پیپلزپارٹی کی جانب سے وزیراعظم کی امیدوار ہوں،بے نظیر،حالات کچھ بھی ہوں عام انتخابات سے قبل واپس آؤں گی،نواز شریف کیساتھ اختلافات ماضی کا حصہ بن گئے،اب بہتر ورکنگ ریلیشن شپ ہے،طالبان کو پیپلز پارٹی نے مضبوط نہیں کیا،امریکہ بھارت جیسی مراعات پاکستان کو بھی دے،بھارتی ٹیلی ویژن کو انٹرویو

پیر جنوری 12:36

دبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8جنوری۔2007ء) پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے آئندہ وزیراعظم کی امیدوار ہوں گی،آئندہ انتخابات سے قبل ملک واپس جاؤں گی نتائج خواہ کچھ بھی ہوں،ماضی میں نواز شریف کے ساتھ اختلافات تھے اب اچھی ورکنگ ریلیشن شپ ہے،طالبان کو پیپلز پارٹی نے مضبوط نہیں کیا،امریکہ بھارت جیسی مراعات پاکستان کو بھی دے،مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک بھارتی ٹیلی ویژن کو انٹرویو کے دوران کیا۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کی طرف سے آئندہ وزیراعظم کے عہدے کیلئے امیدوار ہوں گی کیونکہ عوام انہیں وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وہ انتخابات سے قبل پاکستان جائیں گی خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ بے نظیر نے کہا کہ وہ 2002ء میں پاکستان جانے والی تھیں حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر پیپلز پارٹی الیکشن جیتے گی تو وہ رکاوٹ نہیں بنے گی انہوں نے کہا کہ ماضی میں نواز شریف کے ساتھ ان کے اختلافات تھے لیکن اب اچھی ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہوچکی ہے۔

آئندہ حقیقی جمہوریت کی بحالی کیلئے مل کر کام کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں بے نظیر بھٹو نے کہا کہ طالبان کو انہوں نے مضبوط نہیں بنایا پیپلز پارٹی کے در میں وہ ایک قومی تحریک تھی لیکن اس کے جانے کے بعد وہ القاعدہ میں ضم ہوگئی اور شدت پسندی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اب طالبان دہشت گرد بن چکے ہیں۔ حکومت کی کشمیر پالیسی کے حوالے سے بے نظیر بھٹو نے کہا کہ اب یہ وقت بتائے گا کہ یہ کس قدر کامیاب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک بڑی قوت ہے اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات اہم ہیں بے نظیر بھٹو نے مطالبہ کیا کہ امریکہ نے جو مراعات بھارت کو دی ہیں وہی پاکستان کو دی جائیں تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہ سکے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پرامن طریقے سے حل ہونا چاہئے اور اس میں کشمیریوں کی مرضی شامل ہونی چاہئے۔