ڈرون حملے خوست سے کنٹرول کئے جاتے تھے

ہفتہ جنوری 12:22

کابل(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔02جنوری2010ء) خوست میں خودکش حملے سے تباہ ہونے والے سی آئی اے سینٹر سے پاکستان میں ڈرون حملوں کی مانیٹرنگ کی جاتی تھی۔ امریکی اخبار کے مطابق سی آئی اے سینٹر پاکستان میں ڈرون حملوں کیلئے جاسوسی کا مرکز تھا۔ اسی جاسوسی کی بنیاد پر ٹارگٹ کا تعین کیا جاتا تھا۔ دوسری طرف پاکستانی طالبان نے سی آئی اے خوست بیس پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ خود کش حملہ آور سی آئی اے کا اہلکار تھا اور اس نے خود کش حملہ آور بننے کیلئے ان سے رابطہ کیا تھا۔

(جاری ہے)

جنوبی وزیر ستان میں غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما قاری حسین نے کہا کہ سی آئی اے پر حملہ امریکی ڈرون حملوں کا انتقام ہے۔انہوں نے کہا کہ سی آئی اے کے اس اہلکار کو طالبان کے خلاف حملے کیلئے تیار کیا تھا تاہم اس نے خود طالبان سے رابطہ کر کے کہاکہ وہ امریکہ کے خلاف خود کش حملہ کرنے کا خواہش مند ہے۔ امریکی حکام نے غیر ملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو میں اعتراف کیا کہ حملہ آورمخبر تھا اور اسے سی آئی اے کے بیس پر دعوت پر بلایا گیا تھا اسی لیے اسکی چیکنگ بھی نہیں کی گئی۔ گذشتہ روز سی آئی اے کے بیس پر حملے میں سی آئی اے بیس چیف سمیت سات اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

متعلقہ عنوان :