دھاندلی کے خدشات کے باوجود مسلم لیگ (ن)الیکشن میں حصہ لے گی۔۔۔ پاکستان میں وزرائے اعظم کوکبھی قتل ، کبھی جلاوطن کیا جاتا تو کبھی پھانسی دی جاتی ہے،2 نومبر والی عدلیہ بحال کر کے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کروائی جائیں تو عوام کیلئے قابل قبول نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن موقع کی مناسبت سے درست فیصلے کرینگی،نواز شریف کی پریس کانفرنس

پیر دسمبر 18:32

لاہور (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین .31 دسمبر2007 ) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف نے پیپلز پارٹی کامطالبہ تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دھاندلی کے خدشات کے باوجود ہماری جماعت الیکشن میں حصہ لے گی انہوں نے اپنا تین نکاتی مطالبہ دہرایا ہے کہ صدر مشرف فوری طور پر مستعفی ہوجائیں ، آئینی طریقے کے مطابق قومی حکومت تشکیل دی جائے اور آزادانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں ۔

پاکستان میں ہمیشہ وزرائے اعظم کو نشانہ بنایا جاتا ہے ،کبھی انہیں قتل ، کبھی جلاوطن کیا جاتا ہے تو کبھی پھانسی دی جاتی ہے۔2 نومبر والی عدلیہ بحال کر کے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کروائی جائیں تو عوام کیلئے قابل قبول نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن موقع کی مناسبت سے درست فیصلے کرینگی۔

(جاری ہے)

پیر کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہم نے آٹھ جنوری کو ہی انتخابات کا مطالبہ کیا ہے لیکن اس کے باجوجود ق لیگ کے کہنے پر انتخابات کو آگے لے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں،صدر مشرف کے اقدامات نے ثابت کردیا کہ ان کی موجودگی میں انتخابات شفاف نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اس تین نکاتی مطالبے کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہیں کہ صدر مشرف فوری طور پر مستعفی ہو جائیں ، ان کے استعفے سے بدامنی اور بے چینی کا بڑا سبب دور ہو جائے گا بہتر یہی ہے کہ مشرف مزید خون خرابے کے بغیرچلے جائیں دوسرا آئینی طریقہ کے مطابق سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے قومی حکومت تشکیل دی جائے اور تیسرا یہ کہ قومی حکومت آزادانہ اور شفاف طریقے سے انتخابات کرائے ، صرف اسی طرح سے ہم ملک کو جمہوری طریقے سے چلا سکتے ہیں ، نواز شریف نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ دوسرے ممالک ہمارے ملک کے معاملات میں مداخلت کریں اگر وہ جمہوریت کیلئے آواز نہیں اٹھا سکتے تو آمریت کی سرپرستی بھی نہ کریں ، انہوں نے کہا کہ جب تک عوامی حکومت قائم نہیں ہوتی ملک میں انتہاء پسندی اور دہشت گردی ختم نہیں ہوگی ملک اسی طرح بدامنی کا شکار رہے گا ، انہوں نے کہا کہ انہوں نے بینظیر کے قتل کے بعد عوام سے یکجہتی کے باعث انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے نوڈیرو میں مجلس عاملہ کمیٹی کے اجلاس میں اپیل کی کہ ہم انتخابات میں حصہ لیں ، اس لئے وہ بدستور الیکشن میں موجود ہیں اور دھاندلی کے خطرات کے باوجود الیکشن لڑینگے ، بینظیر بھٹو عالمی رہنماء تھیں جنہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کیلئے بہت جدوجہد کی انہوں نے کہا کہ صدر مشرف ملک میں غیر یقینی صورتحال کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے عدلیہ کو معزول کیا آئین معطل کیا اور میڈیا پر پابندیاں عائد کیں جو کہ آمریت کی بدترین مثال ہے۔

بعد ازاں سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ہم نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ انتخابات آٹھ جنوری کو ہی ہوں لیکن ق لیگ اور صدر مشرف انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں اور وہ اس عمل سے فرار ہونے کی راہ تلاش کررہے ہیں کیونکہ انہیں اپنی شکست واضح نظر آرہی ہے جس کیلئے وہ الیکشن کمیشن کو بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ دار لوگوں کے بارے میں بینظیر بھٹو نے مارک سیگل کو لکھے گئے ایک خط میں واضح کردیا ، جس میں محترمہ نے کہا کہ میری موت کے ذمہ دار تین شخص ہیں جبکہ بعد میں انہوں نے خود ہی یہ کہا کہ چوتھے شخص صدر پرویز مشرف ہونگے ، انہوں نے کہا کہ 2 نومبر والی عدلیہ بحال کر کے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کروائی جائیں تو عوام کیلئے قابل یقین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ، آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن موقع کی مناسبت سے درست فیصلے کرینگی اگر آمریت کے خاتمے کیلئے ہم ایک دوسرے سے تعاون کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ وزرائے اعظم کو ہی نشانہ بنایا جاتا رہا کبھی ہمیں جلاوطن کیا جاتا ہے ، کبھی پھانسی دی جاتی ہے اور کبھی قتل کیا جاتا ہے اور یہ کام ہر مرتبہ جرنیلوں نے ہی کئے ۔

جن جرنیلوں کو ہم نے ملک کے دفاع کیلئے ہاتھ میں بندوق پکڑوائی تھی آج وہ ان بندوقوں سے ہمیں ہی مار رہے ہیں ، ہم نے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ ذاتی مفادات کیلئے نہیں بلکہ پیپلز پارٹی اور سندھ کے عوام سے یکجہتی کیلئے کیا تھا ، انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے باوجود اگر پیپلز پارٹی نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے وہ فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں اور ہم ان کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت اپنی جگہ قائم ہے ، ہم اس پر عمل کرنے کا پورا پورا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ اس پر عمل کرنے سے پاکستان کے بہت سے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایک دن چیف جسٹس سمیت تمام معزول ججز بحال ہو جائیں گے ۔