Live Updates

پارلیمنٹ سے استعفوں کا معاملہ مکمل طور پر ختم ہو گیاہے،مولانافضل الرحمن،ایم ایم اے کی صدارت میں تبدیلی آ سکتی ہے ،مجلس عمل متحد ہے اور آئندہ عام انتخابات ایک پلیٹ فارم سے ہی الیکشن میں ضرور حصہ لے گی، آئندہ الیکشن جنرل مشرف کی موجودگی میں کوئی پہلا الیکشن نہیں ہو گا،ہم جمہوریت پسند ہیں انتخابات میں پیچھے نہیں رہ سکتے،نواز شریف کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ مل گیا‘شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ مرکزی قیادت کریگی‘مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل کی صحافیوں سے گفتگو

پیر جنوری 22:10

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15جنوری۔2007ء) متحدہ مجلس عمل کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے ایم ایم اے کی جانب سے پارلیمنٹ سے استعفوں کا معاملہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے ،ایم ایم اے کی صدارت میں تبدیلی آ سکتی ہے تاہم اس کو کسی واقعے سے جوڑنا غلط ہو گا ،ایم ایم اے متحد ہے اور آئندہ عام انتخابات ایک پلیٹ فارم سے ہی لڑیگی،آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ مل گیا ہے تاہم شرکت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایم ایم اے کی مرکزی قیادت ملکر کریگی‘آئندہ الیکشن جنرل مشرف کی نگرانی میں ہونے والے کوئی پہلا الیکشن نہیں ہے،ہم جمہوریت پسند اور انتخابی سیاست پر یقین رکھنے والے ہیں اس لئے ہم الیکشن سے پیچھے نہیں ہو سکتے‘الیکشن کا بائیکاٹ بارے فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کرنا ہو گا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز جے یو آئی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات کی والدہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایم ایم اے کی جانب سے پارلیمنٹ سے استعفوں کا ایشو مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سال 2007ء الیکشن کا سال ہے اس لئے کارکن الیکشن کی تیاری کریں انہوں نے کہا کہ ہم فرشتے نہیں ہیں اور نہ ہی ہم نے کبھی ایسا کوئی دعویٰ کیا ہے ہم سے غلطیاں بھی ہوئی ہونگی لیکن ہم امت مسلمہ کی طرف سے عالمی استعمار کا مقابلہ کر رہے ہیں اور امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کرنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں تا ہم موجودہ حکمران کھلتے جا رہے ہیں جو ملکی ،مذہبی اور اسلامی ثقافت کو مسخ کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور بانی پاکستان کے فرمودات کو بھی سرکاری میڈیا پر کچھ اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جیسے وہ ایک سیکولر تھے انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران نصاب تعلیم سے ہر وہ مضمون اور باب نکال دینا چاہتے ہیں جو انگریزوں یا عالمی استعمار کے خلاف ہو ۔

لیکن ہم پاکستان کو ایک سیکولر ملک بننے نہیں دینگے انہوں نے کہا کہ ہم نے شمالی وزیرستان میں امن معاہدہ کرتے ہوئے امن قائم کرنے کی کوشش کی جبکہ انہوں نے باجوڑ پر بمباری کر لی دراصل ان کے نزدیک جہاد دہشت گردی ہے یہ عراق اور افغانستان میں مختلف وجوہات کی بناء پر مسلمانوں کو تقسیم کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ الیکشن میں ضرور حصہ لینگے کیونکہ یہ جنرل پرویز مشرف کی نگرانی میں ہونے والے کوئی پہلا الیکشن نہیں ہے اور ہم جمہوریت پسند اور انتخابی سیاست پر یقین رکھنے والے ہیں اس لئے ہم الیکشن سے پیچھے نہیں ہو سکتے ۔

تا ہم جہاں تک الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا تعلق ہے تو یہ فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر ہی کرنا ہو گا کوئی بھی جماعت اکیلے یہ فیصلہ نہیں کر سکتی انہوں نے کہا کہ ان کو مسلم لیگ (ن) کی اے پی سی میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے تا ہم اس میں شرکت کرنے کے حوالے سے فیصلہ ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے کیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ مجلس عمل کی ہر دو سال کے بعد تنظیم نو کی جاتی ہے جو صوبوں میں ہو چکی ہے جبکہ مرکز میں ہونے والی ہے اس لئے اگر قاضی حسین احمد کی جگہ کسی اور کو ایم ایم اے کا صدر بنایا جا رہا ہے تو اس کو کسی بھی دوسرے واقعے کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں ہو گا ۔

کیونکہ یہ معمول کی بات ہے اور ہم 6 جماعتیں ہر حال میں ایک ہی رہیں گے انہوں نے کہا کہ نوشہرہ میں جماعت اسلامی کے جلسہ میں بم دھماکہ قابل مذمت ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں اور ہم کو ان کا انتظار ہے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں جنرل پرویز مشرف کے جلسے کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ عوام کو ان کے بارے میں جاننے کا موقع مل گیا ہے جبکہ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے جلسے میں جن ترقیاتی کاموں کے اعلانات کئے ہیں ان پر پہلے ہی سے کام جاری ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے لا علم ہے اس موقع پر انہوں نے عبدالجلیل جان کے والد اور بھائیوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی کی ۔
مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کا اعلان سے متعلق تازہ ترین معلومات