پاکستان میں نماز عید کے مختلف اجتماعات میں عراق کے معزول صدر صدام حسین کی مغفرت کی دعائیں

بدھ جنوری 22:22

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 3جنوری2007ء ) ) لاہور کے سبزہ زار کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب نے کہا کہ ’اللہ صدام حسین کی مغفرت کرے، اگلے جہان میں اس کے درجات بلندفرمائے اور ان کے دشمنوں کو تباہ و برباد کرے‘۔ اس مسجد میں نمازیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی اور خطیب نے نماز عید اور عربی میں خطبے کے بعد دعا کیدوران یہ بات کہی۔ اسی طرح لاہور کی مختلف مساجد میں عید الضحی کے اجتماعات میں صدام حسین کی پھانسی کی مذمت کی گئی، ان کی مغفرت کی دعائیں کی گئیں اور امریکہ کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے کہا کہ اس بارے میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے بھی اپیل کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صرف جے یوآئی سے تعلق رکھنے والے علماء اکرام نے لاہور میں چھ سو کے قریب اجتماعات میں صدام حسین کی ہلاکت کی مذمت میں قرار دادیں منظور کی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

لاہور کی مختلف مساجد میں عید الضحی کے اجتماعات میں صدام حسین کی پھانسی کی مذمت کی گئی، ان کی مغفرت کی دعائیں کی گئیں اور امریکہ کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا گیا مولانا امجد خان نے لاہور کے ایبٹ روڈ پر نماز عید کے اجتماع سے خطاب کیا اس دوران انہوں نے کہا کہ ’صدام حسین کی پھانسی میں عالمی انصاف اور مسلمان ملکوں کے سربراہوں کے لیے ایک چیلنج بھی ہے، ایک پیغام بھی کہ انہیں بھی صدام کی طرح استعمال کرنے کے بعد اسی حشر سے دوچار کیا جاسکتا ہے‘۔

امجد خان نے کہاکہ انہوں نے مغفرت کی دعا بھی کرائی تھی۔صدام حسین کی مغفرت کی دعائیں صرف سنی مسلک کی مساجد میں کی گئیں شیعہ مسلک کی مساجد میں اس بارے میں زیادہ تر خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کے علاوہ سنیوں کی مساجد کی ایک ایسی تعداد بھی تھی جہاں صدام حسین کا ذکر نہیں ہوا۔ مصری شاہ اچھوپورہ کے رہائشی عماد فاروق نے بتایا کہ جامع مسجد غوثیہ مصری شاہ میں صدام حسین کا کوئی ذکر نہیں ہوا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ مسجد سرکاری محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے اس لیے یہاں عام طور سیاسی باتوں سے گریز کیا جاتا ہے۔ صدام حسین کی ہلاکت کے خلاف سنی مسلمانوں کی سیاسی تنظیم جمعیت علمائے پاکستان نے پانچ جنوری کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

متعلقہ عنوان :