کینیا میں انتخابات کے بعد فسادات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد تین سو سے تجاوز کرگئی ،، افریقی یونین کے چیئر پرسن فریقین کے درمیان ثالثی کیلئے آج نیروبی پہنچ رہے ہیں

بدھ جنوری 12:46

نیروبی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔2جنوری۔2008ء) کینیا میں صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد شروع ہونے والے فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد تین سو سے تجاوز کرگئی ہے ۔ دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کاکہنا ہے کہ کینیا میں فسادات کے خاتمے کیلئے افریقی یونین کے چیئر پرسن آج نیروبی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ صدر موائی کیباکی اور ان کے حریف رائلہ اوڈنگا سے مذاکرات کریں گے ۔

مغربی ملکوں نے کینیا کے عوام پر زور دیا ہ کہ وہ پر امن رہیں اور افریقی ملک کی سب سے بڑی معیشت میں سیاحوں کو نشانہ نہ بنایا جائے ۔ ادھر برطانوی وزیر اعظم گورڈن براوٴن نے افریقی یونین اور دولت مشترکہ پر زور دیا ہے کہ وہ کینیا میں متحارب قبائل کے درمیان مصالحت کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہاکہ افریقی یونین کے چیئر پرسن جون کوفر آج کینیا پہنچ رہے ہیں جس سے وہاں فسادات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

(جاری ہے)

کینیا کے صدر موائی کیبیاکی نے الزام عائد کیاہے کہ رائلہ اوڈنگا کے حامی نسل کشی کے مرتکب ہورہے ہیں دوسری جانب اوڈنگا کاکہنا ہے کہ کیباکی نے دھاندلی کے ذریعے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ گذشتہ روز سیکڑوں افراد نے مغربی ضلع ایلڈوریٹ کے ایک چرچ میں پناہ لینے والے پچاس سے زائد افراد کو زندہ جلا دیا تھا جس کے بعد فسادات کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد تین سو سے تجاوز کرگئی ہے ۔

متعلقہ عنوان :