چیف جسٹس کی معطلی اور قائمقام چیف جسٹس کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا

جمعہ مارچ 13:36

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔16مارچ۔2007ء) چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی معطلی اور قائمقام چیف جسٹس کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ جمعہ کے روز ممتاز قانون دان محمد شعیب شاہین ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی ہے جس میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ صدر پاکستان کی طرف سے جاری کردہ صدارتی ریفرنس کو غیر آئینی قرار دیا جائے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 209 اور A 180 کہیں بھی اجازت نہیں دیتا کہ چیف جسٹس آف پاکستان غیر فعال ہیں چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات بحال کئے جائیں اور غیر آئینی کام کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے انہوں نے درخواست میں وفاق پاکستان ،کیبنٹ ڈویژن،سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس اسلام آباد کو پارٹی بنایا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست گزار نے یہ درخواست 184 (3) اور بنیادی انسانی حقوق کے متعلقہ آرٹیکل 26, 25, 19, 15, 13, 10, 9, 8, 4, 2A کے تحت دئر کی ہے درخواست گزار نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو کام سے روکا جانا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس دو وجوہات سے تعینا تکیا جاسکتا ہے ایک یہ کہ موجودہ چیف جسٹس اپنے عدالتی امور سرانجام دینے سے قاصر ہو یعنی بیماری کی وجہ سے یا ذہنی جسمانی کوئی وجہ ہو دوسرا یہ کہ وہ ملک سے باہر ہو تو ان کی غیر حاضری میں قائم مقام چیف جسٹس تعینات کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نہ تو چیف جسٹس اپنے عدالتی امور سرانجام دینے سے قاصر ہیں اور نہ ہی وہ ملک سے باہر ہیں اس لئے جسٹس جاوید اقبال کی قائم مقام کی چیف جسٹس کے طور پر تعیناتی آئین کے آرٹیکل 180 کے تحت غیر آئینی ہے درخواست کے آخر میں استدعا کی گئی ہے کہ نوٹیفیکیشن جو کہ 9مارچ 2007ء کو جاری کیا گیا ہے اسے غیر آئینی قرار دیا جائے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے اختیارات بطور چیف جسٹس بحال کئے جائیں اور قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کو غیر فعال قرار دیا جائے۔

متعلقہ عنوان :