جسٹس افتخار چوہدری کو غیر فعال بنانے کے حکومتی اقدام کے خلاف آج کوئٹہ میں بھی جلسہ عام منعقد کریں گے ۔مولانا نور محمد۔۔آئین کے قاتل شخص نے آئین کی تشریح کرنے والوں کو بھی نہیں چھوڑا‘افتخار چوہدری کے خلاف ناروا ریفرنس واپس لیا جائے اور فوج بیرکوں میں چلی جائے‘ رکن اسمبلی مولانا نور محمد‘ زاہد اختر ‘ ایاز سواتی اور دیگر کا مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

جمعرات مارچ 19:22

کوئٹہ (اردوپوئنٹ تازہ ترین اخبار15 مارچ2007) اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ہونے والی اے پی سی کے اعلان پر چیف جسٹس افتخار چوہدری کو غیر فعال بنانے کے حکومتی اقدام کے خلاف آج کوئٹہ میں بھی جلسہ عام ہوگا قبل ازیں بعد نماز جمعہ مرکزی جامعہ مسجد سے جلوس نکالا جائے گا جلسے میں صوبے کی تمام جماعتوں کی شرکت کی خاطر رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے بلوچستان ہائیکورٹ ایسوسی ایشن ‘بلوچستان بار کونسل ‘بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور مرکزی انجمن تاجران نے جلسے میں شرکت اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اس بات کا اعلان جمعیت علماء اسلام کے رہنماء رکن قومی اسمبلی مولانا نور محمد ‘ جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیرزاہد اختر‘ مسلم لیگ(ن) کے ایاز سواتی ایڈووکیٹ‘ تحریک انصاف کے عمر خان کاکڑ‘جمعیت الحدیث کے محمد علی ابو تراب اوردیگر نے جمعرات کے روز کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سابق سینیٹرحافظ فضل محمد بڑیچ‘رؤ ف عطا ء ایڈووکیٹ‘نصیب اللہ بازئی اور انجمن تاجران کے رہنماء تاج آغا بھی موجود تھے۔

مولانا نور محمد نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں صوبے کے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرلیا گیا ہے اور کہا کہ اس جلسے میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔انہوں نے مزید کہاکہ پوری مطالبہ کررہی ہے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف ناروا ریفرنس واپس لیا جائے اور فوج بیرکوں میں چلی جائے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں منقعد ہونے والی اے پی سی میں جمعہ کے روز پورے ملک میں اس ناراو اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا کہ 9مارچ کو چیف جسٹس کے خلاف جس طریقے سے کارروائی عمل میں لائی اس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔

افتخار چوہدری کو آرمی ہاؤس بلا کر انہیں چھ گھنٹوں تک نظر بند رکھا گیا ۔ استعفیٰ کیلئے دباؤ ڈال گیا یہ سب کچھ ایک غیر آئینی صدر نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین کو منسوخ اور اس کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت ہے لیکن آئین کے قاتل شخص نے9مارچ کو آئین کی تشریح کرنے والوں کو بھی قتل کیا۔ اس پر طرہ یہ کہ13مارچ کو پولیس اور انتظامیہ نے چیف جسٹس کو بالوں سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اعلیٰ عدالت کے اعلیٰ جج کے ساتھ یہ سلوک اس بات کا برملا اعلان ہے کہ یہاں کوئی آئین اور قانون نہیں ہے نہ ہی کسی کی عزت محفوظ ہے۔