یورپی پارلیمنٹ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے حل میں موثر کر دار ادا کرے , صدر مشرف ۔۔ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت کے ذریعے پر امن طریقے سے حل کر نا چاہتا ہے , شوکت عزیز

بدھ جنوری 22:44

راولپنڈی +اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 3جنوری2007ء ) ) صدر جنرل پرویز مشرف نے یورپی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے حل میں موثر کر دار ادا کرے , صدر نے یہ بات راولپنڈی میں یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئر مین ایلمر بروک اور کشمیر کے بارے میں آل پارٹیز گروپ کے چیئر مین جیمز ایلف سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔

صدر مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں یورپی پارلیمنٹ کی دلچسپی کوسراہا اور توقع ظاہر کی کہ پارلیمنٹ کشمیر کے بارے میں متوازن اور دور اندیشی پر مبنی رپورٹ اختیار کرے گی صدر مشرف نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر ان کی تجاویز کی روشنی میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قا ئم ہو سکے ۔ملاقات میں افغانستان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی صدر مشرف نے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے بین الاقوامی برادری کے تعاون پر زور دیا صدر نے یورپی پارلیمنٹ سے کہاکہ وہ مسئلہ فلسطین کے حل میں کر دار ادا کرے تاکہ مشرق وسطی میں پائیدار امن قائم ہو ۔

(جاری ہے)

صدر مشرف نے کہاکہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے انہوں نے یورپی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کی ضرورت زور دیا تاکہ ملک میں معاشی ترقی کا تسلسل برقرار رہے اور غربت اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جاسکے , وفد کے ارکان نے خطے کے امن و سلامتی میں پاکستان کے کر دار کی تعریف کی اور یورپی پارلیمنٹ کے پاکستان کے ساتھ قریبی اوروسیع تر تعاون پر مبنی تعلقات قائم کر نے کی خواہش کا اظہار کیا دریں اثناء یورپی پارلیمنٹ سے باتیں کر تے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہاکہ یورپی پارلیمنٹ کو مسئلہ کشمیر کے حل میں بامعنی کر دار ادا کرنا چاہیے ۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل بات چیت کے ذریعے پر امن طریقے سے حل کر نا چاہتا ہے ۔ملاقات میں افغانستان , ایران اور مشرق وسطی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا یورپی پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئر مین ایلمر بروک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے حل کی ضرورت پر زور دیا ۔