ملک میں ایمرجنسی نہیں لگے گی‘ انہی اسمبلیوں سے جیسے ہوں ایسے ہی الیکشن لڑونگا۔ صدر مشرف۔۔عام انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے‘ آئینی تقاضوں کے مطابق پہلے نگران حکومت بنے گی‘ الیکشن کا طریقہ کار صاف شفاف ہوگا۔ مذہب کا حامی شخص ہوں لیکن کوئی اسلام کی غلط تشریح کرے تو اس کی حمایت نہیں کرسکتا‘ القاعدہ‘ طالبان اور انتہا پسند ملک کیلئے 3 بڑے خظرات ہیں‘ اکبر بگٹی کا پوتا اوربالا مری کابل میں ہیں،ویڈیو دکانوں پر دھماکے کرنیوالے اصل نہیں منشیات کے عادی چرسی طالبان ہیں‘ القاعدہ کی مضبوطی کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹیں غلط ہیں۔ امریکہ نے ہمارے مفادات کو نظر انداز کرکے صرف اپنے مفادات کو سامنے رکھا تو اس کی مخالفت کریں گے سرحد میں فوجی نقل و حرکت کی منظوری این ایس سی نے دی تھی‘ صدر مملکت کا قومی اخبارات کے مدیران اور سینئر صحافیوں سے خطاب

بدھ جولائی 14:40

راولپنڈی (اردوپوانئٹ اخبار تازہ ترین18 جولائی2007) صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ۔ صدارتی الیکشن آئین کے مطابق ہو گا۔ انہی اسمبلیوں سے الیکشن لڑوں اور جیسے ہوں ایسے ہی انتخاب میں حصہ لوں گا۔ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے۔ آئینی تقاضوں کے مطابق پہلے نگران حکومت بنے گی۔

مذہب کا حامی شخص ہوں لیکن کوئی اسلام کی غلط تشریح کرے تو اس کی حمایت نہیں کر سکتا۔ اس وقت ملک کو 3 مشکلات درپیش ہیں۔ القاعدہ طالبان اور انتہا پسند ‘ ویڈیو سینٹروں پر حملے کرنے والے اصل نہیں چرسی طالبان ہیں‘ اکبر بگٹی کا پوتا براہمداغ بگٹی اور بالاچ مری کابل میں بیٹھے ہیں اور وہاں سے تخریب کاری کی کارروائیاں کروا رہے ہیں‘ القاعدہ کی مضبوطی کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹس غلط ہیں۔

(جاری ہے)

صوبہ سرحد میں فوجی نقل و حرکت کی منظوری این ایس سی نے دی تھی۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے بدھ کے روز راولپنڈی میں قومی اخبارات کے مدیران اور سینئر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مشرف نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی کوئی تجویز زیر غور نہیں اور نہ ہی ایمرجنسی کی صورتحال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب آئین کے مطابق ہو گا اور انہی اسمبلیوں سے الیکشن لڑوں اور جیسے ہوں اسی حال میں حصہ لوں گا۔

صدر مشرف نے عام انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میرے ذہن میں کوئی شبہ نہیں کہ عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی تقاضوں کے مطابق انتخابات سے قبل نگران حکومت قائم ہو گی۔ الیکشن ہر حال میں مقررہ وقت پر ہوں گے اور بالکل صاف اور شفاف ہوں گے۔ صدر مشرف نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اعتدال پسند قوتیں اکٹھی ہو کر انتخابات کے بعد کے منظر نامے پر غور کریں۔

انہوں نے کہا کہ انتہا پسند اعتدال پسند لوگوں سے محاذ آرائی چاہتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ انتخابات میں اعتدال پسند قوتیں کامیاب ہوں کیونکہ اسی سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ جیتی جا سکے گی۔ صدر مشرف نے کہا کہ ہمیں ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ میری ترجیح میرا ملک اور اس کے عوام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مسئلہ مذہبی یا غیرمذہبی ہونے کا نہیں۔

مذہب کا حامی شخص ہوں لیکن کوئی اسلام کی غلط تشریح کرے تو اس کی حمایت نہیں کر سکتا۔ صدر مشرف نے کہا کہ اس وقت ملک میں جو صورتحال ہے اس کی بہتری کے لئے حکومت تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ اگر امریکہ نے ہمارے مفادات کو ترجیح نہ دی اور صرف اپنے مفادات سامنے رکھے تو اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی ملک کے لئے سنگین خطرہ ہے اور اس کے خاتمے کے بغیر دہشت گردی پوری طرح ختم نہیں ہو سکتی دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک جنگ جاری رہے گی۔

القاعدہ کی مضبوطی کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکبر بگٹی کا پوتا برآمداد بگٹی اور بالاچ مری اس وقت کابل میں مقیم ہیں اور وہاں بیٹھ کر وہ تخریب کاری کی کارروائیاں کرا رہے ہیں۔ صدر مشرف نے جامعہ حفصہ کے آپریشن کے حوالے سے کہا کہ اس آپریشن کو کرنے کے لئے وقت چاہئے تھا تاکہ کمانڈوز اندر داخل ہوں تو وہ کمپاؤنڈ کی چھتوں پر اور اس کی عمارت پر کنٹرول حاصل کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ کمانڈوز نے ماسک لگا کر آپریشن میں حصہ لیا۔ ملک میں انتہا پسندی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت 3 قسم کی مشکلات ہیں جس میں ایک القاعدہ ہے جو ملک میں کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ طالبان بھی ہیں جن میں کچھ جنگجو طالبان ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو حکومت کے ساتھ تعاون بھی کر رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ تیسری بڑی جو مشکل ہے وہ معاشرے میں انتہا پسندی کی جو لہر فروغ پا رہی ہے وہ زیادہ خطرناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض علاقے جن میں بنوں‘کوہاٹ‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور لکی مروت شامل ہیں ان میں چرسی طالبان جن کے حلیے تو طالبان جیسے ہیں لیکن وہ طالبان نہیں بلکہ وہ منشیات کے عادی ہیں اور یہ مختلف دکانوں پر جا کر لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں ۔ صدر نے کہا کہ جامعہ حفصہ کا جب محاصرہ کیا گیا تھا اس وقت 2 ہزار لوگ باہر آ چکے تھے جبکہ اس کے بعد 13 سو افراد باہر نکلے ہیں۔ اس موقع پر صدر نے میڈیا سے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرے تاکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ جیتی جا سکے۔