٹرانسپوٹروں کا احتجاجی مظاہرہ۔ سیالکوٹ گوجرانوالہ جی ٹی روڈ ڈیڑھ گھنٹہ تک بلاک کر دی۔ تفصیلات کے مطابق گلوٹیاں روڈ پر 4 نامعلوم ڈاکوؤں نے صدر پولیس کے ناکہ سے تقریباً 1 فرلانگ کے فاصلہ پر ناکہ لگا کر لوٹ مار شروع کردیا اور ایک دیہاتی منور سے نقدی اور موبائل سیٹ لوٹ لیا جس نے لٹنے کے بعد ناکہ لگائے کھڑی پولیس کو اطلاع کی تو پولیس نے نفری کم ہونے کا عذر بنا کر مزید نفری منگوا کر ڈاکو ناکہ پر جانے کا کہا مگر نہ مزید نفری آئی اور نہ ہی پولیس نے ڈاکوؤں کی لوٹ مار کا کوئی نوٹس لیا اور ڈاکو لوٹ مار میں مصروف رہے ۔

گلوٹیاں کے عبدالرحمن کا 20 سالہ نوجوان بیٹا کرامت علی عرف ننھا جو گھرانے کا واحدکفیل تھا سواریاں بٹھا کر رکشتہ پر جا رہا تھا کہ ڈاکوؤں نے رکنے کا اشارہ کیا مگر بریگیں لوز ہونے کی وجہ سے رکشتہ ڈاکو ناکہ سے چار گز آگے جا کر رکا ڈاکوؤں نے رکشتہ ناکہ سے آگ جا کر روکنے کے جرم میں اندھا دھند فائرنگ کر کے کرامت علی کو موت کے گھاٹ اتار دیا فائرنگ کی آواز پر پولیس جائے واردات پر پہنچنے کی بجائے راہ فرار اختیار کر گئی اورڈاکو بھی فرار ہو گئے جس کی اطلاع پر قریبی دیہاتوں اور مقتول گاؤں کے دیہاتی اشتعال میں آ گئے اور صبح ہونے پر سینکڑوں دیہاتیوں اور طالب علموں نے قتل اور پولیس رویے کیخلاف زبردست احتجاج کیا اور مصروف ترین سیالکوٹ گوجرانوالہ جی ٹی روڈ پر ٹائروں کو آگ لگا کر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے بلاک کر دی اور پولیس کے خلاف زبردست نعرے بازی کی روڈ بلاک سے گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں جس پر ایس ڈی پی او ڈسکہ تنویر اوڑھو نے موقع پر مظاہرین سے مذاکرات کئے اور قاتلوں کی جلد گرفتاری تھانہ صدر کے پورے عملہ کے تبادلہ کی یقین دہانی کرائی تو ناظم گڈو خان اور رفاہ عامہ کے صدر عابد نقوی کی کوششوں سے ٹریفک کھول دی۔

(جاری ہے)

مظاہرین نے صحافیوں سے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے بلاناغہ پولیس اور ڈاکو ناکے صرف ایک فرلانگ کے فاصلے پر لگائے جاتے رہے تھے لٹنے والوں نے ہر روز پولیس کو اطلاع دی مگر پولیس مسلسل کارروائی سے ٹال مٹول کرتی رہی جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پولیس ڈاکوؤں کی پشت پناہی کرتی ہے۔

متعلقہ عنوان :