جنوبی وزیرستان میں گھمسان کی جنگ جاری، مزید 15 افرا ہلاک، تعداد 142 ہو گئی، ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ

17 مقامی قبائلی آزاد کرا لئے گئے، 77 غیر ملکی گرفتار، بھاری اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا، تصادم کے نتیجے میں 40 گاڑیاں تباہ، 6 سرکاری چیک پوسٹوں کو نقصان پہنچا، درجنوں غیر ملکیوں کو علاقے سے نکال دیا گیا، قبائلی سرداروں اور علماء کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں ناکام، مسلح لشکر کی تیاری

جمعرات مارچ 19:11

وانا (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین22 مارچ 2007) جنوبی وزیرستان ایجنسی کے علاقوں اعظم ورسک کلوشہ اور ڈژہ غونڈی میں مقامی قبائل اور القاعدہ جنگجوؤں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید 15 ہلاک ہو گئے، جس کے بعد گزشتہ چار روز کی لڑائی کی نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 142 ہو گئی ہے، جبکہ غیر ملکیوں کا ساتھ دینے کے الزام میں وانا بارڈر پر ایک قبائلی کو قتل کر دیا گیا ہے، جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ قبائلیوں نے غیر ملکیوں کے قید خانے سے 17 مقامی قبائلیوں کو بھی آزاد کرا لیا ہے اور بھاری اسلحے پر بھی قبضہ کر لیا ہے، غیر ملکیوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں جس کے نتیجے میں گرفتار غیر ملکیوں کی تعداد 77 ہو گئی، جبکہ درجنوں غیر ملکیوں کو علاقے سے نکال دیا گیا ہے، دوسری جانب قبائلی سرداروں اور علماء کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں تاہم قبائلی غیر ملکیوں کو علاقے سے نکالنے کیلئے مسلح لشکر کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی ایجنسی کے دعوے کے مطابق لڑائی میں تین سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی وزیرستان میں چوتھے روز بھی مقامی قبائلیوں اور طالبان کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری رہی جس کے نتیجے میں مزید 15 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد غیر ملکیوں اور مقامی قبائل کے مابین گذشتہ چار روز سے جاری جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد142ہوگئی ہے جبکہ غیر ملکیوں کا ساتھ دینے کے الزام میں ایک قبائلی کو قتل کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے نواحی علاقوں ڈژہ غونڈی ،کلوشہ اور اعظم ورسک میں گذشتہ چار روز سے غیر ملکیوں اور مقامی قبائل کے مابین جھڑپیں جاری ہیں۔ قبائلیوں نے غیر ملکیوں کی گاڑیوں پر حملہ کر کے6 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ادھر وانا بازار میں غیر ملکیوں کا ساتھ دینے کے الزام میں ایک قبائلی کوسرعام گولی مار کر قتل کردیا گیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق لڑائی میں تین سیکورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق مقامی قبائل نے غیر ملکیوں کے چار قید خانوں سے17 مقامی قبائلیوں کو بھی آزاد کرالیا ہے اور وہاں موجود اسلحہ پر قبضہ کرلیا ہے۔جن میں 1800ستی بم ،174راکٹ ،188کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ شامل ہے۔قبائل نے اب تک77غیر ملکیوں کو گرفتار کیا ہے۔ چار روزہ تصادم کے نتیجے میں چالیس گاڑیاں تباہ کردی گئی ہیں اور 6سرکاری چیک پوسٹوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

تصادم میں ہلاک ہونے و الے افراد کو دفنانے کیلئے عارضی فائر بندی کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے اور قبائلی سرداروں اور علما کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غوا خوا کے قبائلیوں نے زبردستی اپنے علاقے سے150غیر ملکیوں کو نکال دیا ہے اور مقامی قبائل غیر ملکیوں کے خلاف ایک بڑے مسلح لشکر کی تیاری کررہے ہیں۔جبکہ ذرائع کے مطابق لڑائی کے نتیجے میں شہری بھی شدید متاثر ہوئے ہیں اور کئی خاندان علاقے سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔