17 ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن جدوجہد کاوقت آگیا ، حکومت نے ریڈ لائن عبور کی تو ن لیگ سامنے ہوگی، احسن اقبال ،اگر ترمیم ختم نہ ہوئی تو عدلیہ کی بحالی کی طرح کے کردارسے گریز نہیں کرینگے، سانحہ کراچی کیلئے اعلی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے،این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالا جائیگا،این آر او زدہ وزراء استعفیٰ دیں ،جمہوریت میں اگر کارکردگی ٹھیک نہ ہو تو کوئی ہتھیار کام نہیںآ تا، این ایف سی کی طرح صوبائی خود مختاری کے پیکیج پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائیگا، نیب میں سیاسی بنیادوں پر اکھاڑ بچھاڑ شروع ہوگئی ہے تاکہ این آر او کیسز پر اثر انداز ہوا جاسکا، پریس کانفرنس سے خطاب

جمعہ جنوری 18:52

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔1جنوری۔ 2010ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے کہاہے کہ 17 ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن جدوجہد کاوقت آگیا ہے۔ حکومت کو موقع دینگے اگر آئین کو پاک نہ کیا تو عدلیہ کی بحالی کی طرح کا کردار ادا کرنا پڑا تو گریز نہیں کرینگے، سانحہ کراچی کیلئے اعلی سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔

این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرانے کیلئے دباؤ ڈالا جائیگا،،این آر او زدہ وزراء استعفیٰ دیں اور سوئس اکاؤنٹس میں موجود چھ کروڑ ڈالر واپس لائے جائیں،مصالحت کے نام پر قومی دولت لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیاجاسکتا، این ایف سی کی طرح صوبائی خود مختاری کے پیکیج پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائیگا،اگر حکومت ریڈ لائن کو کراس کریگی تو مسلم لیگ ن سامنے ہوگی، نیب میں سیاسی بنیادوں پر اکھاڑ بچھاڑ شروع ہوگئی ہے تاکہ این آر او کیسز پر اثر انداز ہوا جاسکے،،جمہوریت میں صرف ایک سیاسی ہتھیار ہوتا ہے اوروہ کارکردگی ہے ، اگر کارکردگی ٹھیک نہ ہو تو کوئی ہتھیار کام نہیںآ تا، احتساب کیلئے میثاق جمہوریت میں جو فریم ورک ہے اس پر عملدرآمد کیا جائے۔

جمعہ کو میڈیا کوآرڈینٹر عاصم خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے اصولی سیاست کومتعارف کرایا ہے، امید ہے کہ 2010ء ملک میں حقیقی جمہوریت کو بحال کرانے میں اہم ثابت ہوگا۔ مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کو ملک میں مقبول ترین ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ جمہوریت کو مضبوط اور عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے ، ملک میں جب کوئی بحران اٹھتا ہے تو عوام کی نظریں مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کی طرف اٹھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویژن 2010ء پروگرام کا خاتمہ مشرف کے جرائم میں شامل ہے ۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو پاکستان ملیشیاء اور کوریا کے راستے پر چلتا ہوا ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتا، لیکن آج ہم کشکول لے کر پھرتے ہیں ، ملک غربت، جہالت اور اندھیروں کی تصویر پیش کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 2008ء کی طرح 2009ء کو بھی ضائع کردیا ہے ، میثاق جمہوریت پر عمل کرنے کیلئے بجٹ کی ضرورت نہیں تھی ، صرف سیاسی عزم درکار تھا، ملک آج بھی مشرف کے مسخ شدہ آئین کی روشنی میں چل رہا ہے،،احسن اقبال نے کہاکہ جس ملک میں پارلیمنٹ غیرفعال ہو وہاں جمہوری کارکردگی نہیں دکھائی جاسکتی، صدر زرداری کی طرف سے جمہوریت کے خلاف سازشیں ہونے کے بیان پر احسن اقبال نے کہا کہ کوئی سازش نہیں ہورہی، صرف حکومت کو اپنی کارکردگی کی وجہ سے سازشیں نظر آتی ہیں ، جمہوریت میں صرف ایک سیاسی ہتھیار ہوتا ہے اوروہ کارکردگی ہے ، اگر کارکردگی ٹھیک نہ ہو تو کوئی ہتھیار کام نہیںآ تا۔

اگر حکومت 2010ء میں اپنے وعدے پورے کر کے کارکردگی کو بہتر کرے تو سازشیں نظر آنا بند ہو جائینگی، انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ ن کو چاروں صوبوں میں حمایت حاصل ہے اس لئے اس سال کو مسلم لیگ (ن) کی تنظیم سازی کا سال قرار دیا گیا ہے۔ جنوری اور فروری میں ضلعی سطح پر جبکہ یکم مارچ سے 31 مارچ تک ممبر سازی کی مہم چلائی جائیگی، مئی اور جون میں اس عمل کو مکمل کر لیا جائیگا اورکارکنوں کی شمولیت کیساتھ تنظیمی صلاحیت کو مضبوط کیاجائیگا، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے انتخابات سے پہلے ممبران سے حلف لے کر وعدہ کیا تھا کہ وہ عدلیہ کو بحال کرائیں گے اگر انتخابات میں حصہ نہ لیتے تو پیپلز پارٹی اور ق لیگ کی مفاہمت کی وجہ سے تین نومبر کے اقدامات کو آئینی تحفظ مل سکتاتھا اور پھر پچاس سال بھی ججوں کو بحال کرانے میں کم ہوتے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل اداروں کی مضبوطی سے وابستہ ہے۔ مسلم لیگ ن کا پہلا ہدف سترہویں ترمیم کاخاتمہ ہے۔ اب فیصلہ کن جدوجہد کا وقت آگیا ہے تاکہ اس عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ اس کے بعد احتساب کا ادارہ قائم کیا جائے، میثاق جمہوریت میں درج تھا کہ حکومت اور اپوزیشن اتفاق رائے سے احتساب کیلئے شفاف نظام قائم کرینگے اور جس کو شبہ ہوگا کہ ان کے خلاف سیاسی مقدمات ہیں وہ ان کے سامنے پیش ہونگے۔

اگر مقدمات سچے ہیں تو سیاسی مصالحت کے نام پر قومی دولت لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیاجاسکتا، احتساب ادارے کے قیام کیلئے جدوجہد کو تیز کیاجائیگا کیونکہ کرپشن کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری رک چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے مکمل عملدرآمد کرنے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالیں گے اور عدلیہ کے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنے دینگے۔ نواز شریف اور شہباز شریف واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ قرضے معاف کرانے والوں کا بھی حساب لیا جائے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے حوالے سے پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد پر عمل نہیں کیا جارہا اور قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں ، حکومت دہشتگردی کے حوالے سے عملدرآمد کی رپورٹ پارلیمنٹ میں لے کر آئے ، انہوں نے کہا کہ کراچی سانحہ انتہائی تشویشناک ہے ، انٹیلی جنس رپورٹس بھی موجود تھیں ، واقعہ کی بعد وہاں لوٹ مار کی گئی اور قیمتی املاک کو نذر آتش کیا گیا، پولیس انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی کوئی آنسو گیس چلی انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سانحہ کی تحقیقات کیلئے اعلی سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کونسے عناصر اس میں ملوث ہیں ؟۔

حکومت متاثرہ افراد کی آباد کاری کیلئے اقدامات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ملک کو درپیش اہم مسائل کے اوپر روڈ میپ تیار کریگی اور ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ قائم کیا جائیگا اور یہ ورکنگ گروپ تمام اہم شعبوں پر بنایا جائیگا، جس سے حکومت اور عوام کو مسلم لیگ ن اپنے موقف سے آگاہ کریگی، حکومت نے آئی ایم ایف سے سمجھوتہ کر کے بجلی کے نرخوں میں اضافے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔

حکومت اس اضافے کو فوری طور پر واپس لے ۔ انہوں نے کہا کہ سوئس بینکوں میں موجود چھ کروڑ ڈالر کو فوری واپس لایا جائے کیونکہ یہ عوام کا پیسہ ہے اگر کسی اور کا ہے تو وہ ثابت کرے این ایف سی کی منظوری سے ثابت ہوگیا کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے، انہوں نے کہا کہ 2010ء میں آزاد پارلیمنٹ ، کرپشن کا خاتمہ ، گڈ گورننس ،میرٹ کو فروغ اور عوام کے مفادات کی نگہبانی کیلئے مسلم لیگ ن کردار ادا کریگی، خوشحال اور پرامن پاکستان قائم کیا جائیگا ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این آر او زدہ وزراء جمہوری اور اخلاقی طور پر استعفیٰ دیں، مسلم لیگ ن کو شدید تحفظات ہیں، انہوں نے کہا کہ نیب میں سیاسی بنیادوں پر اکھاڑ بچھاڑ شروع ہوگئی ہے تاکہ این آر او کیسز پر اثر انداز ہوا جاسکا، حکومت اوروزیر اعظم اس بات کو یقینی بنائیں کہ نیب میں سیاسی بنیادوں پر اکھاڑ بچھاڑ نہ ہوسکے۔ احتساب کیلئے میثاق جمہوریت میں جو فریم ورک ہے اس پر عملدرآمد کیا جائے۔

حکومت اعلانات کو نہ پورا کرنے کی ٹرافی لے رہی ہے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کی طرح صوبائی خود مختاری کے پیکیج پر بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائیگا، انہوں نے کہا کہ 17 ویں ترمیم کے خاتمے کیلئے حکومت کو ایک اور موقع دینگے ، اگر حکومت وعدے کو پورا نہ کرسکی تو جس طرح عدلیہ کی بحالی کیلئے کردار ادا کیا تھا، ا س سے گریز نہیں کیا جائیگا، مسلم لیگ ن بلدیاتی اداروں کی حامی ہے اوران کی بحالی کی جائیگی،نواز شریف کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ پارٹی کریگی، حکومت کی طرف سے میڈیا پر تنقید بجا نہیں ایک پتا بھی ہلتا ہے تو حکومت کہتی ہے کہ سازش ہو رہی ہے، حکومت اپنی کارکردگی بہتر کرے کیونکہ عوام اور حکومت میں خلیج پیدا ہو ر ہی ہے ۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے اگر کوئی ایسا ویسا قدم اٹھایا تو لوگ کہیں گے کہ سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں ،اگر حکومت ریڈ لائن کو کراس کریگی تو مسلم لیگ ن اپنا کردار ادا کریگی ۔

Your Thoughts and Comments