آئندہ انتخابات سے قبل تمام سیاسی اتحادوں کی شکل تبدیل ہو جائیگی ۔ شیخ رشیداحمد ۔۔بے نظیر بھٹو وطن واپس آ سکتی ہیں لیکن انہیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ معاہدہ کے تحت نواز شریف ملک میں واپس نہیں آسکتے ۔ وفاقی وزیر ریلوے کا پریس کانفرنس سے خطاب

اتوار جنوری 17:44

کراچی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین07جنوری2007 ) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ آئندہ الیکشن سے پہلے تمام سیاسی اتحادوں کی شکل تبدیل ہو جائے گی‘ بے نظیر بھٹو کو وطن واپس آ کر مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ نواز شریف معاہدے کے تحت وطن واپس نہیں آ سکتے اور اگر وہ واپس آئے تو انہیں سعودی عرب بھیج دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو مقامی ہوٹل میں نئی ٹرین جناح ایکسپریس کے حوالے سے کی جانے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر جنرل منیجر پاکستان ریلوے اسد سعید، ڈویژنل سپرینڈنٹ کراچی میر محمد خاصخیلی ، ڈویژنل کمرشل افسر طاہر حسین و دیگر بھی موجود تھے۔ ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف موجودہ اور آنے والی دونوں اسمبلیوں سے خود کو آئندہ مدت کیلئے صدر منتخب کرا سکتے ہیں لیکن امکان یہی ہے کہ صدر موجودہ اسمبلی سے خود کو دوبارہ منتخب کرائیں گے۔

(جاری ہے)

ایک مزید سوال پر شیخ رشید احمد نے کہا کہ قاضی حسین آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گے تو انہیں دن میں تارے نظر آئیں گے۔ عمران خان کی سیاسی کوئی حیثیت نہیں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کوئی کھسیانی بلی کھمبہ نوچے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اعتبار سے آئندہ 3 ماہ بہت اہم ہیں جس کے دوران میں ایم ایم اے کی نئی صورت سامنے آئے گی اور اس میں سے بعض جماعتیں الگ ہوں گی۔

انہوں نے نئی ٹرین جناح ایکسپریس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرین پیر کی سہہ پہر ساڑھے 3 بجے کراچی سے راولپنڈی روانہ ہوگی اور یہ اے سی پارلر ٹرین ہوگی جس کا کرایہ 2 ہزار روپے ہوگا اس میں 540 برتھیں ہوں گی اور 20 سال بعد یہ پہلی ٹرین ہوگی جس میں کافی شاپ، ڈائینگ کار کے علاوہ نماز پڑھنے کی سہولت بھی موجود ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ کی لاگت سے کراچی کینٹ اور سٹی اسٹیشنوں کو ماڈل اسٹیشن بنایا جا رہا ہے اور یہ کام آئندہ انتخابات سے قبل مکمل کر لیا جائے گا اس کے علاوہ کراچی کینٹ تا لانڈھی ریلوے لائن کی دونوں جانب بانڈری لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ پاکستان ریلوے کی زمینوں پر قابض لوگوں کو صوبائی اور شہری حکومت کے تعاون سے ہٹا کر ریلوے لائن کی ایک سو فٹ کی جگہ کو خالی کرایا جائے گا تاکہ مجوزہ پاک ایران گیس پائپ لائن ریلوے لاء کے ساتھ واقع جگہ پر ڈالی جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ بانڈری وال نہ ہونے کے سبب کراچی میں ایک سال کے دوران ایک سو سے زائد افراد ریلوے حادثات میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کی جانب سے فراہم کردہ 970 ملین روپے سے ملک کے 8 شہروں میں سرکلر ریلوے اور ماس ٹرانزٹ پروگرام شروع ہوگا جس کیلئے ریلوے کو منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 20 ملین افراد نے ریلوے کے ذریعے سفر کیا ہے۔

شیخ رشید نے بتایا کہ رن پٹھانی کا متاثرہ حصہ درست ہو چکا ہے جس پر جلد ٹرینوں کی آمد و رفت شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کینٹ پر 3 نئے پلٹ فارم بنائے جارہے ہیں اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں نئی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں جس کے بعد مسافروں کا وقت بچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے پاک بھارت کے درمیان چلائی جانے والی تھر ایکسپریس پر دو ارب روپے خرچ کیے ہیں اب یہ بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق 6 ماہ تک تھر ایکسپریس چلائے تھر ایکسپریس کو دوبارہ بحال کرنے میں بھارت کی جانب سے تاخیر ہو رہی ہے۔

ایک مزید سوال پر شیخ رشید احمد نے کہا کہ ادارے میں ٹریڈ یونین سرگرمیاں بحال نہیں کی جا سکتی ہیں کیونکہ یہ چیز انہیں جہیز میں ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک وہ 12 نئی ٹرین چلا چکے ہیں اس کے علاوہ فریٹ ایکسپریس بھی آئندہ دو ماہ میں شروع ہوجائے گی۔