Live Updates

لندن اے پی سی ناکام،گرینڈ الائنس، اسمبلیوں سے استعفے اور حکومت کے خلاف فوری تحریک چلانے پر اتفاق نہ ہو سکا،صدر مشرف سے فوری مستعفی ہونے ، آزاد الیکشن کمیشن کے قیام، چیف جسٹس کی فوریبحالی، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ،آئندہ کوئی جماعت ایم کیو ایم کے ساتھ انتخابی اتحاد کرے اور نہ ہی آئندہ حکومت میں ایم کیو ایم کو شامل کیا جائے گا،پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جمہوریت کی بحالی کوشش جاری رکھی جائیں گی،سیاست سے ایجنسیوں کا سیاسی کردار ختم،نواز شریف اور بے نظیر سمیت تمام جلا وطن رہنماؤں کی وطن واپسی اور انہیں انتخابات میں حصہ لینے کا مطالبہ۔تفصیلی خبر

اتوار جولائی 01:35

لندن(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8جولائی۔2007ء) لندن آل پارٹیز کانفرنس گرینڈ اپوزیشن الائنس، اسمبلیوں سے استعفیٰ اور حکومت کے خلاف فوری تحریک چلانے پر اتفاق نہ ہو سکنے کے باعث ناکام ہو گئی ہے جبکہ صدر مشرف سے فوری مستعفی ہونے ، آزاد الیکشن کمیشن کے قیام، چیف جسٹس کی فوری بحالی، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، آئندہ کوئی جماعت ایم کیو ایم کے ساتھ انتخابی اتحاد کرے اور نہ ہی آئندہ حکومت میں ایم کیو ایم کو شامل کیا جائے گا،پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جمہوریت کی بحالی کوشش جاری رکھی جائیں گی،سیاست سے ایجنسیوں کا سیاسی کردار ختم،نواز شریف اور بے نظیر سمیت تمام جلا وطن رہنماؤں کی وطن واپسی اور انہیں انتخابات میں حصہ لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

اتوار کے روز مسلم لیگ کے زیر اہتمام اپوزیشن جماعتوں کی دو روزہ آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایااور کہا کہ 7 اور 8جولائی کو یہاں لندن میں تمام اپوزیشن جماعتوں کی دو روزہ آل پارٹیز کانفرنس میں ملک کی سیاسی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور باہمی مشاورت سے پندرہ نکاتی مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق کیا گیا ہے ۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف فوری طور پر مستعفی ہو جائیں اورغیر جانبدار نگران حکومت کے ذریعے آزاد انہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں نیز یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ نگران حکومت میں شامل افراد انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں شفاف اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ۔

اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ سیاست سے فوج اور ایجنسیوں کے کردار کو ختم کیا جائے، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں فوجی آپریشن ختم کر کے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کئے جائیں ۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام سیاسی رہنماؤں کے خلاف قائم انتقامی مقدمات ختم کر کے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 1973ء کو بحال کیا جائے اور اسمبلی کے اندر اور باہر آئین کی بحالی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نواز شریف اور بے نظیر سمیت تمام جلا وطن قیادت کو وطن واپس آنے اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے ۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ چیف جسٹس کو فوری طور پر بحال کیا جائے چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس میں طلب کرنا اور فوجی افسران کی موجودگی میں ان سے استعفیٰ طلب کرنا آئین کی صریحاً خلاف ورزی اور عدلیہ کو زیر عتاب لانے کی ناکام کوشش ہے ان کے خلاف صدارتی ریفرنس واپس لیا جائے۔

مشترکہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ میڈیا کو فوری طور پر آزاد کیا جائے اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس ختم کیا جائے۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیاجائے۔ اعلامیہ میں برطانیہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی اور برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو فوری طور پر برطانیہ سے نکالا جائے۔

نواز شریف جب اعلامیہ پڑھ کر شرکاء سے مختلف نکات پر رائے لے رہے تھے تو بعض نکات پر ایم ایم اے اور پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج کیا۔ اعلامیہ میں جب 1973ء کے آئین کی بحالی اور 12اکتوبر کے بعد آئین میں کی گئی ترامیم کے خاتمے کی بات کی تو اس پر پیپلز پارٹی کے صفدر عباسی اور شیری رحمان نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے خاتمے کی حمایت نہیں کرے گی۔

اس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مخصوص نشستیں نہیں ہونی چاہیے دنیا کے کسی بھی ملک میں مخصوص نشستوں کا طریقہ کار رائج نہیں ہے۔ اعلامیہ میں جب مطالبہ کیا گیا کہ اگر صدر مشرف موجودہ اسمبلیوں سے منتخب ہونے کی کوشش کریں تو تمام اپوزیشن ممبران اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں تو اس پر پیپلز پارٹی کے امین فہیم نے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا۔ اعلامیہ میں کراچی میں 12 کو ہونے والے قتل عام کی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ اور وفاقی حکومت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
نواز شریف ہسپتال منتقل سے متعلق تازہ ترین معلومات