متحدہ محاذ اساتذہ کی اپنے مطالبات کے حق میں آبپارہ سے پارلیمنٹ ہاؤس تک احتجاجی ریلی ،تعلیمی اداروں کی نجکاری، آئی آر او 2002ء ، مزدور کش قوانین، این جی اوز کی مداخلت اور مہنگائی کیخلاف نعرے بازی،ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے، احتجاجی مظاہرے سے مقررین کا خطاب

پیر مئی 16:42

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔28مئی۔2007ء) متحدہ محاذ اساتذہ پاکستان کے زیر اہتمام پیر کو آبپارہ چوک سے پارلیمنٹ ہاؤس تعلیمی اداروں کی نجکاری، آئی آر او 2002ء ، مزدور دشمن قوانین، این جی اوز کی مداخلت اور مہنگائی کے خلاف مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اساتذہ کے مطالبات اور حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مطاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ رہنماؤں سید نذیر حسین شاہ، راجہ ظفیر احمد ستی، عبدالغفار سدوزئی، مزمل خان ترنابی، سردار گل داڑو،لیاقت علی ویدڑ، اشرف کیانی، اعجاز اختر، سردار رحیم داد، پنوں خان شوکت، سردار محمد فرید ، سید شفقت حسین، سردار سلیم، محترمہ شبانہ، محترمہ ناہید خان اور دیگر نے کہا کہ پاکستان کا نظام تعلیم جو انگریز کی دین ہے آج تک سرکاری سکولوں میں رائج ہے حکمران طبقے کے بچے تو امریکہ اور یورپ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ غریب کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے جب تک امیر اور غریب کے بچے ایک ہی نظام تعلیم کے تحت تعلیم حاصل نہیں کریں گے ملک ترقی نہیں کریگا سرکاری سکولوں میں کلرک اور نچلا طبقہ پیدا ہورہا ہے جبکہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ملک پر حکمرانی کرہے ہیں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا صوبے کے دو سو سکولوں اور 63 کالجوں کو نجی ہاتھوں میں فروخت کرنے کا فیصلہ نہ صرف صوبہ پنجاب بلکہ ملک بھر کے اساتذہ اور طلباء و طالبات پر آسمانی بجلی بج کر گرا ہے اب مزدور کے بچے نہیں پڑھ سکیں گے ۔

(جاری ہے)

اساتذہ رہنماؤں نے کہا کہ ساٹھ سال گزرنے کے باوجود بھی پاکستان کا تعلیمی بجٹ دو فیصد سے نہیں بڑھ سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی حکمران طبقہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور عالمی سامراج ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے استحصال کو مسلسل جاری رکھنے اور معاشی بحران میں منافع کی ہوس کو پورا کرنے کے لئے پوری دنیا میں نجکاری، ڈاؤن سائزنگ، رائٹ سائزنگ، ری اسٹرکچرنگ، محنت کشوں کے اوقات کار میں اضافہ، ٹھیکیداری نظام جیسی پالیسیاں جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے عالمی طور پر محنت کش طبقہ غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر رہا ہے اور تمام بنیادی انسانی ضروریات سے مکمل محروم کردیا گیا ہے۔

مشرف حکومت نے انہی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے آئی آر او 2002ء، ریموول فرام سروسز ایکٹ 2-A, 27-B اور دوسرے فنانس بل اور صدارتی آرڈیننسوں کے ذریعے اس استحصال کو آگے بڑھا رہی ہے اب تعلیمی اداروں کی نجکاری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے جن تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا تھا ان کی نجکاری کی جاری ہے جس کے نتیجے میں ریاست پاکستان نے اب محنت کشوں کے بچوں کے لئے کلرک بننے کے دروازے بھی بند کردیئے ہیں ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان میں تعلیم کی بہتری کے نام پر ہورہ اہے۔

انہوں نے کہا کہ چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرنے والے مزدوروں کے بچے جو ان سرکاری سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں نجکاری کے بعد کیا وہ اپنی تعلیم جاری رکھ پائیں گے حکمرانوں کو اپنے مفادات قوم کے نونہالوں کے مستقبل سے زیادہ عزیز ہیں پنجاب حکومت نے جن 263 سکولوں اور کالجوں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے نجکاری کے نتیجے میں جہاں 41 ہزار اساتذہ اور بیس ہزار سے زائد دیگر ملازمین کا روزگار متاثر ہوگا وہیں ان میں پڑھنے والے بارہ لاکھ بچوں کا مستقبل بھی غیر محفوظ ہوجائے گا۔