سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن کی جائے ۔پیپلز پارٹی کا مطالبہ۔۔قوم کو حقائق سے آگاہ کیاجائے، پیپلز پارٹی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر غیرآئینی حکومت کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کریگی، قوم قیدچیف جسٹس کو رہا کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔وکلاء کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے ، آج متحدہ اپوزیشن کی کال پر پورے ملک میں یوم احتجاج منائیں گے ۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر مخدوم امین فہیم کا پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات مارچ 17:51

سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن کی جائے ۔پیپلز پارٹی کا مطالبہ۔۔قوم ..
اسلام آباد (اردوپوئنٹ تازہ ترین اخبار15 مارچ2007) پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ پوری قوم پاکستان کے قیدچیف جسٹس کو رہا کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ،پاکستان میں انصاف کو پکڑ کر قید کر دیا گیا ہے پوری قوم اٹھ کھڑی ہو اور انصاف کو آزاد کرائے ،قوم مطالبہ کرتی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو اوپن کر کے اسے حقائق سے باخبر رکھا جائے، ساری کارروائی کے دوران میڈیا کو کوریج کی اجازت دی جائے ،پیپلز پارٹی اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ ملکر غیر آئینی حکومت کے خاتمہ کیلئے بھرپور کردار کریگی ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی غیر آئینی معطلی پر جدوجہد کرنے والی وکلاء برادری کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پیپلز پارٹی یقین دلاتی ہے کہ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے ،آج متحدہ اپوزیشن کی کال پر پور ے ملک میں یوم احتجاج منائیں گے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے جمعرات کو پیپلز پارٹی کے سینٹرل سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پی پی پی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل راجہ پرویز اشرف  سینیٹر انور بیگ  کیپٹن واصف اور نذیر ڈھوکی بھی موجود تھے مخدوم امین فہیم نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں جنگل کا قانون ہے فرد واحد من مانے فیصلے کر کے قوم و ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان ملک کا اعلی ترین ادارہ ہے مگر افسوس جو کچھ اس ادارے کے ساتھ سربراہ کے ساتھ ہوا اس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔

ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی تصاویر میں جس طرح غیر فعال چیف جسٹس کو بالوں سے پکڑ کر گاڑی میں بٹھایا جا رہا ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک افسوسناک لمحہ اورسیاہ ترین دن ہے اس دن نہ صرف ہم نے بلکہ پوری دنیا نے یہ منظر دیکھا ہے کہ ہمارے ملک میں سب سے بڑے اور معتبر ادارے کے سربراہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے فرد واحد نے اپنی غیر آئینی اور غیر قانونی حکومت کو قائم رکھنے کیلئے ملک میں جنگل کا قانون لاگو کر دیا ہے ملک کے چیف جسٹس کو اٹھا کر زیر حراست رکھا گیا ہے سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر جس طرح چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ سلوک کیا گیا وہ قابل مذمت ہے چیف جسٹس سے بدسلوکی کی جو تصاویر اخبارات میں چھپی ہیں اس نے پوری دنیا میں ہمارا سر شرم سے جھکا دیا ہے اگر یہ سب کچھ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہو تو پھر انھیں پتا چلے کے کس طرح معتبر اداروں کے سربراہوں کی تذلیل کی جاتی ہے چیف جسٹس کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسطرح ہے کہ اندھے کی لاٹھی جس کو چاہے لگے مخدوم امین فہیم نے کہا کہ آج پاکستان میں غریبوں کی سننے والا کوئی نہیں ہے جو خود کبھی لوگوں کے فیصلے کرتا تھا آج زیر حراست ہے اب لوگ کہاں فریاد لیکر جائیں گے انہوں نے کہا کہ حکومتی وزراء کا یہا کہنا کہ چیف جسٹس آزاد ہیں اور سب سے مل سکتے ہیں جھوٹ ہے حکومت خود سپریم جوڈیشل کونسل کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے لاہور میں گزشتہ روز الحمراء ہال میں عام لوگوں کو کالے کوٹ پہنا کر بٹھایا گیا اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ یہ وکلاء ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وکلاء برادری کے ساتھ ہے ہم اے آر ڈی اور اپوزیشن کے ساتھ ملکر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے ہم وکلاء کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے پہل انھوں نے کی ہے اب انشاء اللہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے لندن میں 24 اور 25مارچ کو ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کی تاریخوں میں ردوبدل کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امین فہیم نے کہا کہ اس بارے میں جو بھی فیصلہ ہو گا وہ اپوزیشن کی باہمی مشاورت سے کیا جائے گا مسلم لیگ )ن (کے پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار کی جانب سے بینظیر بھٹو سے وکلاء برادری کی جدوجہد اور عدلیہ کی آزادی میں حصہ ڈالنے کے سوال کے جواب پر مخدوم امین فہیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو چوہدری نثار علی سے ہرگز اس قسم کے بیان کی توقع نہیں تھی انہوں نے آخر میں مطالبہ کیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اوپن کرکے قوم کو حقائق سے آگاہ کیا جائے میڈیا کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ اس پوری کارروائی کی کوریج کرے انہوں نے میڈیاکو غیر فعال چیف جسٹس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو اجاگر کرنے پر زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چند حکومتی وزراء بار بار میڈیا کے ذریعے چیف جسٹس کی کردار کشی کر رہے ہیں۔