بش فوجوں کے ذریعے مسلمانوں کا خون اور امریکی دانشور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے منصوبے پیش کر رہے ہیں۔ قاضی حسین احمد

بدھ جنوری 15:23

لاہور( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین03جنوری2007 ) متحدہ مجلس عمل کے صدر و امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ بش فوجوں کے ذریعے مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے اور امریکی دانشور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے منصوبے پیش کر رہے ہیں ۔روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام پر پاکستانی معاشرے میں مغربی تہذیب کو پھیلا یاجارہا ہے اور اسلامی اقدار کامذاق اڑایا جارہا ہے ۔

وہ جامع مسجد منصورہ میں عید الاضحی کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے ۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ مشرف حکومت بڑے زور و شور سے ان دنوں لبر ازم کا پرچار کر رہی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اپنی خواہشات کے مطابق گزاری جائے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعات میں زندگی گزارنے کا جو عہد ہر مسلمان کرتا ہے اسے پس پشت ڈال دیا جائے دین پر عمل کرنے والوں کوانتہا پسند قرار دیاجارہاہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایک شخص بغیر کسی آئینی و اخلاقی جواز کے ملک و قوم پر زبردستی مسلط ہے اور وہ اپنے آپکو کھلم کھلا امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی کہتے ہوئے شرم بھی محسوس نہیں کرتا ۔ باجوڑ میں امریکی بمباری سے 80بچے جن میں 35 حفاظ شہید کر دئیے گئے انکی لاشیں مسخ ہو گئیں او رانہیں بوریوں میں بند کر دفن کیا گیا ۔ ہمارے حکمرانوں میں اتنی حمیت اور جرات نہ تھی کہ وہ مدرسے پر اس بلا جواز ظالمانہ بمباری کے ذریعے معصوم بچوں کے قتل عام پر امریکہ سے احتجاج ہی کرتے ۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں لا پتہ افراد کے بچوں اور خواتین پر احتجاج کرنے کی پاداش میں پولیس نے جو وحشیانہ تشدد کیا وہ انتہائی شرمناک ہے اس سے ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھک گیا ہے ۔ قاضی حسین احمدنے کہا کہ عید کے روز صدام کو تختہ دار پر لٹا کر عراقی عوا م کی تذلیل کی گئی ہے صدام حسین پر مقدمہ چلانا تھا تو یہ عراقی عوام کاحق تھا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے شیعہ سنی کو آپس میں لڑایا جارہا ہے کردوں ‘ شیعہ اور سنیوں کی تقسیم کیلئے امریکہ تینوں گروہوں کو اشتعال دلا رہا ہے امریکہ واضح منصوبے کے تحت مسلمانوں کو آپس میں لڑ ا رہا ہے اور اب یہ کوئی چھپی بات نہیں انٹر نیٹ پر امریکی دانشوروں کے مضامین ہر آدمی دیکھ سکتا ہے جن میں واضح کیاگیا ہے کہ کس طریقے سے مسلمانوں کا مقابلہ کیا جائے وہ مسلمانوں کو اپنا مد مقابل قرار دیتے ہیں اور پوری دنیا میں اپنی تہذیب کونافذ کرنے اور سیاسی غلبہ قائم کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں ا ور کہتے ہیں کہ اس کے لئے امریکیوں کا خون بہانے کی ضرورت نہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے بش فوجوں کے ذریعے مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے اور امریکی دانشور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے منصوبے پیش کر رہے ہیں ۔