جسٹس افتخار کیخلاف کی گئی کارروائی درست نہیں۔اسفند یار ولی خان۔۔عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچا‘ اے این پی افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ہے‘ اعظم خان ہوتی اور بشیر بلور کے ہمراہ جسٹس افتخار کیساتھ ملاقات کے بعد نجی ٹی وی سے گفتگو

بدھ مارچ 14:10

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین21 مارچ 2007) اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف کی گئی کارروائی درست نہیں اس سے عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچا ہے‘ اے این پی اس بحران میں افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ہے‘ پولیس انسپکٹر کی چیف جسٹس کے خلاف بدسلوکی پوری قوم کے لئے باعث شرم ہے‘ افتخار محمد چوہدری نے اپنے خلاف الزامات کی اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قوم کو اصل حقائق کا علم ہوسکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز یہاں غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کے بعد نجی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف جو کچھ ہوا وہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اسے کسی لحاظ سے درست نہیں قرار دیا جاسکتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے عدلیہ کے وقار کو شدید نقصان پہنچا ہے اسفند یار ولی نے کہا کہ ایک پولیس انسپکٹر سے چیف جسٹس کی توہین کرانا شرم ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بدسلوکی سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ کے خلاف ایسا کرنا سوالیہ نشان ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اسفند یار ولی نے کہا کہ اے این پی اس پورے عمل کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور اس بحران میں ہم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پرعزم ہیں اور ہشاش بشاش ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ میرے خلاف لگائے گئے الزام کا اوپن ٹرائل کیا جائے تاکہ قوم کو حقیقت کا علم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے مطابق وہ بے گناہ ہیں اور اس کیس میں سرخرو ہونگے۔ اس موقع پر اے این پی کے اعظم خان ہوتی اور بشیر بلور بھی اسفند یار ولی کے ہمراہ تھے۔