امریکی جج نے بلیک واٹر کے پانچ اہلکاروں کے خلاف 17 عراقیوں کی ہلاکت کا مقدمہ خارج کر دیا

جمعہ جنوری 18:52

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔1جنوری۔ 2010ء) امریکہ میں ایک وفاقی جج نے متنازعہ امریکی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے پانچ اہلکاروں کے خلاف 2007 میں سترہ عراقیوں کی ہلاکت کا مقدمہ خارج کر دیا ہے۔امریکی سفارتخانے کے عملے کے لیے تعینات ان پانچ افراد پر بغداد میں ایک ہجوم پر فائرنگ کرنے اور لوگوں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔بلیک واٹر کے ان پانچوں محافظوں نے عدالت میں اپنے اوپر عائد الزامات سے انکار کیا تھا جبکہ ایک چھٹے محافظ نے کم از کم ایک عراقی کو ہلاک کرنے کا اعتراف کیا ہے اور توقع تھی کہ وہ مقدمے کے دوران باقیوں کے خلاف اقبالی بیان دے گا۔

ڈسٹرکٹ جج ریکارڈو اربینا کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ انصاف نے جو ثبوت پیش کیے ہیں اسے انہیں استعمال کرنے کا حق نہیں تھا۔

یہ متنازعہ ثبوت ان بیانات پر مشتمل ہیں جو ملزمان نے وزارتِ خارجہ کے تفتیش کاروں کو دیے تھے اور جن کے بارے میں انہیں کہا گیا تھا کہ انہیں کسی فوجداری مقدمے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ملزمان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے خود حفاظتی کے لیے فائرنگ کی جبکہ عینی شاہدین اور ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ سولہ ستمبر 2007 کو ہونے والی یہ فائرنگ بلا اشتعال تھی۔

جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے دئے گئے دلائل میں کئی تضادات ہیں اور عدالت اس بات پر متفق نہیں ہوسکی کہ محافظوں کے خلاف مقدمے میں ان کے بیانات کو استعمال نہیں کیا گیا۔ جج کا کہنا تھا کہ استغاثہ ان بیانات کے بناء مقدمہ تیار کرنے میں ناکام رہا اور اس بارے میں امریکی حکومت کی وضاحت ’متضاد، ناقابلِ یقین اور ناقابلِ اعتبار ہے‘۔

امریکی محکمہ انصاف کے ترجمان ڈین بوائڈ کا کہنا ہے کہ اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ استغاثہ کا اگلا قدم کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے سے یقینی طور پر مایوس ہوئے ہیں اور ہم اپنے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔عراقی حکام نے امریکی عدالت کے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ لندن میں موجود ایک عراقی سفارتکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اب امریکی وزارتِ خارجہ پر منحصر ہے کہ وہ متاثر خاندانوں کو کس طرح انصاف مہیا کرتی ہے۔

.بغداد کے نصور سکوائر میں ہونے والی ان ہلاکتوں سے جہاں عراق اور امریکہ کے تعلقات میں تناٰوٴ پیدا ہوا تھا وہیں جنگ زدہ علاقوں میں امریکی ٹھیکیدار کمپنیوں کے کام کرنے پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد امریکی حکام نے بلیک واٹر کے سکیورٹی ٹھیکے میں توسیع روک دی تھی اور کمپنی نے اپنا نام بلیک واٹر سے بدل کر زی سروسز رکھ لیا تھا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments