سپریم جوڈیشل کونسل غیر آئینی ہے، بعض جج مجھ سے ذاتی عداوت رکھتے ہیں، افتخارمحمد چوہدری،میرے خلاف کارروائیاں عدالتی روایات کیخلاف ہیں، بچوں کو سکول، کالج اور یونیورسٹی جانے کی اجازت نہیں، میرے ساتھ جو سلوک کیا گیا ہے اس کی بنا پر سپریم جوڈیشل کونسل پر عدم اعتماد کرتا ہوں، غیر فعال چیف جسٹس کا صدارتی ریفرنس کے موقع پر پہلا تحریری بیان

منگل مارچ 22:08

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13مارچ۔2007ء) غیرفعال چیف جسٹس نے منگل کے روز صدارتی ریفرنس میں پیشی کے موقع پر اپنے تحریری بیان میں کہا کہ انہیں چیف جسٹس اور جج کے عہدہ سے معطل کیے جانے کا حکم واپس لیا جائے کیونکہ یہ غیر آئینی ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا کہ وہ نو مارچ کی شام سے اپنے تمام اہل خانہ بشمول ایک سات سالہ بیٹے کے نظر بند ہیں اور ان کے سرکاری گھر پر پولیس اور دوسری ایجنسیوں نے محاصرہ کیا ہوا ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔

بیان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی از سر نو تشکیل کی جائے اور اس میں سے ان ارکان کو نکالا جائے جن پر انہیں اعتراضات ہیں، اس ریفرنس کی کھلے عام سماعت کی جائے اور انہیں ضروری دستاویزات اور سپریم جوڈیشل کونسل کے قواعد مہیا کیے جائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے انہیں چیف جسٹس کے طور پر کام کرنے سے روک دیا حالانکہ واقعات کی تحقیقات کرنے والے کسی کمیشن یا کونسل کو یہ اختیارات حاصل نہیں کیونکہ کونسل عدالت کے اختیارات کی حامل نہیں ہوتی۔

افتخار چودھری نے کہا کہ ان کے استعمال کی گاڑیاں لفٹر کے ذریعے اٹھا کر لے گئے ہیں اور ان میں سے ایک گاڑی واپس لاکر رکھ دی گئی ہے لیکن وہ چابیوں کے بغیر۔ انہوں نے کہاکہ ان کے ساتھ کام کرنے والا سپریم کورٹ کا عملہ لاپتہ ہے اور انہیں کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔انہوں نے خدشہ اظہار کیا کہ ان کے عملہ کو نظر بند رکھا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف ثبوت گھڑے جاسکیں۔

خط میں چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ عدالت عظمٰی میں ان کے چیمبر سربمہر کردیا گیا ہے اور نئے مقرر کردہ رجسٹرار کی نگرانی میں ان کی فائلیں فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سپرد کردی گئی ہیں۔ انہوں نے اپنے مبینہ بیان میں کہا کہ یہ کاروائیاں تمام عدالتی روایات کے خلاف ہیں اور یہ کہ چیف جسٹس ہونے کے ناطے ان کا حق ہے کہ وہ اپنا چیمبر اور عملہ استعمال کرسکیں۔

ان کے مطابق جسٹس راجہ فیاض احمد کو ان سے ملاقات کے بغیر واپس جانا پڑا اور یہی سلوک جسٹس (ریٹائرڈ) منیر اے شیخ کے ساتھ کیا گیا۔انہوں نے کہا ہے کہ ان کے بچوں کو سکول، کالج اور یونیورسٹی جانے کی اجازت نہیں۔ مجھے ٹیلی فون، کیبل اور ڈی ایس ایل لائن میسر نہیں۔ وہ اور ان کے اہل خانہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں جیسے ڈاکٹر سے بھی محروم ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ مجھے ریفرنس کے حقائق اور قانونی نکات پر بحث کے لیے وکلاء میسر نہیں۔

میں یہ بات دس مارچ کو نوٹس کے موقع پر بھی کہہ چکا ہوں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ان سے جو سلوک کیا گیا ہے اس کی بنا پر وہ سپریم جوڈیشل کونسل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں اس سے منصفانہ تحقیقات کی توقع نہیں ہے خصوصاً کونسل کے چئیرمین اور اس کے دو ارکان سے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کونسل مناسب طور پر تشکیل نہیں دی گئی۔

افتخار محمد چودھری نے لکھا ہے کہ یہ ریفرنس نعیم بخاری کے کھلے خط پر مبنی ہے جس کی وسیع پیمانے پر تشہیر ہوچکی ہے اس لیے بھی ان کے ریفرنس کی کھلی عام سماعت ضروری ہے اور وہ رضا کارانہ طور پر خود کو کھلی سماعت (پبلک انکوائری) کے لیے پیش کرتے ہیں۔اپنے عدم اعتماد کی وجوہ بیان کرتے ہوئے افتخار محمد چودھری نے لکھا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال کو آئین کے آرٹیکل ایک سو اسی کی خلاف ورزی میں قائم مقام چیف جسٹس بنایا گیا ہے کیونکہ قائم مقام چیف جسٹس جب ہی مقرر کیا جاسکتا ہے جب چیف جسٹس دماغی اور جسمانی طور پر معذور ہو اور یہ عہدہ خالی ہوگیا ہو جبکہ موجودہ صورتحال میں ایسا نہیں تھا اس لیے جاوید اقبال کو حلف نہیں لنیا چاہیے تھا۔

افتخار چودھری نے لکھا ہے کہ اگر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت ہورہی ہو تو عدالت عظمی کا ان کے بعد سینئیر ترین جج ہی سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ ہوسکتا ہے جو کہ جسٹس بھگوان داس ہیں اور بائیس مارچ سنہ دو ہزار سات تک تعطیل پر ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں کونسل کا اجلاس بلانے کی کوئی ہنگامی ضرورت نہیں تھی کہ خصوصی طیارے کے ذریعے دو چیف جسٹوں کو اسلام آباد لایا گیا اور دفتری اوقات کے بعد کونسل کا اجلاس منعقد کیا گیا۔

انہوں نے اپنے مبینہ خط میں لکھا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے جسٹس جاوید اقبال سے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لیا حالانکہ یہ عہدہ خالی نہیں تھا اس لیے انہوں نے خود کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر نااہل کرلیا ہے اور وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن کے طور پر کام نہیں کرسکتے۔افتخار چودھری نے لکھا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک درخواست زیرِالتوا ہے جس میں ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے شاہ لطیف یونیورسٹی خیر پور میں وائس چانسلر کے ساتھ مل کر مالی بدعنوانی کی۔

یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے ریکارڈ میں موجود ہے۔انہوں نے اپنے ہم نام اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے بارے میں لکھا ہے کہ ان خلاف نازیبا رویہ کی ایک سے زیادہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے زیر التوا ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال اس بات سے باخبر ہیں کیونکہ یہ فائلیں جانچ پڑتال کیلیے ان کی تحویل میں ہیں اس لیے افتخار حسین چودھری بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں نہیں بیٹھ سکتے۔

چیف جسٹس افتخار چودھری کا کہنا ہے کہ افتخار حسین چودھری ان سے سخت ذاتی عداوت رکھتے ہیں جو سب کو معلوم ہے کیونکہ انہوں نے ان کے سفارش کردہ وکیلوں اور عدالتی افسروں کو لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا تھا۔انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے اگست سنہ دو ہزار پانچ میں چیف جسٹس افتخار حسین کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی اہم وجوہ کی بنا پر مخالفت کی تھی جس کو یہاں ظاہر نہیں کیا جاسکتا البتہ وہ خط ریکارڈ سے حاصل کیا جاسکتا ہے اگر ریکارڈ میں تبدیلی نہ کردی گئی ہو کیونکہ ان کے کمرے سے فائلیں نکال لی گئی ہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کی ایک دوسرے سے بول چال تک بند تھی اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے خود ان سے تمام تعلقات حتی کہ ورکنگ ریلشنشپ بھی توڑ لی تھی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ انہیں افتخار حسین چودھری کی کونسل کے رکن ہونے پر شدید اعتراض ہے او روہ ان سے کسی انصاف کی توقع نہیں رکھتے اور مطالبہ کیا ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے انہیں کونسل سے خارج کیا جائے۔

چیف جسٹس نے مبینہ خط میں لکھا ہے کہ وہ ریفرنس کی سماعت کے دروان میں الزامات کے جواب دیتے ہوئے کوئی نیا اعتراض اٹھانے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ انہیں کوئی دستاویز فراہم نہیں کی گئی ہے اور نہ وکلا سے مشاورت کی اجازت دی گئی ہے اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں زبانی اور تحریری شہادتوں کی تلخیص فراہم کی جائے۔چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ اپنے جواب میں دستاویزات کی فہرست فراہم کریں گے جو سپریم جوڈیشل کونسل منگوائے کیونکہ انہیں ان تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے لکھا ہے کہ نوٹس کے مندرجات سے اشارہ ملتا ہے کہ کونسل کی کارروائی بند کمرہ میں ہوگی اور چونکہ ان کا موقف ہے کہ ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اس لیے ان کے وقار کی بحالی کے لیے وہ ایک کھلی سماعت کو ترجیح دیں گے اور چاہیں گے کہ ساری دنیا ان کے خلاف الزامات اور اور ان کا دفاع دیکھے۔ چیف جسٹس نے کونسل کی کارروائی کے لیے قواعد کی شق تیرہ کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی بند کمرہ میں ہوگی اور موقف اختیار کیا ہیکہ یہ شق ایسے ریفرنسوں کے بارے میں ہیں جو کونسل کو براہ راست دائر کیے گئے ہوں جبکہ ان کے خلاف ریفرنس صدر مملکت نے دائر کیا ہے اس لیے کونسل کھلی سماعت کرسکتی ہے۔

افتخار محمد چودھری نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ریفرنس نعیم بخاری کے کھلے خط پر مبنی ہے جس کی وسیع پیمانے پر تشہیر ہوچکی ہے اس لیے بھی ان کے ریفرنس کی کھلی عام سماعت ضروری ہے اور وہ رضا کارانہ طور پر خود کو کھلی سماعت (پبلک انکوائری) کے لیے پیش کرتے ہیں۔افتخار چودھری سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا دفاع کرنے کے لیے وکلا عدالت عظمی سے باہر موجود ہیں جنہیں انصاف کے تقاضوں کے خلاف اندر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی حالانکہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کی عمارت ججوں (بینچ) اور وکلاء (بار) دونوں کے لیے ہے

متعلقہ عنوان :