نیپال میں نایاب نسل کے گینڈے غائب ہونا شروع ہو گئے

بدھ جنوری 21:13

کھٹمنڈو(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 3جنوری2007ء )نیپال میں بقائے ماحول کے کارکنوں نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ملک کے جنوب مغرب میں نایاب نسل کے درجنوں گینڈے لاپتہ ہوچکے ہیں۔حال ہی میں بردیا کے علاقے میں واقع نیشنل پارک میں پائے جانے والے گینڈوں کی گنتی کے بعد پتہ چلا ہے کہ وہاں ان کی تعداد صرف26رہ گئی ۔ خیال ہے کہ چار سال پہلے وہاں 83گینڈے ہوا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ چِتوان پارک میں بھی ایسی ہے صورتحال ہے جہاں2000ء میں500 سے زیادہ گینڈے تھے اب ان کی تعداد گھٹ کر 405 رہ گئی ہے۔شبہ ہے کہ غائب ہونے والے گینڈے غیرقانونی شکاریوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں کیونکہ اس ’یک سینگے‘ گینڈے کے سینگ کو بعض لوگ قوت باہ یا جنسی طاقت کے لیے مقوی سمجھتے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق ان میں سے بہت سے گینڈے سرحد پار بھارتی علاقے میں چلے گئے ہوں گے مگر نیپال کے ایک سینیئر ماہر جنگلی حیات فانیندر کھارل اس امکان کو مسترد کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

نیپال کے ایک اخبار کانتی پور کے مطابق فانیندر کے خیال میں اس بات کا قطعی امکان نہیں ہے کہ گینڈے سرحد پار کر گئے ہیں۔نیپال میں پائے جانے والے گینڈوں کو پچھلے دو عشروں کے دوران ملک کے وسط میں واقع چِتوان نیشنل پارک سے بردیا نیشنل پارک میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔منتقلی کے اس عمل کو گینڈے کی اس نایاب نسل کی بقا کے لیے اہم خیال کیا جاتا ہے۔

حکام کہتے ہیں کہ ملک میں طویل عرصے سے جاری ماوٴنواز مزاحمت کاروں نے غیرقانونی شکاریوں کو مواقع فراہم کیے کیونکہ ماوٴنواز باغیوں کے حملوں کے خدشے کے پیش نظر نیشنل پارک سے سیکیورٹی چوکیاں ختم کر دی گئی تھیں۔حکومت اور ماوٴنواز باغیوں کے مابین حال ہی میں طے پانے والے سمجھوتے کے بعد اب ان علاقوں میں ایک بار پھر سے حفاظتی چوکیاں قائم کی جا رہی ہیں۔