حکومت وزیرستان میں غیر ملکیوں کیخلاف آپریشن کرتی تو اس میں بیگناہ قبائلی عوام کے نقصان کا اندیشہ تھا، گورنر سرحد

ہفتہ مارچ 20:01

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔31مارچ۔2007ء) گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے کہا ہے کہ اگر حکومت وزیرستان میں غیر ملکیوں کیخلاف آپریشن کرتی تو اس میں بیگناہ قبائلی عوام کے نقصان کا اندیشہ تھا لہذا اگر مقامی قبائل نے از خود غیر ملکی عسکریت پسندوں کیخلاف کاروائی شروع کی ہے تو یہ ایک اچھا شگون ہے ۔ٹانک میں جاری کشیدگی بھی کافی حد تک کم ہو چکی ہے اور اب وہاں حالات معمول پر آ رہے ہیں،خیبر ایجنسی میں بھی دوگروہوں کے مابین جاری تنازعہ کے خاتمہ اورقیام امن کیلئے کوششیں ہورہی ہیں اوران کی کوشش ہے کہ عوام خوداس عمل کاحصہ بنیں کیونکہ دوسرے طریقے میں پھرحکومت عسکری کاروائی کرے گی جس میں ہیلی کاپٹراوربھاری ہتھیاراستعمال ہوں گے اس لئے عوام نے ان کے ساتھ وعدہ کیاہواہے کہ وہ خوداس مسئلہ کوحل کریں گے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کااظہارانہوں نے خیبرایجنسی کی تحصیل جمرودمیں نوتشکیل کردہ لیوی فورس کے پہلے پاسنگ آؤٹ پریڈکی تقریب کے بعدمیڈیاسے بات چیت کے دوران کیاگورنرسرحدنے کہاکہ جنوبی وزیرستان ایجنسی میں قبائلی عوام نے خودیہ ذمہ داری لے لی ہے کہ وہ عناصرجوکہ اس علاقہ میں کافی عرصہ سے مہمان تھے ان کواب ہماری سرزمین سے نکل جاناچاہیے انہوں نے کہاکہ حکومت کی قبائلی عمائدین کے ساتھ شمالی وزیرستان اورجنوبی وزیرستان میں معاہدے ہوئے ہیں جن میں ان کے اوپربارباریہ واضح کیاجاچکاہے کہ ان غیرملکی عناصرکویہاں سے نکل جاناچاہیے انہوں نے کہاکہ حکومتی پالیسی کے بعدآخرکارعوام میں یہ احساس بیدارہوگیااورخودہی یہ ذمہ داری لے لی ہے کہ ان عناصرکواپنی سرزمین سے نکالے گورنرسرحدنے کہاکہ ابھی جوصورتحال ہے حکومت اس کابغورجائزہ لے رہی ہے کیونکہ قبائل نے اگرازخودکوئی فیصلہ کیاہے توان کے خیال میں یہ بڑی اچھی بات ہے انہوں نے کہاکہ اگرحکومت جنوبی وزیرستان ایجنسی میں روپوش غیرملکی جنگجوؤں کے خلاف عسکری کاروائی کرتے توپھراس میں بے گناہ معصوم قبائلی عوام کے نقصان کابھی اندیشہ تھااس لئے یہ ایک اچھاشگون ہے کہ قبائل نے ان غیرملکی عناصرکے خلاف ازخودکاروائی کرنے کافیصلہ کیاہے گورنرسرحدنے کہاکہ ٹانک میں کشیدگی کے بعدحالات کافی بہترہوگئے ہیں اوراب کرفیومیں بھی بتدریج نرمی کی جارہی ہے کیونکہ حالات بہترہورہے ہیں انہوں نے کہاکہ ٹانک کی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وہاں پرعوام سے بھاری اورمہلک ہتھیارہیں وہ آہستہ آہستہ ان سے جمع کئے جائیں اورلوگوں کوعلاقہ میں قیام امن کیلئے آمادہ کیاجائے کیونکہ یہ ہی ان کیلئے بہترہے پشاوربم دھماکوں کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں گورنرسرحدنے کہاکہ پشاوربم دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں لیکن ان واقعات میں خفیہ دشمن ملوث ہے جونظرتونہیںآ تالیکن نقصان کرجاتاہے انہوں نے کہاکہ بم دھماکوں میں ملوث افرادکوبے نقاب کرنے کیلئے کوشش جاری ہے وہ امیدکرتے ہیں کہ حکومتی ادارے اپنی کوشش میں کامیاب ہوں گے گورنرسرحدنے کہاکہ قبائلی علاقوں کے اثرات اب شہروں پربھی پڑرہے ہیں لیکن اس کوطالبانائزیشن قراردیناانتہائی اقدام ہوگاانہوں نے کہاکہ خیبرایجنسی میں بھی دوگروہوں کے مابین جاری تنازعہ کے خاتمہ اورقیام امن کیلئے کوششیں ہورہی ہیں اوران کی کوشش ہے کہ عوام خوداس عمل کاحصہ بنے کیونکہ دوسرے طریقہ میں پھرحکومت عسکری کاروائی کرے گی جس میں ہیلی کاپٹراوربھاری ہتھیاراستعمال ہوں گے اس لئے عوام نے ان کے ساتھ وعدہ کیاہواہے کہ وہ خوداس مسئلہ کوحل کریں گے۔

متعلقہ عنوان :