سابق کرکٹر کے پاس میچ فکسنگ کے ثبوت ہیں تو اینٹی کرپشن یونٹ کو دیں ورنہ ملکی سالمیت کو نقصان نہ پہنچائیں ، ڈاکٹر نسیم اشرف

جمعرات مارچ 19:16

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔29مارچ۔2007ء) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ میں آئر لینڈ جیسی کمزور ٹیم سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شکست ناقص پرفارمنس کا جائزہ، میچ فکسنگ سمیت دیگرپہلوؤں کیلئے ایک ہائی پاور کمیٹی بنائیں گے جو شواہد اکھٹے کرے گی اور پی سی بی وائٹ پیپر کے ذریعے اسے عوام کی عدالت میں لے جائے گی ، باب وولمر قتل کی تحقیقات کیلئے دو اعلی انوسٹی گیشن افسران کو جمیکا بھجوائیں گے جو قتل کے حوالے سے تفصیلات اکٹھی کریں گے ، سابق کرکٹر کے پاس میچ فکسنگ کے ثبوت ہیں تو آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کو دیں ، خالی بیانات سے ملکی سالمیت کو نقصان نہ پہنچائیں وہ جمعرات کو راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں وویمن کرکٹ ٹورنا منٹ فائنل تقریب کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ، چیئر مین پی سی بی نے کہا کہ میں نے انیس مارچ کو اپنا استعفی اخلاقی بنیادوں پر صدر مملکت جنرل پرویز مشرف کو بھجوا دیا ہے لیکن ابھی تک منظور نہیں ہوا جب تک میرا استعفی منظور اور نئے چیئر مین کا اعلان نہیں ہوتا میں اپنا کام جاری رکھوں گا انہوں نے کہا کہ ہم نے ورلڈ کپ سے قبل ہی ایکشن پلان تیار کر لیا تھا جس میں بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی ، ریجنل سپورٹس ایسوسی ایشن ، کلب کرکٹ فروغ ، انڈر 19 اے کلاس کرکٹ نیشنل کرکٹ ٹریننگ شامل ہے جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ کے لئے کمیٹی بنائے گئی ہے انہوں نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم پر تنقید کرنی اور سب کو خراب کہنا یا باہر نکال دینے سے صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی ، اچھی قیادت کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ باب وولمر ہمارے خاندان (قومی کرکٹ ٹیم) کے اہم رکن تھے ان کی موت سے ہم بہت افسردہ ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے فارن آفس کو تحریری طورپر لکھا ہے کہ دو اعلی انوسٹی گیشن افسران کو جمیکا بھیجا جائے جو وہاں پر صورتحال کا بغور جائزہ لیں اور واشنگٹن ڈی سی بھی اپنا نمائندہ بھیجے ابھی تک باب وولمر موت حوالے سے صورتحال دھندلی ہے جمیکا پولیس اتھارٹی اپنی تحقیقات جلد مکمل کر ے اور پاکستان کو آگاہ کرے اس حوالے سے پاکستان کا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے جمیکا پولیس بتائے کہ اصل صورتحال کیا ہے اس وقت ہوٹل میں ہزاروں افراد تھے کیا سب کو تحقیقات میں شامل کیا جائے گا ۔

(جاری ہے)

پاکستانی ٹیم اس کیس میں ملوث نہیں ہے تاہم پھر بھی جمیکا پولیس سے مکمل تعاون کیا ہے ، حالیہ ورلڈ کپ میں کوئی کرپشن یا میچ فکسنگ نہیں ہوئی اس ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کا ایک اہم فرد قتل ہوا ہے جو جرم ہوا ہے اس کی تحقیقات کلیئے ہوگی انہوں نے کہا کہ آئر لینڈ سے شکست کے بعد ایک ہائی پاور کمیٹی بنا رہے ہیں جو میچ پرفارمنس حوالے سے صورتحال کو دیکھے گی اور شواہد اکٹھے کر کے وائٹ پیپر کے ذریعے عوام کو آگاہ کریں گے انہوں نے کہا کہ ایڈ ہاک کمیٹی کا اجلاس 31 مارچ کو طلب کر لیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ پی سی بی کا آئین تیار کر کے اٹارنی جنرل کے حوالے کر دیا ہے جو پہلی فرصت میں سٹیزن کو دے گا ، انہوں نے کہا کہ آئی سی سی اینٹی کرپشن کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ، سابق کرکٹ جو میچ فکسنگ کے الزامات لگا رہے ہیں میرا ان کو مشورہ ہے کہ وہ ثبوت آئی سی سی اینٹی کرپشن کمیٹی کو دے صرف بیانات سے کچھ نہیں ہوتا ، پاکستانی ٹیم کو وطن واپس لانا میری ترجیحات میں شامل تھا ۔

متعلقہ عنوان :