مسلمانوں کے مسائل کا حل اتحاد اور جدید تعلیم حاصل کرنے میں ہے ،محمد علی درانی،شمالی علاقہ جات اور فاٹا پاکستان کے سر کے تاج ہیں،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب

ہفتہ مئی 20:09

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19مئی۔2007ء) اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر سینیٹر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مسائل کا حل اتحاد اور جدید تعلیم حاصل کرنے میں ہے موجودہ حکومت نے صدر جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں آزادی اظہار کو یقینی بنانے کیلئے جو اقدامات کئے ہیں ان کی مثال ماضی میں نہیں ملتی،شمالی علاقہ جات اور فاٹا پاکستان کے سر کے تاج ہیں،دہشت گردی کے الزام نے مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کر دیا ، ایسے بے بنیاد الزامات اور پراپیگنڈوں سے بچنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے ،اسلام امن و محبت کا درس دیتا ہے اسلام تو دشمن کے ساتھ بھی محبت سے پیش آنے کی تعلیمات دیتا ہے،صحافی برادری اور میڈیا آزادی صحافت کو نبھاتے ہوئے ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے میڈیا کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو یہاں انفارمیشن سروسز اکیڈیمی میں شمالی علاقہ اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کیلئے منعقد کی جانے والی ایک ہفتہ کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر وزارت اطلاعات کے دیگر اعلی احکام بھی موجود تھے سینیٹر محمد علی درانی نے کہا کہ دہشت گردی کے الزام نے دنیا میں مسلمانوں کیلئے عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے مسلمانوں کو ایسے بے بنیاد الزامات اور پراپیگنڈوں سے بچنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے میڈیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے انھوں نے کہا کہ اسلام امن و محبت کا درس دیتا ہے اسلام تو دشمن کے ساتھ بھی محبت سے پیش آنے کی تعلیمات دیتا ہے انھوں نے کہا کہ شمالی علاقہ جات اور فاٹا پاکستان کے سر کے تاج ہیں قیام پاکستان کے سلسلے میں ان علاقوں کے عوام کے کردار کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا تحریک پاکستان میں فاٹا کے اہم رہنماؤں نے قائداعظم کا بھرپور ساتھ دیا، یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور کسی سے پوشیدہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد فاٹا میں جس طرح سے ترقی ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہوئی اور یہ علاقہ پسماندہ ترین ہے حکومت نے اس بنیاد پر اپنی پالیسیاں تشکیل دیتے وقت فاٹا پر خصوصی توجہ دی ہے۔

وسائل کو عام آدمی تک منتقل کرتے وقت اس کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ پسماندہ علاقوں کی بہتری پر توجہ دی جائے۔ محمد علی درانی نے کہا کہ پاکستان کا ایک المیہ شروع سے رہا کہ وسائل پر ایک مخصوص طبقہ قابض رہا جو اس کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتا ہے اور ہر علاقے میں ایسے لوگ ہیں جن کی وجہ سے عام آدمی پر وہ توجہ نہیں دی جا سکی جس کی ضرورت تھی۔

موجودہ حکومت نے فاٹا کے عوام کی ترقی، صحت و تعلیم کی سہولیات اور معاشی ترقی کیلئے خصوصی منصوبے تشکیل دیتے ہوئے کام شروع کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ذرائع ابلاغ کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کیلئے میڈیا اہم کردار ادا کر سکتا ہے اس لئے میڈیا کو احساس ذمہ داری سے کام کرنا ہو گا اور نہ صرف قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہو گا بلکہ قوم کی صحیح رہنمائی بھی کرنا ہو گی انہوں نے کہا کہ فاٹا میں غربت اور تعلیم سمیت بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے، یہ ایک چیلنج ہے۔

موجودہ دور میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی مسلم ممالک کو کینسر کی طرح نقصان دے رہی ہے، عام شہری عدم تحفظ کا شکار ہے اور ریاست کی عملداری کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اس سے جہاں اسلام کے بارے میں منفی تاثر پھیل رہا ہے وہاں ترقی کا عمل متاثر ہو رہا ہے، دہشت گردی کسی بھی معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے اس لئے ایسے حالات میں میڈیا کا کردار اہم ہے کہ وہ عوام میں اس کے حوالے سے شعور بیدار کرے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا اور شمالی علاقہ جات کے عوام نے تحفظ پاکستان میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔ سینیٹر محمد علی درانی نے اس موقع پر شرکاء سیکہا کہ وہ پاکستان کیلئے ان سے ایسے ہی کردار کے متمنی ہیں پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاں ذرائع ابلاغ کو بے مثال آزادی حاصل ہے۔ پاکستان کیلئے یہ ایک اعزاز ہے اور صحافی برادری اور میڈیا کیلئے یہ ایک چیلنج ہے کہ ان آزادیوں کو کس قدر ذمہ داری کے ساتھ نبھاتے ہیں ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے میڈیا کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں میڈیا یونیورسٹی کے قیام کے بعد یہاں پر فاٹا کیلئے خصوصی سکالرشپس اور صحافیوں کیلئے خصوصی نشستیں مختص کریں گے جبکہ ملک کے دیگر نمایاں تعلیمی اداروں میں صدر جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر پہلے ہی بلوچستان اور فاٹا سمیت دیگر پسماندہ علاقوں کے بچوں کو سکالرشپس دی جا رہی ہیں اور اس میں بھی وزارت تعلیم سے صحافیوں کیلئے کوٹہ مختص کروائیں گے۔

انہوں نے بیرونی دوروں میں فاٹا کے صحافیوں کو نمائندگی دینے اور تربیتی پروگرامات کے انعقاد کابھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے علاقے میں تمام پریس کلب کی معلومات لے کر ان کو باقاعدگی سے چلانے کیلئے بجٹ میں اہم حکمت عملی اپنائیں گے۔ انہوں نے ایکریڈٹیشن کارڈ سمیت دیگر مسائل کے حل کی بھی یقین دہانی کروائی۔ اس موقع پر ڈی جی اکیڈمی طاہرہ ضیاء نے خطبہ استقبالیہ دیتے ہوئے بتایا کہ ورکشاپ میں فاٹا کے 20 اور شمالی علاقہ جات کے 6 صحافیوں نے شرکت کی۔

ہم نے پسماندہ علاقوں کی صحافی برادری کی تربیت پر خصوصی توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ شرکاء کو مختلف صحافتی اداروں کے دورے کے علاوہ مختلف موضوعات پر لیکچر دیئے گئے۔ فاٹا یونین آف جرنلسٹس کے صدر ناصر مہمند نے اس موقع پر ورکشاپ کے انعقاد پر وزارت اور اکیڈمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اس سے صحافی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں معاونت کے ساتھ ساتھ پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی مفاد کے تحفظ میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گے۔تقریب کے آخر میں محمد علی درانی نے تربیتی حاصل کرنے والے صحافیوں میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے