صدر پرویز مشرف کی موجودگی میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں‘اسد فقیر

منگل جنوری 12:54

صوابی (اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین 01. جنوری2008 ) پاکستان تحریک انصاف صوبہ سرحد کے سربراہ اسد فقیر نے کہا ہے کہ پاک آرمی اپنا آئینی حق استعمال کر کے ملکی سرحدات کے تحفظ تک محدود ہو کر ملکی سیاست سے فوج اور ایجنسیوں کا کردار ختم کیا جائے-یہاں ضلعی صدر محمد سہیل یوسفزئی اور صوبائی رہنماء مظہر علی کے ہمراہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں صدر پرویز مشرف فوری طور پر اقتدار سے الگ ہو جائیں عدلیہ بحال کر کے 1973ء کے آئین کے مطابق سارے اقدامات اٹھائیں انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے المناک قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی سازش کا نتیجہ ہے کیونکہ پاکستان دنیا میں واحد اسلامی ملک جس کی ایٹمی قوت دشمن کی نظروں میں کانٹا ہے ان کا قتل ملک کی بقاء سالمیت کے خلاف ایک سازش ہے تاکہ پاکستان میں بدامنی پیدا ہو کر نیٹو یا کسی اور ملک کی افواج کو پاکستان میں داخل ہونے کا موقع ہاتھ آنے کیلئے جواز پیدا کیا جا سکے-لیکن عالمی دنیا یہ یاد رکھے کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں یہاں نیٹو افواج کا داخل ہونا ان کی خام خیالی ہو گا پاکستان میں ان کا حال افغانستان اور عراق سے بدتر ہو گا پاکستان کے عوام ہر غاصب کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں اسد فقیر نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے صاحبزادے بلاول زرادری کو پی پی پی کا چیئرمین مقرر کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی وفاق پر انشاء اللہ کبھی بھی سودا بازی نہیں کرے گی جذبات کی بجائے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرے گی انہوں نے کہاکہ صدر پرویز مشرف کی موجودگی میں شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں کیونکہ اس وقت عدلیہ پابند سلاسل ہے میڈیا پر پابندی ہے 1973ء کا آئین معطل ہے تمام ادارے مفلوج ہیں-

متعلقہ عنوان :