باڑ نامنظور‘ پاک افغان پختونوں کو تقسیم کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے .اسفند یار ولی..میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے. صدر مشرف کی نگرانی میں بھی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے

بدھ جنوری 13:25

صوابی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین03جنوری2007 ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ سینیٹر اسفند یار ولی خان نے ایک بار پھر حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اے این پی دونوں ملکوں کے آر پار ساڑھے تین کروڑ پختونوں کی تقسیم کرنے کی اس سازش کے خلاف بھرپور تحریک چلائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید الاضحی کے موقع پر عید کی مبارکباد دینے کیلئے آئے ہوئے مختلف وفود سے کیا انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر خار دار تا لگانا اور بارودی سرنگیں بھانا دہشت گردی اور تخریب کاری کے خاتمے اور مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے دونوں ملکوں کے مابین مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ آر پار تقریباً ساڑھے تین کروڑ پختون آباد ہیں اور حکومت پاکستان کا یہ اقدام دونوں ملکوں کے پختونوں کو تقسیم کرنے کی سازش ہے جبکہ حکومت کا یہ اقدام کرزئی حکومت بھی مسترد کرچکی ہے انہوں نے کہا کہ 1893ء میں سو سالہ معاہدہ ڈیورنڈ لائن کا ہوچکا تھا لہذا 1993ء کے بعد پاک افغان ڈیورنڈ لائن معاہدے کی افادیت ختم ہوچکی ہے اب حکومت پاکستان ان سرحدات پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کی آڑ میں افغانستان اور پاکستان کے مابین لکیر کھینچ کر دونوں ملکوں کے پختونوں کو تقسیم کی سازش کررہی ہے مگر ہم اس کے خلاف ہر قسم کی تحریک چلانے سے گریز نہیں کریں گے اور کرزئی حکومت کو کو ڈیورنڈ لائن بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے پر مجبور کرنا حکومت پاکستان کی خام خیالی ہوگی انہوں نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کو عید الاضحی کے دن پھانسی دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کیلئے امریکہ کا ایک کھلا چینلج قرار دیا اور کہا کہ عید الاضحی یا عید الفطر کے دن کسی بھی مذہب یا ملک میں کسی انسان کو پھانسی نہیں دی جاتی جبکہ انسان کیا بلکہ جانوروں پر بھی ظلم نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن امریکہ نے صدام حسین کو عید الاضحی کے دن پھانسی دے کر پوری انسانیت کی تذلیل کی ہے تمام ممالک کو اس کے ظلم کے خلاف متحد ہونا ہوگا انہوں نے کہا کہ اے این پی جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں عام انتخابات کیلئے میدان کھلا نہیں چھوڑے گی بلکہ اس میں بھرپور حصہ لے گی۔

Your Thoughts and Comments