امریکہ ،سان فرانسسکو میں پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی

جمعہ جنوری 12:13

نیو یارک (اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔02جنوری 2009 ء) دنیا کے اکثر ملکوں میں فلاحی تنظیمیں مختلف سماجی فلاحی منصوبے چلارہی ہیں۔ کچھ تنظیمیں سڑکوں اور گلی کوچوں سے پلاسٹک کے بیگ اور تھیلے چنتی ہیں کیونکہ وہ نکاسی آب کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ پیداکرتے ہیں۔ اسی بنا پر دنیا کے کئی ملکوں میں پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندیاں عائد ہیں۔ ان ممالک کی فہرست میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کا شہر سان فرانسسکو میں بھی شامل ہوگیا ہے جہاں چند ماہ پہلے پلاسٹک بیگ کا استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔

شہر کے قریب ایک علاقہ سن سیٹ سکیونجر ڈمپ ہے۔ یہاں پر سان فرانسسکو میں مقیم تقریبا آٹھ لاکھ بیس ہزار افراد کے گھروں سے جمع کیا جانے والاکوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے۔ اس میں ایک بڑی تعداد میں پلاسٹک کے تھیلے بھی ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

پلاسٹک کے یہ تھیلے سودا سلف کی خریداری کے لیے بکثرت استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہیں بنانا بہت آسان ہے مگر انہیں ضائع کرنا بے حد دشوار ہے۔

سن سیٹ سکیونجر ڈمپ کے ایک ترجمان رابرٹ ریڈ کا کہنا ہے کہ یہ لفافے بہت خطرناک ہیں۔ کیونکہ یہ بہت ہلکے پھلکے ہوتے ہیں اور ہوا کے ساتھ کھیتوں اور تالابوں میں اڑتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں سے یہ لفافے سمندر تک پہنچ سکتے ہیں جہاں یہ آبی جانوروں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پہلے یہاں ہر سال تقریباً پلاسٹک کے 18 کروڑ تھیلے اکھٹے کر کے ضائع کردیے جاتے تھے ، مگر پھر بھی کچھ بچ رہتے تھے اور پھر یہ ایک بے حد دشوار کام تھا چنانچہ اس وجہ سے ایک قانون کے ذریعے بڑی سپر مارکیٹوں میں پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی لگوا دی۔

میکاریمی کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں چھوٹی دکانوں پر بھی عائد کرنی ہوں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اخباروں پر لپیٹے جانیو الے پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی لگانے کے ایک منصوبے پر غور ہورہاہے۔

متعلقہ عنوان :