فلسطینیوں پر مظالم‘ برطانیہ اورجنوبی افریقہ کی ٹریڈ یونیز اور تعلیمی اداروں کی اسرائیل کیخلاف مہم

نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور اسے ”سازش امتیاز پر مبنی اور یک طرفہ “قرار دیا ہے - اسرائیل کی وزیر تعلیم یولی تامیر نے کہاہے کہ وہ اس مسئلے پر برطانیہ کے وزیر تعلیم سے بات کریں گی -

اتوار جون 12:04

جوہانسبرگ+ لندن (اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار03 جون 2007) برطانیہ اورجنوبی افریقہ میں فلسطینیوں کیخلاف مظالم پر اسرائیل کے خلاف عوامی مہم ‘ متعدد ٹریڈ یونینز اور تعلیمی اداروں کی طرف سے اسرائیل کے بائیکاٹ کا فیصلہ ۔ ایک عربی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی افریقہ ٹریڈ یونین کا نگریس (کوساتو) جو جنوبی افریقہ میں محنت کی کشوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے اور پریٹوریا میں برسراقتدار افریقہ نیشنل کانگریس کی مضبوط حلیف ہے ، انہوں نے جنوبی افریقہ کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اسرائیل کی تمام اشیاء پر پابندی عائد کردی جائے اور فلسطینیوں کے خلاف اس کی ظالمانہ پالیسی کے رد عمل کے طور پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرلئے جائیں - کوساتو کے سربراہ ولی مدیشا کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو تسلیم کرانے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ ایسے ہی اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے جیساکہ جنوبی افریقہ کی حکومت کا کیاگیاتھا - ادھر برطانوی مزدور یونینز کے متحدہ محاذ (UNISION)کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہاگیاہے کہ وہ اسرائیل کے معاشی بائیکاٹ اور مصنوعات کے عدم استعمال کے سلسلے میں تمام یونینز کا مشترکہ اجلاس بلائیں گے - منصوبے پر عمل درآمد کے لئے اراکین یونین کی ووٹنگ کرائی جائے گی - اس سے قبل ہزاروں کی تعداد میں اراکین نے اسرائیلی معاشی بائیکاٹ کے سلسلے میں ”یونیشان “ کے سرکردہ اہلکاروں کے نام خطوط لکھے ہیں - واضح رہے کہ ”یونیشان “ سے 1.6ملین ملازم پیشہ اور مزدور طبقے کے افراد وابستہ ہیں ۔

(جاری ہے)

جبکہ برطانیہ کی یونیورسٹی اینڈ کالج یونین (یوسی یو )نے فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیل کے تعلیمی اداروں کا بائیکا ٹ کیا جائے ، کیونکہ فلسطینیوں کے ساتھ جبر و تشدد کے رویے پر وہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں- دوسری جانب اسرائیل