وکلاء ، صحافی و سیاسی کارکنان پر پولیس تشدد قابل مذمت ہے۔ بیگم کلثوم نواز

اتوار ستمبر 17:12

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین30ستمبر2007) سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز اسلام آباد اور پشاور گونر ہاؤس کے سامنے وکلاء اور صحافیوں پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف ملک میں دہشت اور جبر کے ذریعے قابض رہنا چاہتاہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں پولیس تشدد سے زخمی ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ملک ندیم کامران اور صحافیوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اسلام آباد میں مظاہرے کے دوران اراکین قومی اسمبلی رانا محمود لاحسن،حنیف عباسی اور دیگر کارکنوں کی گرفتاری کی بھی مذمت کی ہے ۔ انہوں نے اسلام آباد میں پولیس لاٹھی چارج سے ہونے والے زخمی ہونے والے صحافیوں سے ٹیلی فون پر عیادت کی اوران کی ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکمران ملک میں آزادی صحافت کی موجودگی کے دعوے کرتے ہیں اور دوسری جانب وہ ان کو اپنے پیشہ وارانہ فرض کی ادائیگی سے روکنے کیلئے ان پر وحشیانہ تشدد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس طرح ظلم و جبر کے ذریعے نہ تو کسی کے قلم کو توڑ ا جا سکتا ہے اورنہ ہی زبان بندی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ جو حکمران جتنا بڑا ظالم ہوتا ہے وہ اندر سے اتنا ہی بزدل ہوتاہے اور جنرل پرویز مشرف کا عمل بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اندر سے کتنے خوفزدہ ہیں ، پہلے اس نے آئینی طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹا پھر بینچ پر وار کیا ۔

اور بار اور صحافت پر وار کرکے اسے اپنے تابع کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔لیکن انہیں اس میں کبھی کامیابی نہیں ہو گی کیونکہ اب بنچ و بار ، صحافی اور جمہوریت پسند سیاسی قوتیں متحد ہو کر ملک کو آمریت سے نجات دلا کر ایک عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کیلئے جدو جہد شروع کر چکے ہیں جو آئندہ چند روز میں کامیابی سے ہمکنار ہونگے۔