پاکستان بار کونسل کی اپیل پر ملک بھر میں وکلاء نے یوم سیاہ منایا،چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو غیر فعال کئے جانے کیخلاف کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، راولپنڈی، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج، بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں، عدالتوں کا بائیکاٹ،کراچی میں سٹی اور ہائیکورٹ میں وکلاء نے سیاہ جھنڈے لہرائے، جوڈیشل بلاک پر تالے، حیدر آباد، ڈسکہ، ساہیوال، چشتیاں میں وکلاء کے احتجاجی جلوس، سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا

منگل مارچ 19:21

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13مارچ۔2007ء ) پاکستان بار کونسل کی اپیل پر منگل کے روز وکلاء نے ملک بھر میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو غیر فعال بنائے جانے کیخلاف یوم سیاہ منایا۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، راولپنڈی، ا سلام آباد سمیت ملک بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جس کے باعث سائلین کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، کراچی میں سٹی کورٹ اور ہائیکورٹ میں وکلاء نے سیاہ جھنڈے لہرائے اوربازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں، جوڈیشل بلاک کے داخلی دروازوں پر تالے لگا دیئے گئے، سٹی کورٹ میں کراچی بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں صدارتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی لاہور، کوئٹہ، پشاور، راولپنڈی اوراسلام آباد میں بھی منگل کے روزعدالتوں میں ہڑتالی کیفیت رہی حیدر آباد کے وکلاء کی جانب سے یوم سیاہ کے موقع پر وکلاء نے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا مقدمات کی پیروی کیلئے وکلاء کے پیش نہ ہونے کے باعث سندھ ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں مقدمات کی سماعت نہ ہو سکی۔

(جاری ہے)

یوم سیاہ کے موقع پر وکلاء نے احتجاجاً بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں اور ہائیکورٹ سے حیدر آباد پریس کلب تک احتجاجی جلوس نکالا جس کی قیادت ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی عبدالستار، جنرل سیکرٹری اللہ بچایو سومرو، سندھ بارکونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین فضل قادر میمن ایڈووکیٹ نے کی۔ ریلی کے اختتام پر ریلی میں شریک وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے ہائیکورٹ بارکے صدر قاضی عبدالستار ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء نے کامیاب ہڑتال کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وکلاء برادری متحد ہے۔

ڈسکہ بار نے کچہری کے دروازوں، عدالتوں اور بار روم پر سیاہ پرچم لہرا کر اور وکلاء نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر چیف جسٹس آف پاکستان کو غیر فعال بنائے جانے پر یوم سیاہ منایا اور صدر بار جمیل اختر چوہدری، سیکرٹری بار رانا خالد عباس کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالا جو کچہری سے کچہری روڈ، میلاد چوک سے ہوتا ہوتا ایس ڈی پی او دفتر کے راستے واپس کچہری میں پرامن طور پر ختم ہوگیا۔

جبکہ ساہیوال میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینکڑوں وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالا سیاہ پرچم لہرائے اوروکلاء نے اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔ بار روم سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینکڑوں وکلاء نے بہت بڑا جلوس نکالا جو ضلع کچہری سے شروع ہو کر تحصیل روڈ، ریلوے روڈ، ہاکی سٹریٹ، صدر بازار، جناح چوک اور دوسرے بازاروں سے ہوتا ہوا ضلع کچہری پہنچا۔

جبکہ چشتیاں کے وکلاء نے جنرل مشرف کے فیصلہ کے نتیجہ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کو غیر فعال کئے جانے اور نظر بند کرنے کیخلاف احتجاجی جلوس نکالا اورجنرل پرویز مشرف کیخلاف زبردست نعرے بازی کی۔ چوک بخاری میں سابق صدور بار ایسوسی ایشن چشتیاں شیخ راشد، عبداللہ اور چوہدری حسن مرتضیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنرل مشرف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرح چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کو بھی غیر آئینی طریقے سے غیر فعال اورنظربند کر کے اپنے اقتدار کو طول دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔

جبکہ فتح جنگ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے چیف جسٹس آف پاکستان کو غیر فعال کرنے کے سلسلہ میں عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا۔ عدالتوں میں جزوی ہڑتال کا سماں تھا بار ایسوسی ایشن کے صدر حبیب انورخان نے بتایا کہ چیف جسٹس کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں مقدمہ چل رہا ہے ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جبکہ بار ایسوسی ایشن سماہنی نے پاکستان بار کونسل کی اپیل پر یوم سیاہ مناتے ہوئے عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھا۔

کوہاٹ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام احتجاجی جلوس نکالا گیا اوردھرنا دیا گیا حکومتی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گی۔ جلوس کے شرکاء نے سیاہ جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ صدر بارایسوسی ایشن عبدالرؤف کی زیر قیادت کوہاٹ کچہری سے نکل کر چوک شہداں سے ہوتا ہوا مین بازار اور تحصیل گیٹ پہنچا جلوس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر وکلاء عبدالرؤف ایڈووکیٹ، شیر نواز ایڈووکیٹ، محمد آصف بنگش ایڈووکیٹ، اورنگزیب ایڈووکیٹ، مظاہر حسین ایڈووکیٹ اور دیگر نے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کی۔