شمالی وزیرستان میں امریکی میزائل حملے،طالبان رہنما حاجی عمر سمیت7افراد ہلاک

جمعہ جنوری 18:41

وانا(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔1جنوری۔ 2010ء) شمالی وزیر ستان میں بارہ گھنٹوں میں دو امریکی ڈرون طیاروں کے میزائل حملے کے نتیجے میں تحریک طالبان کے ا ہم رہنما حاجی عمر ہلاک ہوگئے  حاجی عمر نے2005ء میں وانا میں حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا جوزیادہ دیر تک نہیں چل سکا  نیک محمد کی ہلاکت کے بعد جانشین مقر ر ہوئے تھے اطلاعات کے مطابق پہلا حملہ جمعرات کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے تحصیل میر علی کے مچی خیل گاوٴں میں ہوا۔

اس حملے میں ایک مقامی شخص کریم خان کے حجرے کو نشانہ بنایا گیا جس میں تحریک طالبان کے مرکزی رہنما حاجی عمرسمیت چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔دوسرا ڈرون حملہ جمعہ کی صبح ساڑھے آٹھ بجے کے تحصیل میر علی اور میران شاہ کے درمیان واقع علاقے غنڈئی کلی میں ہوا۔

(جاری ہے)

اس حملے میں ایک کرولا کار کو نشانہ بنایا گیا جس سے اس میں سوار تین افراد مارے گئے ہیں۔

دونوں حملوں میں ڈرون طیاروں نے دو دو میزائل داغے۔خیال ہے کہ شمالی وزیرستان میں مبینہ امریکی حملے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب اس سے متصل جنوبی وزیرستان میں پاکستان فوج نے بیت اللہ گروپ کے طالبان کے خلاف کئی ہفتے سے فوجی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے اور حکام کے مطابق زیادہ تر علاقے پر فوج کو کنٹرول حاصل ہوگیا ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جنوبی وزیرستان سے بڑی تعداد میں طالبان جنگجو شمالی وزیرستان، اورکزئی ایجنسی اور دیگر قبائلی علاقوں کی طرف منتقل ہوچکے ہیں دریں اثناء حاجی عمر کے قریبی رشتہ داروں نے تصدیق کی کہ حاجی عمر گزشتہ شام شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی کے علاقے موچی خیل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے گروپ کے ساتھیوں نے ان کی لاش ان کے آبائی گاوٴں کالوشہ روانہ کردی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ شام ایک امریکی ڈرون حملے میں چار افراد افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔مقامی حکام نے برطانوی ریڈیو کو بتایا تھا کہ اس حملے میں ایک مقامی شخص کریم خان کے حجرے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کریم خان کا ایک بیٹا اور ایک خاتون بھی ہلاک ہوگئی تھی۔

یاد رہے کہ2005 میں حاجی عمر نے وانا میں حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا تھا لیکن وہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکا۔انہوں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور سرحد پار امریکیوں پر حملوں کا باقاعدہ اعلان کیا تب سے وہ حکومت کو مطلوب تھے۔48 سالہ حاجی عمر افغانستان میں طالبان دور سے پہلے افغان جہاد میں لڑ چکے تھے اور کئی بار زخمی بھی ہوئے تھے۔ افغانستان میں طالبان کے حکومت کے خاتمہ کے بعد وہ امریکہ کے خلاف جنگ میں طالبان کے ساتھ شامل ہوگئے اور افغان طالبان کے اہم رہنماوٴں سے ان کے اچھے تعلقات تھے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ حاجی عمر ایک تجربہ کار جنگجووٴں کمانڈر تھے اوران کی ہلاک سے طالبان کی مزاحمتی تحریک کو کافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔پاکستان کی فوج پر حملوں کے حوالے سے حاجی عمر کا موقف تھا کہ امریکی کے اتحادیوں پر حملہ کرنا جائز ہے۔ حاجی عمر نے کچھ عرصہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے راستے نیٹو افواج کے لیے سپلائی لے جانے والے قافلوں پر حملوں کی ذمہ انہیں سونپی گئی تھی جسے ان کے گروپ نے نہایت کامیابی کے ساتھ ادا کیا تھا۔