لکی مروت،والی بال گراؤنڈ میں خود کش دھماکہ،85افراد جاں بحق، متعدد زخمی، کئی مکان اور دکانیں تباہ ، مسجد کو نقصان ، بچوں اور خواتین سمیت کئی افرادملبے تلے دب گئے ، ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ ،زخمیوں میں بعض کی حالت نازک۔اپ ڈیٹ

جمعہ جنوری 19:00

لکی مروت (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔1جنوری۔ 2010ء) لکی مروت کے علاقہ شاہ حسن خیل کے والی بال گراؤنڈ میں خود کش حملہ کے نتیجے میں85افراد جاں بحق اور متعدد زخمی، کئی مکان اور دکانیں تباہ ہوگئیں، ایک مسجد کو نقصان پہنچا، بچوں اور خواتین سمیت کئی افراد مکانات کے ملبے تلے دب گئے، ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

صدر اور وزیر اعظم نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سرحد حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے تین تین لاکھ اور زخمیوں کیلئے ایک ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام تقریباً پانچ بجے کے قریب ایک خود کش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی والی بال گراؤنڈ کے قریب دھماکہ خیز مواد سے اڑا دی جس کے نتیجے میں گراؤنڈ میں موجود درجنوں تماشائیوں اور کھلاڑیوں سمیت 85افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے دھماکے سے گراؤنڈ کے قریبی کئی مکان اور دکانیں تباہ ہوگئیں ذرائع کے مطابق بچوں اور خواتین سمیت کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں ہے ۔

(جاری ہے)

ڈی پی او لکی مروت نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایک کار خودکش حملہ تھا۔ یہ حملہ شاھ حسین خیل میں والی بال گراوٴنڈ میں ہوا جہاں اس وقت درجنوں افراد موجود تھے۔انہوں نے کہاکہ اس دھماکے کے نتیجے میں آس پاس کے گھر منہدم ہو گئے ہیں اور ان کے ملبے تلے افراد دبے ہوئے ہیں۔پولیس اہلکار فراز خان نے برطانوی ریڈیو کو بتایا کہ جمعہ کی شام کو لکی مروت کے صدر مقام سے بارہ کلومیٹر جنوب کی جانب شاھ حسن خیل میں اس وقت امن کمیٹی کے رضا کاروں پر اس وقت خودکش کار حملہ کیا گیا جب وہ وہ ایک والی بال میچ دیکھ رہے تھے۔

ایک عینی شاہد نذیر نے جو اس واقع میں زخمی ہوئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں نے بتایا کہ والی بال کا میچ جاری تھا اور گراوٴنڈ میں دو سو کے قریب افراد میچ دیکھ رہے تھے کہ ایک پچارو جیپ گراوٴنڈ میں داخل ہوئی ہے اور ایک کمرے سے ٹکرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تماشائی زیادہ تر ان کمروں کے آس پاس ہی بیٹھے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دھماکے سے کم از کم تین کمرے منہدم ہو گئے۔

ڈی پی او لکی مروت ایوب خان کے مطابق دھماکہ تھانہ لکی مرو ت کی حدود میں ہوا جو دہشت گردوں کا گڑھ ہے طالبان کے خلاف آپریشن میں عوام کی حکومت کو حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے طالبان کے پاؤں اکھڑچکے ہیں اور عوام نے انہیں علاقے سے نکالنے میں بھرپور کر دار ادا کیا طالبان اپنا نیٹ ورک ختم ہو تا دیکھ کر پہلے سے بے قابو ہوگئے اور دہشت گردانہ کارروائیاں کر کے عوام کو ڈرانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں اور یہ دھماکہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ڈی پی او لکی مروت کے مطابق علاقے میں امن کے قیام کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی اور کمیٹی کا قیام امن کیلئے بہت کوششیں کرنا تھا اور خدا کے فضل سے یہاں امن قائم ہو چکا ہے اس طرح کے واقعات سے عوام کے امن کے خوا ب چکنا چور نہی کیا جاسکتا عینی شاہدین کے مطابق خود کش حملہ آور نے بارور سے بھری کار والی بال گراؤنڈ کے قریب آکر دھماکے خیز مواد سے اڑا دی دہشت گردی کا نشانہ امن کمیٹی کے سربراہ ملک مشتاق کا گھرتھا ۔

دریں اثناء امن کمیٹی لکی مروت کے رکن مشتاق مروت نے نجی ٹی وی کو بتایاکہ حکومت سے تعاون کر نے پر یہاں کے عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے حکومت نے عوام کی حفاظت کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے انہوں نے کہاکہ امن کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت امن کمیٹی قائم کی جس کے بعد مسلسل میدان شاہ سے دھمکیاں مل رہی تھیں دھماکے کے باعث قریبی مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور مسجد میں موجود نمازی بھی زخمی ہوگئے ہیں انہوں نے بتایا کہ والی بال گراؤنڈ میں موجود تماشائیوں اور کھلاڑیوں سمیت 90 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے وقت امن کمیٹی کا اجلاس ہورہا تھا دھماکے کے بعد دھوئیں کے بادل چھاگئے انہوں نے کہاکہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ گراؤنڈ سے باہر دس مکان اور تین دکانیں بھی تباہ ہوگئی ہیں انہوں نے کہاکہ میں دھماکے سے تقریبا ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پر تھا انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ہمیں جنوبی وزیرستان سے مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل امن کمیٹی کے رضا کاروں نے طالبان کو علاقے سے بے دخل کیا تھا۔

متعلقہ عنوان :