Live Updates

کچھ ممبران کا جنرل مشرف کی تقریب میں نہ جانا جمہوریت کا حصہ ہے ‘ کسی کے ملک میں واپس آنے سے مسلم لیگ کو فرق نہیں پڑیگا۔ محمد علی درانی۔۔خطے میں امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے ‘ ڈاکٹر قدیر کی موجودہ حیثیت انکے اور ملک دونوں کے مفاد میں ہے ‘ تقریب سے خطاب

اتوار اگست 16:25

لاہور( ٍٍاردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین19 اگست 2007) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ کوئی ملک میں واپس آئے یا نہ آئے مسلم لیگ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑیگا ‘ کچھ ممبران کا جنرل پرویز مشرف کی ملتان میں تقریب میں نہ جانا جمہوریت کا حصہ ہے ۔ ڈاکٹر قدیر کی موجودہ حیثیت انکے اور ملک دونوں کے مفاد میں ہے انکی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ۔

پاکستان بھارت سمیت تمام ممالک سے امن اور بہتر تعلقات چاہتا ہے لیکن کسی کی ڈکٹیشن کو قبول نہیں کیا جائیگا اور تمام فیصلے ملکی مفاد میں کئے جائینگے ۔ باہر جانیوالے والے اپنی مرضی سے گئے اور اپنی مرضی سے ہی واپس آئینگے مگر انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے خطے میں استحکام پیدا ہوا ہے اور امن کے امکانات بڑھے ہیں ۔

(جاری ہے)

وہ گزشتہ روز نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن اور بزم اقبال کے دورہ کے موقع پر شرکاء سے خطاب اورصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سینیٹر نعیم چٹھہ‘ رکن قومی اسمبلی مہناز رفیع ‘ نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر رفیق احمد‘ بزم اقبال کے سیکرٹری جنرل مرزا مظفر احمد بھی موجود تھے ۔ محمد علی درانی نے کہا کہ ہم نے پاکستان کو یقینا حاصل کیا لیکن اب بھی ایسے اقدامات ہیں کرکے ہی ہم اپنے ملک پر فخر اور دنیا میں ایک مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔

پاکستان نے سائنسی ٹیکنالوجی ‘ معاشی اور جمہوری استحکام حاصل کیا ہے اور ایسی قوتیں جو عوام کو ذہنی غلام اور مرعوبی کی طرف لیجانا چاہتی ہیں انہیں ناکامی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قائم رہنے کیلئے بنا اور یہ نظریہ پاکستان کے تحت رہتی دنیا تک قائم رہیگا ۔ موجودہ مسلم لیگ کی حکومت بھی پاکستان کو نظریہ پاکستان کے مطابق ملک کو چلا رہی ہے اور اسکے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

پاکستان میں بھی سیاست کرنے کا صرف ان لوگوں کو حق ہے جونظریہ پاکستان پر یقین پر رکھتے ہیں ۔ پوری قوم اپنی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتی ہے اور کسی کو اسکی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ انکی خلاف ورزی کرے ۔ پاکستان دنیا میں ایک پہچان رکھتا ہے اور امت مسلمہ میں لیڈنگ رول ادا کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تکمیل کے حصول کیلئے مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل ہونا چاہیے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے نہ ہی خطے میں استحکام اور ترقی ممکن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ امن کمزوری سے حاصل نہیں ہوتا ‘ پاکستان کے نیوکلیئر طاقت بننے پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے لیکن آج ہم نے ثابت کیا ہے کہ اس سے خطے میں استحکام اور امن کے امکانات بڑھے ہیں ۔ پاکستان کا نیوکلیائی پروگرام دنیا میں ایک حقیقت ہے اور ہمسایہ ملک کو دیکھتے ہوئے اس پروگرام کا ہونا ضروری تھا ‘ اس پروگرام پر اعتراض کرنا ہر کسی کا حق ہے لیکن فیصلہ کرنا ہمارا حق ہے ۔

نیوکلیائی پروگرام کا کریڈٹ سولہ کروڑ عوام کو جاتا ہے ۔ محمد علی درانی نے کہا کہ کچھ لوگ بھارت اور دیگر ممالک میں جا کر پاکستان کا اقتدار حاصل کرنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اب تبدیلی صرف ووٹ سے آئے گی ۔ جو لوگ باہر گئے وہ اپنی مرضی سے گئے سب کو پاکستان میں آنا چاہیے مگر سب یاد رکھیں کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ۔

پاکستان مسلم لیگ کو کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑیگا ‘ موجودہ حکومت نے عدلیہ ‘ فوج ‘ میڈیا اور پارلیمنٹ کو آئین پاکستان کے تحت چلایا ہے اور ملک کو مضبوط کیا ہے ۔ ہم نے اختلافات کے باوجودتمام فیصلوں کو قبول کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کے ملتان کے دورے کے دوران کچھ اراکین نے ان سے ملاقات نہیں کی تو اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے اور ممبران اسمبلی ربوٹ نہیں ہیں ۔ قومی اسمبلی ہو یا سینٹ حکمران لیگ سے تعلق رکھنے والے لوگ حکومت پر تنقید بھی کرتے ہیں لیکن ماضی کی حکومتوں میں کسی کو اتنی جرات نہیں تھی ۔ ڈاکٹر رفیق احمد نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کو نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کے بارے میں بریفنگ دی ۔
تنازعہ مقبوضہ کشمیر کی بھڑکتی ہوئی آگ سے متعلق تازہ ترین معلومات