صدارتی الیکشن پندرہ ستمبر سے پندرہ اکتوبر تک کرانا ضروری ہے بارہ نومبر سے پندرہ نومبر کے درمیان قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی ۔ حکومتی ذرائع

اتوار جولائی 18:50

کوئٹہ( ٍٍاردوپوانئٹ اخبار تازہ ترین22 جولائی2007) قانونی ماہرین کی طرف سے وزیر اعظم کو بتایا گیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے صدارتی الیکشن پندرہ ستمبر سے پندرہ اکتوبر تک کرانا ضروری ہے جبکہ بارہ نومبر سے پندرہ نومبر کے درمیان قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی اور اس کے بعد عام انتخابات قانونی طور پر ہونے چاہئیں اور یہ انتخابات بارہ نومبر سے پہلے بھی ہو سکتے ہیں ۔

یہ وزیراعظم شوکت عزیز کی زیر صدارت ایک روز قبل وفاقی وزراء اور پارٹی قائدین کے اجلاس کے دور ان قانونی ماہرین نے بتائی ۔

(جاری ہے)

اسلام آباد سے ایک وفاقی وزیر نے این این آئی کو بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے تینوں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور صوبہ سرحد کے مسلم لیگ کے صوبائی صدر کواس سلسلے میں خصوصی ہدایت جاری کر دی گئی ہے انہوں نے مزید بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف موجودہ اسمبلیوں سے ہی صدر منتخب ہونگے وزیراعظم شوکت عزیز نے وفاقی وزراء اور تینوں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اور صوبہ سرحد مسلم لیگ کے صوبائی صدر کو بھی ہدایت جاری کی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کیلئے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کیلئے لابنگ تیز کی جائے تاکہ صدارتی الیکشن کے موقع پر کوئی مشکل پیش نہ آئے ذرائع نے بتایا کہ عام انتخابات اگلے سال ہونے کے کوئی امکانات نہیں بلکہ اسی سال کے آخر تک منعقد ہونگے اور اسمبلیاں اپنی مدت پہلی مرتبہ پوری کرینگی چاروں صوبوں میں مسلم لیگ نے اپنے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی فہرستوں کی تیاری کا کام بھی شروع کر دیا ہے اور اس سلسلے میں چاروں صوبوں میں مسلم لیگ کے صدور مسلم لیگ کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کے انٹر ویو کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور جلد رپورٹ پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی صدر چوہدری شجاعت حسین اور مرکزی سیکرٹری جنرل و سنیٹر مشاہد حسین کو بھیجی جائے گی جو اپنی سفارشات کے ساتھ حتمی منظوری کیلئے قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کی لسٹ صدر جنرل پرویز مشرف کو پیش کرینگے۔