جنرل مشرف کی موجودگی میں عام انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتے . لیاقت بلوچ..پیپلز پارٹی نے اے پی سی کے فیصلوں سے انحراف کیا تو یہ آئین اور جمہوریت سے مذاق ہوگا . صحافیوں سے گفتگو

بدھ جنوری 15:23

لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین03جنوری2007 ) متحدہ مجلس عمل کے قائمقا م سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کے بعد پیپلز پارٹی نے اس سے انحراف کیا تو یہ آئین اور جمہوریت سے مذاق ہوگا ۔ جنرل مشرف کی موجودگی میں عام انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتے ۔ایم ایم اے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرے گی اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے باقاعدہ دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید الاضحی کے موقع پر منصورہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کا گرینڈ الائنس اب وقت کی ضرورت ہے اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کو فیصلہ کن موڑ دینے کیلئے حکومت مخالف جماعتوں کا گرینڈ الائنس انتہائی ضروری ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو واضح فیصلہ کرنا چاہیے کہ اس نے اپوزیشن کی تحریک کے ساتھ چلنا ہے یا پھر حکومتی کیمپ میں شامل ہونا ہے ۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کیساتھ ڈیل کی خبروں سے اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف آل پارٹیز کانفرنس سے قبل سٹیئرنگ کمیٹیاں بنا کر اپوزیشن جماعتوں کو پوری طرح اعتماد میں لیں ۔ اے پی سی کے فیصلوں کے بعد پیپلز پارٹی نے اس سے انحراف کیا تو یہ آئین اور جمہوریت سے مذاق ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پر حکومت پاکستان اپنے دو ٹوک موقف سے یوٹرن لے رہی ہے ۔

کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے ہٹنا اقوام متحدہ کی قرادادوں سے انحراف ہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ افغانستان کے بعد اب کشمیر پر یوٹرن لینے سے پاکستان کی سلامتی اور بقاء کو خطرات لا حق ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ عراق کے بعد ایران پر جارحیت کرنا چاہتے ہے مگر اسے یہ جارحیت بہت مہنگی پڑے گی ۔