غیر فعال کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت جمعے تک ملتوی کردی گئی۔۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے اوپر لگائے جانے والے تمام تر الزامات مستر د کر دیئے‘ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل پر شدید اعتراضات۔۔ سیاسی رہنماء اور وکلاء صبر کا دامن نہ چھوڑیں‘ امن و امان خراب نہ کریں اور احتیاط سے اقدامات اٹھائیں‘جسٹس افتخار محمد چوہدری

منگل مارچ 16:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 13مارچ 2007 ء ) اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 13مارچ 2007 ء ) سپریم جوڈیشل کونسل نے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس کی سماعت جمعہ کی سہہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دی ہے ، جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے پیش ہونے والے وکلاء کے پانچ رکنی پینل نے کونسل کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ریفرنس کی سماعت سے قبل کونسل کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جانا چاہیے ،سماعت کے بعد جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بتایاکہ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس کی سماعت شروع کی تو وکلاء صفائی کے پانچ رکنی پینل نے سپریم جوڈیشل کونسل کی قانونی حیثیت پر اعتراض اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ پہلے اس کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے ، وکلاء کے پینل میں اعتزاز احسن ، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود ، منیر اے ملک ، حامد خان اور علی محمدکرد شامل تھے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا جائے کہ آیا سپریم جوڈیشل کونسل قانونی تقاضوں پر پوری اترتی ہے اس موقع پر غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل تین ججوں پر اعتراضات اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ ان کی موجودگی میں مجھے انصاف کی توقع نہیں ، وکلاء صفائی کے پینل کے رکن جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بتایا کہ چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کو آگاہ کیا کہ ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی آرمی ہاؤس میں اور رہائش گاہ پر قید رکھا گیا ، حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان پیش ہوئے جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کے مطابق حکومتی وکیل کی طرف سے وکلاء صفائی کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف الزامات کی فہرست دینے کی کوشش کی گئی تاہم وکلاء صفائی نے اس بنیاد پر اسے وصول نہیں کیا کہ پہلے سپریم جوڈیشل کونسل کی قانونی حیثیت کا تعین ہونا چاہیے جب باقاعدہ سماعت شروع ہوگی تو پھر الزامات کی فہرست وصول کی جائے گی ، طارق محمود نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے منگل کے روز ریفرنس کے حوالے سے میڈیا پر پابندی یا ذرائع ابلاغ سے وکلاء کی بات چیت پر پابندی کا کوئی حکم جاری نہیں کیا ۔

(جاری ہے)

ریفرنس کی سماعت تقریبا 45منٹ تک جاری رہی ، جس کے بعد سماعت جمعہ کی سہہ پہر تین بجے تک ملتوی کردی گئی ، سپریم کورٹ کے غیر فعال کئے گئے چیف جسٹس ، جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو ایک مرتبہ پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بے بنیاد ہیں اور وہ مستعفی نہیں ہونگے بلکہ وہ اپنے دفاع کیلئے تیار ہیں اوراپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، جن ججز کے خلاف ریفرنس کی تیاری کر رہا تھا انہی کو سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل کیا گیا ہے ، بعض ججز مجھ سے ذاتی عناد رکھتے ہیں، وکلاء صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور پر امن رہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں سپریم کورٹ آمد کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور قبل ازیں بلوچستان ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا جبکہ غیر فعال چیف جسٹس ،جسٹس افتخار محمد چوہدری جب سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنے خلاف ریفرنس کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ پہنچے تو اس موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی جنہوں نے ان کی گارکو گھیرے میں لے لیا اور حکومت کے خلاف اور ان کے حق میں زبردست نعرے بازی کی ۔

اس سے قبل جسٹس افتخار محمد چوہدری سرکاری گاڑی میں سپریم کورٹ لایا گیا،جسٹس افتخار اپنی رہائش گاہ سے سپریم کورٹ پیدل جانا چاہتے تھے اور انہوں نے سرکاری گاڑی میں سپریم کورٹ جانے سے انکار کردیا تھا جبکہ بعد ازاں سپریم کورٹ آمد پر غیر فعال چیف جسٹس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جن ججز کے خلاف ریفرنس کی تیاری کر رہے تھے انہی کو سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل کیا گیا ہے جبکہ کونسل میں بعض ججز ان سے ذاتی عناد رکھتے ہیں۔

انہوں نے وکلاء پر زور دیا کہ وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور پر امن رہیں ۔ غیر فعال چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ان کے گھر کے ملازمین اور دیگر سٹاف کو اغواء کر لیا گیا ہے اور ان سے گاڑیاں و رہائش گاہ بھی چھین لی گئی ہے جبکہ ٹیلی فون ، موبائل فون وغیرہ کی سہولت بھی چھین لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے دفتر سے اہم فائلیں او رریکارڈ وغیرہ غائب کر کے دفتر کو سیل کر دیا گیا ہے ۔

قبل ازیں جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ افتخار محمد چوہدری کا موقف ہے کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے بعض جج صاحبان کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہتے یہ باتیں انہوں نے اپنی رہائش گاہ سے بلوچستان ہاؤس پہنچنے کے موقع پر کیں جس کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کی اہلیہ کے ہمراہ بلوچستان ہاؤس سے واپس ان کی سرکاری رہائش گاہ پر پہنچا دیا گیا۔

اس دوران پولیس نے انہیں بلوچستان ہاوٴس منتقل کردیاجہاں سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے ان سے ملاقات کی اور انہیں سرکاری گاڑی میں سپریم کورٹ جانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔جبکہ بعد ازاں انہیں سپریم کورٹ لایا گیا جہاں وہ سپریم کورٹ کی عمارت میں پہنچتے ہی اپنی کار سے باہر نکل آئے اور کہا کہ وہ پیدل جائیں گے۔ اس دوران غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ان کے اوپر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرنے کیلئے تیار ہیں اور وہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے خود بعض جج صاحبان کے خلاف ریفرنس تیار کر رہے تھے جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے غیر فعال چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس کی باقاعدہ سماعت میں منیر اے ملک ، اعتزاز احسن ، حامد خان اور طارق محمود پر مشتمل وکلاء کا چار رکنی پینل جوڈیشل کونسل میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کا دفاع کر رہا ہے۔

کونسل کے اجلاس کی صدارت قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کر رہے ہیں جبکہ سماعت آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کی گئی۔ سپریم جودیشل کونسل کے جج میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر ، جسٹس سردار ایم رضا خان ، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد شامل ہیں ۔منگل کے روز سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی جو تقریباً 4 بجے شام ختم ہوئی دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان فخر الدین جی ابراہیم نے سرکاری ریفرنس میں جسٹس افتخار کے خلاف ریفرنس میں سرکاری پیروی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

جسٹس افتخار محمد کی سپریم کورٹ آمد کے وقت بڑی تعداد میں اپوزیشن رہنما بھی موجود تھے جن میں مسلم لیگ ن سے راجہ ظفرالحق،متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد، جنرل سیکریٹری مولانا فضل الرحمن، لیاقت بلوچ، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان شامل ہیں۔ ریفرنس کی سماعت کے موقع پر اسلام آباد میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔پارلیمنٹ لاجز کالونی اور سپریم کورٹ کے اطراف بھی سیکورٹی اہلکار تعینا ہیں جو وکلاء کو سپریم کورٹ کی جانب بڑھنے سے روکتے رہے۔