جمہوریت دشمن عناصر ججز کی بحالی کے مسئلے کو بحران بنا کر جمہوریت کے سفرکوروکنے کی کوشش کر رہے ہیں، حسین حقانی

پیر مئی 15:22

لندن(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین12مئی2008 ) پیپلز پارٹی کی طرف سے مسلم لیگ ن سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے رکن حسین حقانی نے کہا ہے کہ چند جمہوریت دشمن عناصر ججز کی بحالی کے مسئلے کو بحران بنا کر جمہوریت کے سفر کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تیزی کے ساتھ ججوں کو بحال کرنے کا اعلان زیادہ بڑی کامیابی ہے بہ نسبت اس کے کہ ججوں کی بحالی ہو اور آزاد عدلیہ قائم ہو۔

غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر یقیناً ایسی سیاسی فضا پیدا کر رہے ہیں جس میں وہ یہ شور مچا رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے اپنے مفادات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیرکی موت سے پہلے بھی بہت زیادہ ڈیل ڈیل کا ڈھول پیٹا گیا تھا اور اس سے پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

بدقسمتی سے ایسے عناصر موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو جمہوریت سے محروم رکھنے کے لیے پیپلز پارٹی پر مسلسل دباوٴ رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بالکل واضح موقف رکھتی ہے کہ عدلیہ کو بحال ہونا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کو بحال ہونا چاہیئے لیکن اس کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہیئے کہ کسی طالع آزما کو پاکستان میں جمہوریت کے سفر کو روکنے کا موقع نہ ملے۔انھوں نے کہا کہ بہت سے ایسے لوگ جو ماضی میں غیر جمہوری قوتوں کی آواز بنے رہے ہیں آج آپ کو ان کی آوازیں سننے کا موقع مل رہا ہے جبکہ انتخابات کے بعد یہ حضرات خاموش ہو گئے تھے۔

خاص طور پر وہ لوگ جو چار پانچ الیکشن جیتنے کے بعد بالآخر شکست کھا گئے وہ بھی آج دوبارہ سے اپنے کونے کھدروں سے نکل کر آوازیں لگانا شروع ہو گئے ہیں کہ جمہوریت کی گاڑی رک گئی، جمہوریت کی گاڑی پٹری سے اتر گئی۔اس سے غیر جمہوری قوتوں کی خوشی کو دیکھ کر جمہوری قوتوں کو سمجھ جانا چاہیئے کہ ان کا مفاد کیا ہے۔ حسین حقانی نے بارہ مئی کی ڈیڈ لائن کے حوالے سے کہا کہ اگر معاملہ طے نہ ہو سکے تو ڈیڈ لائن کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔

ڈیڈ لائن تو مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے ہوتی ہے۔ اس حوالے سے نہیں ہے کہ مسئلے کا اس تاریخ تک حل ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان مسلم لیگ کوئی فیصلہ کرتی ہے تو یہ ان کا سیاسی اور آئینی حق ہے کہ وہ اپنی سمجھ کے مطابق فیصلے کریں لیکن پی پی پی کی خواہش یہی ہے کہ اتحاد برقرار رہے۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ججوں کی بحالی ایک اہم نکتہ ہے لیکن جمہوریت کی بحالی اور ججوں کی بحالی آپس میں غیر منسلک نہیں کیے جا سکتے۔

کیونکہ اگر ججوں کی بحالی کے طریقہ کار میں ایسا سقم رہ جاتا ہے جس سے جمہوریت کی بحالی کو خطرہ لاحق ہو جائے تو میرا یہ خیال ہے کہ ہم سب کو اس بات پر غور کرنا چاہیئے کہ کہیں ہم گٹھلیاں گننے کے چکر میں آم کھانے سے محروم تو نہیں ہو رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں نواز شریف صاحب کا موقف بھی اصولی ہے اور پیپلز پارٹی کا موقف بھی اصولی ہے۔

فرق صرف اتنا ہے کہ طریقہ کار کے بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقدمے میں دو وکیل الگ الگ دلیلیں دے رہے ہوتے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ قانون کی دو الگ الگ تشریحات ممکن ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ سیاست میں لچکدار رویہ اختیار کرتے ہیں وہ تو طوفانوں سے بچ جاتے ہیں لیکن سخت گیر موقف کے نتیجے میں مشکلات زیادہ گہری ہوتی جاتی ہیں۔

متعلقہ عنوان :