Live Updates

مقبوضہ کشمیرمیں فوج کی تعداد میں 12ہزاراضافے کا فیصلہ

ہفتہ اگست 12:43

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18اگست۔2007ء) بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیرمیں فوج کی تعداد میں 12ہزار کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پی ڈی پی کے فوجی انخلاء کے مطالبے کو زبردست دھچکہ لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وادی میں موسم گرما کی شروعات کے ساتھ ہی لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی وارداتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوجاتا ہے اور اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے سرحدوں پر تعینات افواج کو چوکس کردیا جاتا ہے جبکہ بعض اوقات کچھ علاقوں میں دراندازی پر قابو پا نے کیلئے اضافی افواج کی ضرورت پڑتی ہے۔

چنانچہ سال 2007کا موسم گرما شروع ہوتے ہی کنٹرول لائن پر حسب روایت دراندازی کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیاگیا جس کے پیش نظر سرحدوں کی نگرانی کرنے کیلئے اضافی فوج کی ضرورت محسوس کی گئی۔

(جاری ہے)

اس کے بعد مرکزی وزارت دفاع کی منظوری سے لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹروں میں ہزاروں کی تعداد میں قریب ایک ڈویڑن تازہ دم فوجی اہلکاروں کو تعینات کیاگیا اور یہ تعداد وادی میں پہلے سے موجود فوج کے علاوہ ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ اضافی افواج کو خاص طور پر دراندازی کا مقابلہ کرنے کیلئے کنٹرول لائن پر مامور کیاگیاتاکہ دراندازوں کے خلاف اور موثر طریقے سے نپٹا جائے ۔ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے فوج کی 15ویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹنٹ جنرل اے ایس سکھون نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ وادی میں موسم گرما کے دوران فوج کی تعداد، میں 12ہزارسے زائد اہلکاروں کا اضافہ کیاگیا ہے ۔

دوسری طرف جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے فوجی انخلاء کے نعرے نے زور پکڑ لیا اور مرکزی حکومت پی ڈی پی سرپرست مفتی محمد سعید کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کرنے کیلئے آمادہ ہوئی۔ مفتی محمد سعید کی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ساتھ کئی ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم نے فوج کی تعداد میں کمی کرنے اور انہیں حاصل خصوصی اختیارات کی واپسی کے معاملات پر خصوصی کمیٹیاں تشکیل دیں۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات

متعلقہ عنوان :